Global Editions

کیا جینیٹک رسک ٹیسٹنگ واقعی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟

ذیابیطس کے خطرے کی پیمائش کے لیے سکیل پر کھڑا ہونا جینیٹک ٹیسٹنگ سے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

سیلیکون ویلی میں 23andMe نامی ڈی این اے ٹیسٹنگ کی کمپنی، جن کے مطابق ہر کسی کو اپنی جینیاتی معلومات پر مکمل حق حاصل ہے، اب امراض کے خلاف تحفظ کے لیے ایک متنازعہ حل پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

23andMe نےایک پریس ریلیز کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسی ڈی این اے کی جانچ متعارف کرنے والے ہیں جس سے لوگوں کے جینز سے ان کے ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کا تعین کرنا ممکن ہوگا۔

اس کمپنی کے لاکھوں صارفین کو ان کی صحت کے متعلق یہ معلومات جلد ہی جاری کردی جائے گی۔

یہ رپورٹ ایک جینیاتی تخمینے پر مبنی ہے، جسے پولی جینک رسک سکور کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے کسی طبی مرض کا شکار ہونے کے امکان کی پیمائش کی جاتی ہے۔ یہ تخمینہ جینوم میں موجود ڈی این اے کی معلومات کے معائنے کی مدد سے کیا جاتا ہے۔

23andMe کے مطابق اس نئے ذیابیطس کے ٹیسٹ کی رپورٹ کسی بھی شخص کے جینوم کے 1244 مقامات سے، جن میں سے تمام کا ذیابیطس کی مجموعی خطرے سے کسی نہ کسی قسم کا تعلق ہے، حاصل کردہ معلومات کا تخمینہ کرے گی۔

تقریباً 80 فیصد صارفین کو بتایا جائے گا کہ ان کے ڈی ان اے کی وجہ سے انہيں متوسط خطرہ ہے، جبکہ 20 فیصد کو بتایا جائے گا کہ انہيں ذیابیطس کا شکار ہونے کا زيادہ خطرہ ہے۔ صرف زیادہ خطرہ رکھنے والے افراد کو ہی اس مرض کا شکار ہونے کا درست امکان بتایا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس قسم کی رپورٹ متعارف کروانے سے کوئی فائدہ نہيں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پولی جینک سکورنگ سسٹمز نہ ہی درست ہیں اور نہ ہی ان کے کوئی فوائد ثابت ہوئے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے سکول آف پبلک ہیلتھ کے ایپی ڈیمیولوجسٹ پیٹر کرافٹ کہتے ہيں "یہ ایک بہت بڑا تجربہ ہے۔ اسے لاکھوں لوگوں کو متعارف تو کروایا جارہا ہے، لیکن ہمارے پاس اس کے متعلق مکمل معلومات نہيں ہے۔"

میڈیا کو نمونے کے طور پر جیمی نامی فرضی لاطینی صارف کی ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ جیمی کو پتا چلتا ہے کہ اس کی جینز میں ذیابیطس کا امکان بہت زیادہ ہے، جس کے بعد وہ 23andMe کی ایک پارٹنر کمپنی کی لارک نامی صحت کی کوچنگ کی ایپ انسٹال کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے پیجھے کچھ چمکتی دمکتی نئی سائنس ہے۔ اگر کافی افراد سے ڈیٹا حاصل کرلیا جائے تو اعداد و شمار استعمال کرنے والے ماڈلز تیار کیے جاسکتے ہيں جن کی مدد سے کسی بھی شخص کے ڈی این اے سے خصوصیات، مثال کے طور پر ذیابیطس یا چھاتی کے کینسر کا شکار ہونے، قد، یا ذہانت کی پیشگوئی کرنا ممکن ہوگی۔

پچھلے سال پولی جینک رسک اسکورز پر 216 سے زیادہ سائنسی پیپرز شائع کیے جاچکے ہيں۔

23andMe نے بتایا کہ اپنا ذیابیطس کی پیشگوئی کا ماڈل بنانے کے لیے انہوں نے 70،000 سے زیادہ صارفین کا، جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ اس مرض کا شکار ہیں، اور چند لاکھ صارفین کا جنہوں نے بتایا کہ وہ اس مرض کا شکار نہيں ہیں، ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

اس کمپنی کے لیے سکورنگ ٹیکنالوجی بہت امیدافزا ثابت ہوسکتی ہے۔ عطیے کی ایک درخواست کے مطابق 23andMe کا کہنا ہے کہ "پیمانے میں اضافے کے قابل اور درست مرض کے خطرے کا تعین" ان کی تحقیق کی کوششوں کا اگلا مرحلہ ہے۔ تاہم 23andMe نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ کیا وہ دوسرے امراض کی بھی پیشگوئی کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں۔

