Global Editions

ا یجادات کا مرکز سلیکون ویلی

’’یوں لگتا ہے جیسے انجینئرنگ سے متعلق انسانی ذہانت اور سرمایہ موبائل فون کی ایپلی کیشنز کے گرد گھوم رہی ہے۔ لیکن اگر اسی طرح کی نئی کمپنیاں وجود میں آتی ہیں تو سوچنا ہو گا کہ کیا ہم ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ رہے ہیں؟ ‘‘

دفتر میں سیاہ اور روزووڈ فرنیچر سے ہٹ کر دوبڑ ے کمپیوٹر مانیٹر اور بدروحوں کو بھگانے کیلئے انڈونیشیا کے 3 مصنوعی نمونے بھی موجود تھے ۔ سٹیپ( Steep ) ریڈووڈ شہر سے سانتا کلارا تک پھیلے ہوئے وسیع منظر کو دیکھتاہے۔ یہ تاریخی سلیکون ویلی ہے جو ہیولٹ پیکرڈ، فیئر چائلڈ سیمی کنڈکٹر ، اِن ٹیل، نیٹ سکیپ اورگوگل جیسی بڑی کمپنیوں کی جائے پیدائش ہے۔ سلیکون ویلی ایسی اختراعات و ایجادات کا مرکز ہے جس نے جدید دنیا کی تشکیل کی ہے۔ یہیں پر پالو آلٹو کے علاقے میں سٹیپ کی کمپنی ژیروکس(xerox )کا تحقیقی مرکزاور پی اے آر سی(Palo Alto Research Centre) کا تحقیقی مرکز بھی ہے۔ جہاں پر پرسنل کمپیوٹر اور کمپیوٹر کی نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجیز پر کام ہوتاہے اور جہاں وہ سینئر نائب صدر کا دفتر ہے جوعالمی کاروباری معاملات کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔

اس کے باوجود جب سٹیپ اپنے دفتر سے جب کھڑکی کے باہردیکھتاہے تو اس کے ذہن پر مایوسی کے سائے چھانے شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بارے میں کہتا ہے کہ ’’ میں ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو خودکار انداز میں کام کرتے ہیں جیسے وہ جانتے ہوں کہ انہیں کیا کرنا ہے یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنے سر ریت میں دے دئیے ہوں۔ وہ اپنی کھڑکی سے سامنے نظر آنے والے ہیولٹ پیکرڈ اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور ٹاور کے دفاتر کی طرف دیکھتاہے۔ یہ شہر کچھ بڑا کام سوچنے اور کرنے کا عادی ہے ۔جہاں انٹی گریٹڈ سرکٹس (integrated circuit ) ، کمپیوٹرزاور انٹرنیٹ وجود میں آئے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا ہم تمام ذہانت اور تخلیقی قوت انسٹاگرام اور دیگر ایپلی کیشنز پر خرچ کردیں گے اورکیا چیزیں دنیا کو بدل رہی ہیں؟

سٹیپ نے مائیکروسوفٹ، ہیولٹ پیکرڈ اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے کے بعد 2013 ء میں پی اے آر سی میں ملازمت اختیار کرلی تاکہ وہ نئے نئے تصورات کو اپنے کاموں میں بہتر انداز میں استعمال کرسکے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے اس نے دنیا بھر میں سفر کیا اور بڑی بڑی کمپنیوں کے تحقیق وترقی ڈیپارٹمنٹ کے منتظمین سے ملاقاتیں کیں جس سے اس کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑتا جارہا ہے کہ سلیکون ویلی ایسی کمپنیوں کیلئے غیرمتعلقہ ہوتی جارہی ہے۔ لندن کے مئیر نے سمارٹ سٹی کو ترقی دینے کیلئے جن 22 منتظمین کا بورڈ بنایا ہے، سٹیپ ان میں شامل ہے۔ یہ بورڈ حکام کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے تخمینہ لگا کر ہزاروں لاکھوں پاؤنڈ مختص کرنے کی تجویز دیتا ہے مثلاً سینسرز والی نئی تیز رفتار ریل گاڑیاں، معلومات کا ذخیرہ، اور تجزیے شامل ہیں۔ سٹیپ کا کہنا ہے کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ چین اور بعض دوسرے ممالک اس منصوبے کی نقل کر رہے ہیں لیکن آنے والے سالوں میں یہ منصوبہ دنیا کے دیگر بڑے شہروں کے بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں کیلئے ایک مثال بن جائے گا۔ ‘‘ امریکی حکام ہوںیا آئی بی ایم،یا پھر سلیکون ویلی حتیٰ کہ یہاں بھی جو کوئی لندن سب وے منصوبے کے بارے میں سنتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ ناقابل یقین ہے۔

