Global Editions

عالمی درجہ حرا رت میں خطرناک شرح سے اضافہ

بین الاقوامی ماحولیاتی تبدیلی پر مذاکرات کاروں کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ عالمی حدت کو 2 سینٹی گریڈ یا اس سے نیچے رکھاجائے۔ اقوام متحدہ میں بین الحکومتی پینل کا کہنا ہے کہ یہ عالمی حدت کی وہ حد ہے جسے عبور کرنے کی صورت میں خوفناک تباہی آئے گی۔ اگرچہ مذاکرات کار وں نے آلودہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے ایک معاہدہ پر اتفاق کیا ہے لیکن ایک بڑا مسئلہ تو اب بھی برقرار ہے کہ ہم پہلے ہی 2 سینٹی گریڈ کی حد کا آدھا راستہ عبور کرچکے ہیں۔ گزشتہ 135 سالوں میں اکتوبر کا مہینہ گرم ترین تھا جب عالمی اوسط درجہ حرارت 1.04سینٹی گریڈ تھا۔ یہ کوئی غلط بیانی نہیں کہ 2014ء کی نسبت 2015ء گرم ترین سال تھا۔

پیرس میں ہونے والی بات چیت میں عالمی وفود نے اعتراف کیا تھا کہ دنیا کی حدت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں برف کی چادریں بڑی تیزی سے سکڑ رہی ہیں۔ بحر منجمدشمالی (Arctic Sea)کی برف ،کمپیوٹر سے لگائے گئے اندازوں سے بھی زیادہ تیزی سے پگھل رہی ہےجس سے سیارے پرپانی کا قدرتی توازن بگڑ رہا ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی میں زمینی سائنس کے نظام کے پروفیسر نوح ڈفنباغ (Noah Diffengagh)کہتے ہیں کہ جیسے جیسے ہمیں ادراک ہو رہا ہے ،ہمیں تیزی سے ہونے والی تبدیلی کا عمل نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

یہ رحجانات ظاہر کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے پینل نے عالمی حدت کیلئے جو معیار اور حد مقرر کی ہےوہ غیر یقینی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ جب 400پی پی ایم (400 Parts per Million)کی شرح سے کاربن جمع ہو جائے گی تو عالمی درجہ حرارت کتنا زیادہ ہو گا۔ (پی پی ایم مارچ میں عالمی سطح پر متعین کی گئی کاربن کی ماہانہ شرح ہے۔)اور نہ ہی ہمیں اس کا اندازہ ہے کہ 2 سینٹی گریڈ تک پہنچنے تک عالمی حدت انسانوں کیلئے کتنی تباہ کن ہو گی۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اتنے زیادہ اخراج سے کیا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2014 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عالمی حدت کو 2 سینٹی گریڈ تک رکھنے کیلئے ہم جو زیادہ سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر سکتے ہیں وہ 1.1کھرب مِیٹرک ٹن ہے۔ جبکہ 2014 ء میں پوری دنیا میں 35.9ارب مِیٹرک ٹن کاربن خارج کی لیکن یہ بھی محض ایک اندازہ ہے۔ لہٰذا ہم سائنسی غیر یقینی صورتحال میں کیسے بین الاقوامی ماحولیاتی پالیسی بنا سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرین کی رائے ہے کہ ہر شخص انفرادی طورپر خود ایک پالیسی بنائے جو خالصتاً علمی بنیادوں پر گیسوں کے اخراج میں زیادہ سے زیادہ کمی کا سادہ سا فارمولا اپنائےنہ کہ پہلے سے بنائی گئی حدود پر عمل کریں۔ جو ہو چکا ہے اس پر پچھتانے کی بجائے کیوں نہ ہم ،سائنسدانوں کی پیش گوئیوں کے مطابق جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں سوچیں۔ اس قسم کا نظام، کم از کم سوچنے کی حد تک، ماحولیاتی پیش گوئیوں میں غیر یقینی صورتحال کو پیچھے کر دے گا۔

