Global Editions

تھری ڈی سے پرنٹ ہونے والے اسنیکر، اب آپ کے پاؤں کے عین مطابق

اپنے کسٹم پاتاوے(Insoles) اٹھا کر پھینک دیں۔ اڈیڈاس(Adidas) اب ایسے جوتے بیچ رہا ہے جس کے تلوے میں جلد ہی پیشگی مخصوص شاک ابسوربر(shock absorbers) لگائے جانے والے ہیں ۔

تھری ڈی پرنٹگ کے حامی عرصہ دراز سے اس ٹیکنالوجی کو کنسیمور مصنوعات کو کسٹمائز کرنے کے لئے استعمال کرنے کے امکان کے بارے میں باتیں کررہے ہیں ۔ ایک صورت حال جس کا اکثر تذکرہ کیا جاتا ہے، وہ ایسے اسنیکر کی پرنٹنگ ہے جن کے تلوے ہر دوڑ لگانے والے کے بائیومیٹرک یا گھر پر بیٹھنے والے ہر شخص کے پاؤں کے خمیدوں کی خصوصیات کے مطابق بنائے گئے ہوں۔

آج، بے ایریا میں واقع کاربان (Carbon) نامی تھری ڈی پرنٹنگ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایسا کردکھایا ہے۔ کاربن کسرتی جوتوں کے درمیانی تلوے (مڈسول)، یعنی کے اسنیکر کے تصادم کو جذب کرنے والے دبے ہوئے حصے، کے لئے مواد اور ڈيزائن تیار کرنے کے لئے پوشاک بنانے والی کمپنی اڈیڈاس (Adidas) کے ساتھ کام کررہے ہيں۔ اڈیڈاس فیوچرکرافٹ 4D (FutureCraft 4D) جوتے فروخت کرنے والے ہیں جن کے درمیانی تلوے کاربن کی مشینوں پر پرنٹ کئے جائيں گے۔ شروع میں اس مہینے مشہوری کے لئے 300 جوڑے دستیاب ہوں گے، جن کی قیمت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ ان کا وعدہ ہے کہ اس سال آگے چل کر 5000 جوتے دکانوں میں دستیاب ہوں گے۔ اڈیڈاس 2018 تک ملینوں درمیانی تلووں کی تخلیق مکمل کرلے گا – اور کاربن کے مطابق یہ کسی بھی تھری ڈی سے پرنٹ ہونے والے مصنوعے کی اب تک سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر تخلیق ہے۔

پہلے مصنوعے کو انفرادی طور پر مخصوص نہیں بنایا جائے گا، لیکن اس پر کام جاری ہے۔ اڈیڈاس جلد ہی تقسیم شدہ تخلیق کاری کے مراکز میں کاربن کے پرنٹر کا استعمال شروع کرتے ہوئے مقامی صارفین کے لئے پیشگی مخصوص جوتے بنائيں گے۔ اڈیڈاس نے دسمبر 2015 میں جرمنی کے شہر ہرزوجینوراخ (Herzogenaurach) میں پائلٹ "اسپیڈفیکٹری" کھولی تھی، اور اس سال اٹلانٹا میں بھی کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

کیمیائی انجنئیر جوزيف ڈی سیمون (Joseph DeSimone) نے 2013 میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولی میر کو استعمال کرتے ہوئے تیزتر تھری ڈی پرنٹنگ کے لئے مواد اور طریقہ کار پر اپنی تحقیق کو تجارتی شکل دینے کے لئے کاربن کی بنیاد رکھی تھی، جس کا نام پہلے کاربن تھری ڈی (Carbon 3D) رکھا گیا تھا۔ 2008 میں لیمیلسن ایم آئی ٹی (Lemelson-MIT) کا انعام جیتنے والے ڈی سیمون نے اسٹینٹ، نینومیڈيسین اور دیگر کئی استعمالات پر کام کیا ہے، اور اس وقت وہ کمپنی کے سی ای او کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا سے، جہاں وہ پڑھاتے ہیں، چھٹی پرہیں ۔

شروع میں تخلیق کئے جانے والے جوتوں کو ایک مرکزی کارخانے میں تیار کیا جائے گا اور انہیں انفرادی طور پر مخصوص نہیں بنایا جائے گا، لیکن ڈی سیمون کہتے ہيں کہ اڈیڈاس ایک تصادم جذب کرنے والے متعدد تہوں پر مشتمل ساخت تخلیق کرنے کے لئے، جسے انجیکشن مولڈنگ کے ذریعے تیار نہیں کیا جاسکتا ہے، تھری ڈی پرنٹنگ کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے ہيں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے درمیانی تلوے بھر میں خصوصیات تبدیل کرتے رہنا ممکن ہے، اور مثال کے طور پر ایڑھی کا کڑاپن مختلف ہوسکتا ہے۔