محض سٹیپ ہی واحد شخص ہیں جو پوچھتا ہے کہ آخر سلیکون ویلی اتنے زیادہ وسائل ہونے کے باوجود توانائی، میڈیسن اور مواصلات جیسے بڑے مسائل کو حل کرنے کی بجائے آسان کاموں مثلاً موبائل فون کی ایپلی کیشنز اور سوشل میڈیا پر کیوں خرچ کر رہی ہے ؟لیکن اگر آپ یہ سوال بڑے سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجسٹ کے سامنے رکھیں گے تو آپ کو معقول جواب ملے گا کہ سلیکون ویلی نے براہ راست بڑے مسائل بھی حل کئے ہیں۔ حقیقت میں سلیکون ویلی پر روائتی نقطہ نظر غالب رہا ہے کہ کن ٹیکنالوجیز کو ہم تیزی اور پوری توجہ سے سمیٹ کر بہتر کرسکتے ہیں جبکہ باقی کام دنیا پر چھوڑ دیں کہ وہ اس کا کیا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیسِ بک اور گوگل جیسی کمپنیاں وجود میں آئیں ۔ سلیکون ویلی کے بارے میں اعتماد کے ساتھ بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ اس علاقے کو عظیم مثال بنانے کا کام تیزی سے جاری و ساری ہے۔

سرمایہ کاری کا مرکز

منتظمین کاایک چھوٹا ساگروپ بیلاویٹا ریسٹورانٹ میں بیٹھا تھا جو شہر کی ،تصویروں سے سجی چھوٹی مگر مہنگی دکانوں کے درمیان واقع ہے۔ چند میل کے اندر کوئی بھی فیئر چائلڈ سیمی کنڈکٹر کمپنی کی اصل جگہ دیکھ سکتا ہے۔ یہاں پر سٹیو کا گھر اور سیلون بھی ہے جہاں نولان بشنیل ( Nolan Bushell )نے پہلی اٹاری گیم بنائی۔ اس ملاقات کا میزبان سلیکون ویلی لیڈر شپ گروپ کا سی ای او گارڈینوCarl Guardino) (تھا۔ یہ ایک صنعتی ایسوسی ایشن ہے جو ویلی کے مالی معاملات دیکھتی ہے۔ اس گروپ سے 400 تنظیمیں وابستہ ہیں جن میں زیادہ تر کمپنیاں ایسی ہیں جو موبائل ایپلی کیشنز کے وجود میں آنے سے پہلے قائم ہوئیں۔ ان میں 10 فیصد ایسی ہیں جو ایسے مسائل دیکھتی ہیں جن کا حل واضح نہیں اور جن کی کامیابی بھی غیر یقینی ہو۔ رات کے اس کھانے میں گارڈینو( Carl Guardino)نے اپنی کمپنی کے3 بورڈ ارکان کو بھی مدعو کیا تھا۔ جن میں جی پی ایس آلات بنانے والی کمپنی ٹرمبل کے سی ای او سٹیو برگلنڈ ( Steve Berglund )، شمسی توانائی آلات بنانے والی کمپنی سن پاور کے سی ای او ٹام ورنر ( Tom Werner)سلیکون ویلی بنک کے سی ای او گریگ بیکر ( Greg Becker )شامل ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو سٹیپ کی طرح مختلف حکومتوں اور دوسری کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ اس میٹنگ میں یہ بات پوچھی گئی کہ کیا ویلی میں وہ کام ہو رہے ہیں جن کی دنیا کو واقعی ضرورت ہے؟ ہر ایک نے شدت سے اس کی تردید کی البتہ سب اس سوال سے حیران ہوئے۔ بیکر نے کہا کہ یہاں موجودکاروباری برادر ی کا شمار اس سیارے پر سب سے زیادہ لچکدار اور نئے آئیڈیاز میں ڈھل جانے والوں میں ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ اختراعات کی تلاش میں رہتی ہے اور آئندہ کے اقدامات کی طرف جاتی ہے۔ اگر آپ اس بارے میں فکر مند ہیں کہ ویلی میں ایک مارکیٹ پر دوسری کو ترجیح دی جا رہی ہے تو پھر ایک لمحے کیلئے انتظار کریں اور یہ اپنی سمت بدل لے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں موجود ہیں۔