یہ نیا نظریہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں جیوسسٹم سائنس کے پروفیسر مائلز ایلن(Myles Allen)اور آکسفورڈ میں ہی فزیکل جیوگرافی کے لیکچرار فریڈرک اوٹو(Friedrike Otto)کی سربراہی میں محققین کے گروہ میں نیچر کلائمیٹ چینج (Nature Climate Change)رسالے میں ایک تحقیق میں پیش کیا گیا۔ تحقیق کو" ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسی میں غیریقینی پن کو اپنانا"(Embracing Uncertainity in Climate Change Policy)کا نام دیا گیا ہے جس میں رائے دی گئی کہ غیریقینی پن اور سائنسی علم مل کر پالیسی کو مزید کامیابی کر طرف لے کر جاتے ہیں۔

امریکی وفاقی ریزرو بینک (Faderal Reserve Bank)کی مثال لیں، بینک معیشت پر بنائے گئے کمپیوٹر ماڈلز کو دیکھ کر اگلے 20 سالوں کیلئے مجموعی قومی آمدنی میں اضافے اور افراط زر کی پیش گوئی نہیں کرتا بلکہ وہ معاشی اشاریوں کی نگرانی کرتے ہوئے اپنی صورتحال پر نظر ثانی کرتا ہے اور حالات سے مطابقت پیدا کر کے شرح سود طے کرتا ہے۔ اس طریقہ کار سے افراط زر پر نگرانی رکھنے میں قابل ذکر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

یہ نظریہ احتیاطی تدبیر کے اصول کیخلاف ہے جس کے تحت پالیسی ساز مستقبل میں خراب صورتحال سے بچنے کیلئے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کا ماڈل ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر مارٹن ویزمین (Martin Weitzman)سمیت بہت سے معیشت دانوں نے تیار کیا جو ہمیں اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ اگر ماحولیاتی تباہی کا خطرہ تھوڑا بھی ہو پھر بھی اس کے اثرات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ان سے ہر صورت بچنا ہی چاہئے۔ اس نظریہ کا ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدانوں کو اس کیلئے بہت زیادہ وسائل مختص کرنے اور جارحانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اور بھارت جیسے غریب ممالک میں کاربن کے اخراج کو روکنے کا مطالبہ کرنا غیر حقیقی اور ان کی معیشت کیلئے نقصان دہ ہو گا۔

یہ نظام جو مارک اور اوٹو نے پیش کیا ہے اس کا براہ راست اثر ماحولیاتی حدت پر پڑتا ہے جو انسانی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ سکیم تجویز کرتی ہے کہ پوری دنیا کو عالمی سطح پر گیسوں کے اخراج میں 10 فیصد کمی کرنی چاہئے۔ کیونکہ ہر 10فیصد پر ایک ڈگری سینٹی گریڈ عالمی حدت بڑھ جاتی ہے جبکہ دنیا کا درجہ حرارت پہلے ہی ایک سینٹی گریڈ سے بڑھ چکا ہے۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ عالمی درجہ حرارت 2سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے لیکن جیسے ہی گیسوں کا اخراج نیچے آئے گا ، درجہ حرارت بھی بتدریج نیچے ہو جائے گا۔

اس نظام کے فوائد کے ساتھ کچھ نقصانات بھی ہیں۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ پالیسی بنانے والوں اور حکومتوں کو اس سے تحفظ حاصل ہوتاہے۔ عالمی حدت پیش گوئی سے کم ہو یا زیادہ ، یہ نظام خودکار طریقے سے سگنل دیتاہے۔ ان مطابقتوں کیلئے فارمولے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔ڈفن باغ کہتے ہیں کہ اگر آپ اس کا انتظار کررہے ہیں کہ سائنس آپ کو مستقبل کے یقینی نتائج فراہم کرے تو آپ انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے۔

ایلن اور اوٹو نے جس بات کا ذکر نہیں کیا وہ عالمی حدت میں اضافے کے دیگر اثرات ہیں مثلاً انہوں نے عالمی حدت سے سمندری سطح کے بلند ہونے ،موسموں کی شدت کے واقعات کا ذکر نہیں کیا۔ بڑا مسئلہ ایسے نظام کے نفاذ کا ہے۔ سیاستدانوں کو رضاکارانہ طور پر مضر گیسوں کے اخراج کو اگلے دس سالوں میں کم کرنے کے عزم کا اظہار کرنا ہو گا۔ انہیں اس نظام پر متفق ہونے کی ضرورت ہے کہ گیسوں کے اخراج میں زیادہ سے زیادہ کمی کی جائے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors
Top