درمیانی تلوے کی ساخت شش پہلو خانوں پر مشتمل ہے۔ ڈی سیمون کہتے ہيں، "میکانیکی انجنئیر کئی سالوں سے دنیا بھر کو ان ساختوں کی خصوصیات سے چھیڑتے رہے ہيں۔ اس طرح کی چیز کو انجیکشن مولڈ کے ذریعے تیار نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ ہر سہارنی بالکل علیحدہ ہے۔"
کیل ٹیک سے تعلق رکھنے والی مواد کی سائنس دان اور میکانیکی انجنئیر جولیا گرئیر (Julia Greer) کے مطابق، جو مواد کی خصوصیات پر مائیکرو اور نینو اسکیل کی ساخت کے اثرات کا مطالعہ کرتی ہيں (جس کام میں ہمیں کئی خوبصورت ساخت دیکھنے کو ملتی ہيں)، شش پہلو خانے تصادم جذب کرنے اور پائیداری کے لئے امید افزا ہيں۔ گرئیر وضاحت کرتی ہيں کہ جب ایسی ساخت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تو اس کی شکل صرف دباؤ ہی کی سمت میں بگڑتی ہے۔ لہذا جب آپ کی ایڑھی درمیانی تلوے پر پڑتی ہے تو اسے دباؤ کو جذب کرنے کے لئے زمین کی طرف سکڑنا چاہئیے، نہ کہ سائڈ میں پھولنا چاہئیے، جس کی وجہ سے جوتا جلدی پرانا ہوسکتا ہے۔

اس وقت ایک پاتاوا پرنٹ کرنے میں 90 منٹ لگتے ہيں؛ کاربن اڈیڈاس کے ساتھ ایسی مشینری پر کام کررہا ہے جس سے یہ وقت کم ہو کر 20 منٹ ہوجائے گا۔ کاربن کے پرنٹر پولی میر "سیاہی" کے سیال ظرف سے مسلسل پرنٹ کرنے کے لئے پیٹرن پر مشتمل لیزر کی روشنی استعمال کرتے ہيں۔ پرنٹنگ کرنے والے ظروف ٹھوس پولی میر کو چپکنے سے روکنے والی آکسیجن کی باڑھ برقرار رکھتے ہيں جس کی وجہ سے پرنٹر کو تیز کرنے والا مسلسل عمل ممکن ہے۔ مسلسل پرنٹنگ کی وجہ سے حصے ایک وقت میں ایک تہہ پرنٹ کرنے والی دوسری ٹیکنالوجیوں کے برعکس ہموار رہتے ہيں۔ ایک وقت میں ایک تہہ پرنٹ کرنے سے تہوں کے درمیان موجود انٹرفیس میں میکانیکی کمزوری بھی پیدا ہوسکتی ہے –کاربن کے طریقہ کار میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ کاربن نے اپنی توجہ پولی میر کی کیمیائی انجنئیرنگ پر بھی مرکوز کی ہے۔ اڈیڈاس کے ساتھ شراکت کے لئے کمپنی نے جوتے کے لئے درست میکانیکی خصوصیات اور رنگوں سے آراستہ پرنٹ کرنے کے قابل الاسٹومر تیار کیا ہے۔

اڈیڈاس کے ڈیزائنروں نے کاربن میں رہتے ہوئے حتمی ڈیزائن کے قریب 50 اعادوں پر کام کیا ہے۔ عمومی طور پر ڈيزائنر ایسے صرف پانچ ہی مراحل سے گزر سکتے ہيں کیونکہ ہر بار اعادے کو تخلیق اور اوزاروں کے عمل سے گزر کر ڈیزائنر کے پاس واپس آنا ہوتا ہے، جس میں کئی ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ ڈی سیمون کہتے ہیں کہ تھری ڈی پرنٹر سے مصنوعات کی تخلیق کے مقام پر مصنوعات کی ڈیزائن اور جانچ کا مطلب "پروٹوٹائپنگ کا اختتام" ہے۔

تحریر: کیتھرین بورزيک (Katherine Bourzac )

Read in English

Authors
Top