یہ ویلی سرمایہ کاری کا مرکز ہے اور یہا ں سرمایہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ کیا یہاں سوشل میڈیا اور ایپلی کیشنز کی کمپنیاں اب زیادہ ہو گئی ہیں؟ شاید۔ لیکن کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس طرح ایک طویل عرصے تک کام کرتی رہیں گی۔ ہم ہمیشہ غلطیاں درست کرنے کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں۔ ہمارے کام کی نوعیت بتاتی ہے کہ ہم کون ہیں لیکن اب ہم نئی ٹیکنالوجیز میں پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو گئے ہیں۔ تاہم یہ ویلی مستقبل میں بھی اختراعات و ایجادات کیلئے سیارے پرسب سے بہترین مقام رہے گی۔ برگلینڈ نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ نسلوں میں آنے والی تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور ایپلی کیشنز کا رحجان کم ہو جائے گا۔ نوجوان لوگ اس طرح ایپلی کیشنز کے کوڈ کا خیال نہیں رکھتے جس طرح ان کے بڑے رکھتے تھے وہ روبوٹ یا ڈرونز جیسی چیزیں بنانا چاہتے ہیں ۔ آپ میکر فیئر جا کر دیکھیں۔ وہ اس وادی کو بالکل مختلف سمت میں لے جارہے ہیں۔

برگلنڈر اپنی بات میں درست ہوسکتا ہے۔ 2014ء کے پہلے 6 ماہ میں انٹرنیٹ کا آغاز کرنیوالی کمپنیوں نے فرانسسکو اور سلیکون ویلی میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی۔ امریکہ کی کل سرمایہ کاری میں ان کمپنیوں کا حصہ آدھا تھا۔ جس میں نیویارک کا10 فیصد حصے کے ساتھ دوسرا نمبر تھا۔ لیکن اب انٹرنیٹ سیکٹر میں یہ سرمایہ کاری 59 فیصد ہوگئی ہے جبکہ 2011ء میں یہ سرمایہ کاری68 فیصد تھی۔

ڈوؤگ ہینٹن (Doug Henton) جو ایک مشاروتی فرم کولیبوریشن اکنامکس کے سربراہ ہیں اور انہوں نے ویلی کی حالت کے بارے میں تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ 1950ء سے یہ علاقہ ٹیکنالوجی کی ادوار کے تجربے سے گزرا ہے۔ ہر دور 10سے 20سال کے عرصے پر محیط ہے۔ ہر دور ایک عارضی جنون میں مبتلا رہا اور بالآخر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔ اس کے بعد آگے بڑھنے کا شعوری دور شروع ہوتا ہے۔ ہینٹن نے اپنی بات کادفاع کرتے ہوئے بتایا کہ 1950 ء سے 1960 ء تک مربوط دفاع کا دور گزرا، سرکٹس کا دور1960ء سے1970ء تک رہا۔ پرسنل کمپیوٹر کا دور1970ء سے 1980ء تک کا تھا۔جبکہ90 ء کی دہائی انٹرنیٹ کی رہی اور سوشل میڈیا کا دور 2000 ء سے 2010ء تک کا تھا۔ تاہم ان میں سوشل میڈیا کی لہر عوام کی نظر میں غالب رہی ہے۔ جلد ہی اس کی جگہ کوئی اور لہر لے گی۔ ہینٹن نے پیش گوئی کی کہ ممکنہ طور پر آئندہ کا دور سوفٹ ویئر، ہارڈ ویئر اور سینسر پر مشتمل آلات اور ان کا آپس میں تعلق پر مشتمل ہوگا۔

اختراعات و ایجادات
فلائیڈ کوامے(Floyd Kvamme) نے اپنی ملازمت کا آغاز فیئر چائلڈ سیمی کنڈکٹر کمپنی سے کیا۔ (وہ اس وقت گارڈن مور اور اینڈی گرو کے ساتھ میٹنگ میں تھا جب ایک ایگزیکٹو نے یہ خبر سنائی کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو قتل کر دیا گیا ہے) وہ نیشنل کمپنی کنڈکٹر میں مین فریم کمپیوٹر پروگرام کی سربراہی کرتا رہا ہے۔ تب اس نے کلائینر پرکنز اور بائیرز کیساتھ کامیاب مشترکہ سرمایہ کاری کی۔ وہ 2009ء میں اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی صدارتی کونسل آف ایڈوائزرز کا شریک سربراہ رہا۔
اس کے نزدیک سلیکون ویلی میں دنیا کے بڑے مسائل حل کئے جارہے ہیں۔ اسکے نزدیک یہ ایک غلط فہمی پر مبنی سوال ہے کہ سلیکون ویلی بڑے مسائل حل کررہی ہے یا نہیں کیونکہ یہ پہلے ہی بلاواسطہ طور پر یہ کام کر رہی ہے۔ کوامے کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ ویلی ہمیشہ نئی بڑی کمپنیوں کو ترجیح دیتی ہے کہ ویلی میں آج سب کچھ ہے۔ آخرکیوں ؟یہ اسلئے کہ چند سالوں میں سلی کون ویلی میں پروسیسرز کی تیاری کم ہوئی ہے جبکہ سینسر پرزیادہ توجہ دی جارہی ہے کیونکہ اب ہر شے موبائل،مربوط توانائی اور انتظام میں ہے۔