2013ء میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 23andMe کے کئی ٹیسٹس کی، جن میں پولی جینک پیشگوئی کرنے والے ٹیسٹس بھی شامل تھے، درستی ثابت شدہ نہيں تھی، جس کی وجہ سے لوگ غیرضروری طبی اقدام کررہے تھے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکی حکومت نے 23andMe کو کئی ٹیسٹس ختم کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

تاہم اس واقعے کے بعد سے پیشگوئی کی درستی میں کافی تک بہتری آچکی ہے اور ضوابط اب اس قدر سخت نہيں رہے۔ 23andMe کے مطابق، ان کی موجودہ ذیابیطس کی رپورٹ پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد کرنے کی ضرورت نہيں ہے، کیونکہ یہ ان کم خطرے رکھنے والے ٹیسٹس اور فون کی ایپس کے زمرے میں آتا ہے جو طبی مشاورت یا تشخیص کے بجائے صرف تجاویز پیش کرتے ہيں۔

ایف ڈی اے نے عام امراض کے لیے پولی جینک رسک سکورز کو پابندی سے مستثنیٰ کرنے کے متعلق کسی بھی قسم کا جواب نہيں دیا ہے۔

ایمری یونیورسٹی کی ماہر وبائیات سیسل جینسنز کہتی ہیں "ان سے اسی چیز کی توقع تھی۔ اس وقت یہ معلومات اس حد تک درست نہيں ہے کہ اسے دوسروں کو فراہم کیا جائے، لیکن 23andMe کے مطابق جب تک وہ اپنے صارفین کو اپنے ٹیسٹس کی خامیوں کے متعلق مطلع کرتے ہیں، کسی دوسری چیز سے کوئی فرق نہيں پڑتا۔"

کچھ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے امکان میں جینیاتی پیشگوئی سے زیادہ، عمر، غذا اور وزن جیسے عناصر کا ہاتھ ہے۔ مثال کے طور پر، ایک وزن کرنے کا آلہ 23andMe کے 199 ڈالر کے جینیاتی ٹیسٹ سے گنا زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کئی افراد موٹاپے کا، اور 9.5 فیصد افراد ذیابیطس کا شکار ہيں۔

اس کے علاوہ، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جہاں سیاہ فام افراد کی بات آتی ہے، یہ جینیاتی پیشگوئیاں ناکام ہوجاتی ہیں۔ یہ ماڈل یورپی نژاد رکھنے والے سفیدفام افراد کے ڈی این اے کی مدد سے تیار کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے دوسرے نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر اس کے نتائج کا اطلاق نہيں کیا جاسکتا۔

میساچوسیٹس جنرل ہسپتال کے اینڈوکرنولوجسٹ جیمز میگز سیاہ فام افراد کے نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں "کئی امراض کی صورت میں، ان رسک کے سکورز کا اطلاق نہيں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ کرنے والے سیاہ فام افراد کو غلط نتیجہ موصول ہوگا۔"

یہی وجہ ہے کہ پولی جینک ٹیسٹس پیش کرنے والی چند کمپنیاں صرف سفید فام افراد کی ہی ٹیسٹنگ کرتی ہیں۔ تاہم 23andMe کے ایک بیان کے مطابق سیاہ فام، لاطینی، اور ایشیاء نژاد رکھنے والے افراد ان کا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔

اپنے نتائج دیکھنے کے بعد 23andMe کے صارفین ایک انٹرایکٹو وجٹ کی مدد سے ڈیٹا کا مزید گہرائی سے تجزیہ کرسکتے ہیں۔ اس وجٹ میں ایک سو انسانی خاکے دکھائے جاتے ہیں، جو ان جیسے جینز رکھنے والے افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صارفین ایک ڈراپ ڈاؤن مینیو میں عمر، وزن، فاسٹ فوڈ کی مقدار جیسے عناصر کا انتخاب کرسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان خاکوں کا رنگ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

تاہم حقیقی زندگی میں خطرات میں کمی لانا اس قدر آسان نہيں ہے۔ میگز کے مطابق 23andMe عوام الناس میں آگاہی پھیلانے کے سلسلے میں بہت اچھا کام کررہے ہیں، لیکن ان کے خیال میں محض آگاہی سے انسانی طور طریقے تبدیل نہيں کیے جاسکتے۔

میگز کہتے ہيں "یہ صرف پیسے کمانے کا طریقہ ہے۔ ان کے کٹس تو فروخت ہوجائيں گے، لیکن عوام کی صحت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہيں آئے گی۔"

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو

Read in English

Authors
Top