Global Editions

تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے انسانی اعضا کی تیاری۔۔۔ ایک اہم پیشرفت

تھری ڈی پرنٹنگ کے حوالے سے پھیلنے والی ضرورت سے زیادہ تشہیر اب کم ہونے لگی ہے تاہم تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی اہمیت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے اور خاص طور انسانی ٹشوز، خلیوں ویسلز کی تیاری کے لئے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے تجربات جاری ہیں۔ تحقیق کار ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ کسی طرح اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے ٹشوز تیار کئے جا سکیں جو انسانی جسم میں زندہ ٹشوز کی طرح نشوونما پا سکیں۔ اناٹومی کے لئے تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہی ہے کہ صحیح خلیہ حاصل کیا جائے اور پولیمر جیل کی مدد سے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے خلیے کا اصل سٹرکچر پرنٹ کیا جائے اور یہ خلیہ زندہ خلیوں کی طرح پرورش پا سکے۔ اگر یہ مقصد حاصل کر لیا جائے تو اس کے بعد اعضاء کی پیوند کاری کے لئے کسی ڈونر کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور لاکھوں افراد کی زندگیاں بچانا ممکن ہو سکے گا۔ اب حال ہی میں سپین کے سائنس دانوں کی جانب سے شائع کی جانیوالی ایک تحقیق میں ایسے ہارڈوئیر کی تیاری کا انکشاف کیا گیا ہے جس کی مدد سے فنکشنل انسانی جلد تیار کی جا سکے گی۔ اس ڈیوائس کی مدد سے انسانی جلد کی الگ الگ پرت تیار کی جا سکتی ہے اور ڈرمس یعنی فقاریہ جلد اور بیرونی جلد کے درمیان اتصالی بافتوں کی تہہ کے ساتھ ساتھ ایپی ڈرمس یعنی جلد کی بیرونی پرت بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ جلد کے خلیوں کی افزائش کے لئے اس جلد میں پلازما بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تحقیق کاروں کا دعوی ہے کہ حتمی نتائج پیوند کاری اور اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید پراڈکٹس کی تیاری میں بہت معاون ثابت ہونگے۔ چوہوں پر ہونے والے ابتدائی تجربات کے نتائج کے مطابق یہ طریقہ نہایت محفوظ ہے اور اس کے نتائج بھی بہت حوصلہ افزا ہیں۔ اگرچہ ابھی تک سنتھیٹک جلد کو انسانوں پر استعمال کرنے کے لئے تجربات کی اجازت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ مزید برآں کئی اور ادارے جن میں L’Oreal شامل ہیں بھی اسی طرح کی اپروچ کے تحت جلد تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ابھی تک تمام انسانی اعضا تیار نہیں کی جا سکے تاہم تجربات جاری ہیں اور ابھی تک چوہوں کے لئے خون کی شریانیں اور سنتھیٹک اووریز تیار کی جا سکی ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خلیوں کی تیاری کے لئے ایک پیچیدہ جیومیٹری درکار ہوتی ہے اور دیگر اعضا مثال کے طور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے دل کی تیاری اس سے بھی زیادہ مشکل امر ہے۔ تاہم اس میدان میں کوششیں جاری ہیں اور تحقیق کار کام جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ بنی نوع انسان کے لئے ضروری بھی ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top