Global Editions

سی این جی کے لئے گھنٹوں قطاروں میں رہنے کی ضرورت نہیں رہی

دنیا کے بیشتر ممالک میں گاڑیوں کو سی این جی پر چلانے کے رحجان کو تقویت مل رہی ہے کیونکہ یہ ماحول دوست بھی ہے اور کم خرچ بھی۔ لیکن پاکستان جیسے چند ممالک جہاں توانائی بحران موجود ہے وہاں اگرچہ گاڑیوں کو سی این جی پر چلانے کی سہولت موجود ہے مگر گیس کی عدم فراہمی کے باعث یہ اب عوام الناس کی پہنچ سے دور ہے۔ مگر اب خوش ہو جائیے اب ایک ایسی کامیاب تحقیق سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں گاڑیوں کے لئے گیس کا حصول نہایت آسان اور کم خرچ ہو گا بلکہ گاڑیوں میں گیس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جا سکے گا۔ اب گاڑیوں میں گیس بھرنے کے لئے نہ تو فلنگ سٹیشنز کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہونے کی بلکہ اب آپ اپنی گاڑیوں گھر میں ہی ری فل کر سکیں گے۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ گیس کو نئی تحقیق کی روشنی میں کچھ مصنوعی مواد کے استعمال سے گاڑیوں میں گیس کی گنجائش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

گاڑیوں میں پٹرول کے استعمال کے مقابلے میں قدرتی گیس کے استعمال میں ایک یہ قباحت سامنے آئی ہے کہ یہ معمول کے درجہ حرارت اور موسمیاتی دبائو کے تحت نہایت کم طاقت کی ہوتی ہے اس لئے گیس کو ہائی پریشر میں کمپریس کرکے سٹور کیاجاتا ہے اور اس کے لئے مہنگے فلنگ سٹیشن اور بھاری بھر کم سلنڈر درکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑی میں گنجائش کی کمی ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے کیمسٹری، کیمیکز اور بائیو مالیکیولر انجینئرنگ کے پروفیسر جیفری لانگ (Jeffery Long) اور انکے ساتھیوں نے اس مسئلے کا حل دھاتی نامیاتی طریقہ کارmetal-organic fram work تحت تلاش کیا ہے۔ جس سے گاڑیاں کم پریشر میں بھی زیادہ گیس ذخیرہ کر سکیں گی۔ سی این جی گیس کے متبادل کو اے این جی (Absorbed Natural Gas) کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت فیول ٹینک کی اندرونی سطح پر ایسا مواد لگایا جاتا ہے جس میں بےشمار سوراخ ہوں ان سوراخوں کی مدد سے ایک تکنیکی عمل کے ذریعے گیس کے مالیکیولز کو وہاں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ سی این جی سسٹم کے تحت گیس کو 200 سے 250 تک کے Atmospheres (گیس بھرنے کےلئے دبائو جاننے والی اکائی) درکار ہوتے ہیں جبکہ اے این جی ANG سسٹم کے تحت صرف 30 سے 35 تک Atmospheres درکار ہونگے یعنی لوگ اپنی گاڑیوں کو گھروں میں عام استعمال ہونے والی گیس ایک کم قیمت کمپریسر کی مدد سے خود بھی بھر سکیں گے۔ اے این جی ابھی کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں ہے تاہم یہ ٹیکنالوجی جسے امریکی محکمہ توانائی کا تعاون حاصل ہے اس کو حتمی بنیادوں پر تیار کرنے کے لئے کام جاری ہے اس ضمن میں تحقیق کار اے این جی سسٹم کے تحت گیس کے مالیکیولز کو ٹارگٹ پریشرلیول پر جذب کرانےاور اس کےساتھ ساتھ ذخیرہ شدہ گیس کا مکمل اخراج بھی یقینی بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں، کیونکہ تجربے کے دوران گیس سلنڈر سے خارج ہونے سے بچ گئ تھی۔ پروفیسر لانگ کا کہنا تھا کہ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اے این جی سسٹم کے تحت درکار مواد کے استعمال سے گیس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکتی ہے لیکن اس تکنیک کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے سے پہلے ابھی بہت کام باقی ہے۔

Mike Orcutt تحریر: مائیک اورکٹ

Read in English

Authors

*

Top