میرا نہیں خیال لوگ گزشتہ دہائی میں ظاہر ہونے والے معجزوں کو پسند کرتے ہیں۔ کونسل آف ایڈوائزر نے 2005ء میں توانائی کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی جس نے انکشاف کیا کہ امریکہ میں ہر سال توانائی کی 10000کھرب بی ٹی یو صرف ہوتی ہے۔ 2030ء تک توانائی کا استعمال 15000 کھرب بی ٹی یوہو جائے گا۔ جبکہ 2013ء میں امریکہ میں 9800 کھرب بی ٹی یو توانائی کی شرح استعمال ہوتی تھی۔ یہ کیسے پوری ہوتی ہے؟ توانائی پر قابو پانے کی کوششوں میں بہتری لانے کا عمل، سلیکون ویلی میں کارکردگی اور اس کا نفاذ ہی دراصل قابل دسترس پھل ہے جو سلیکون ویلی کی طاقت ہے۔علاوہ ازیں دنیا اس کا نوٹس نہیں لے رہی کہ یہ پروسیسرز ہر طرف بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

ٹام ہینرنے بتایاکہ ہارڈ ویئرز اور سوفٹ ویئرز کے اشتراک سے ملنے والی اس ترقی نے بہت سی نئی ٹیکنالوجیز کی راہیں کھول دی ہیں جو بہت قابل قدر ہیں خواہ وہ ویب اور موبائل ایپلی کیشنز سے کم توجہ کی حامل کیوں نہ ہوں اور وہ لاکھوں ڈالر کما رہی ہیں۔ ٹام ہینرنے ٹیکمانائٹی کانفرنس نامی کمپنی قائم کی جس کا دفتر سلیکون ویلی میں ہے اور یہ گروپ علاقائی ترقی پر توجہ دیتا ہے۔ ہینر کہتا ہے کہ باہر سے آنے والے کو جو بات الجھن میں ڈالتی ہے وہ معمولی اور چھوٹے کام ہیں۔ جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو بدلنے کے کام سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ہم یہ جان چکے ہیں کہ درست سمت میں چھوٹی سی اختراع بھی بہت پُر اثر ثابت ہوتی ہے۔ درست سمت میں رہنمائی کیلئے خودکارگاڑیوں کی مثال دیتا ہے ۔اسے یقین ہے کہ خود کار گاڑیاں شہروں کی نوعیت بدل دیں گی اور ایک نیا پلیٹ فارم ثابت ہوں گی جیسا کہ پرسنل کمپیوٹر اور سمارٹ فون ہے۔ وہ کہتا ہے کہ صرف یہ کامیابی اکیلے ہی ویلی کو ایک دوسرے سنہری دور میں لے جاتی ہے۔ اور اسی طرح کا ایک اور انقلاب ڈرونز کی ایجادہیں، اسی طرح موبائل طبی مانیٹرنگ کے آلات بشمول سمارٹ واچز ہیں اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اور زیادہ کام ہو رہا ہے۔

شراکت داری
شراکت داری میں بنی ہوئی لنکڈان ( LinkedIn ) ویب سائیٹ نے آج ہو فمین (Ried Hoffman)کو ارب پتی بنا دیا ہے۔ لیکن یہ گرے لاک کمپنی کی طرح کی پارٹنر شپ ہے جو5 سال سے چل رہی ہے۔ کسی بھی دن گرے لاک کی لابی لوگوں سے بھر جائے گی کیونکہ بہت سے نئے آغاز کرنے والے لوگ ہوفمین سے ملنے کے منتظر ہوتے ہیں۔

ہوفمین بھی سٹیپ کے تجزئیے سے اتفاق کرتا ہے کہ ویلی کے ٹیکنالوجسٹ صرف ایپلی کیشنز اور سوفٹ ویئرز کے پیچھے ہی بھاگ رہے ہیں۔ لیکن وہ اسے کافی سمجھتا ہے کیونکہ سوفٹ ویئر ز زندگی کی ہر سطح پر استعمال ہونے والی مصنوعات اور تنظیموں میں کام آتے ہیں یعنی یہ ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جس کے بہت بڑے اثرات ہوتے ہیں۔ ٹیسلا (Tesla)کی موجودگی یہاں حادثاتی طور پر نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ مصنوعات کیلئے بنیادی چیز بیٹری نہیں بلکہ سوفٹ ویئر ہے۔ سوفٹ ویئرز تعمیراتی سطح پر ایک صنعت کے بعد دوسری صنعت کو اپنے دائرہ عمل میں لارہے ہیں۔ لہٰذا بہت جلد زیادہ تر کمپنیوں کے مرکزی دفاتراس ویلی میں قائم ہوجائیں گے۔ اسی طرح جو سوفٹ ویئرز انسان کے ماحولیاتی نظام کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ بھی سلیکون ویلی میں اپنا مرکز رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر ، فیس بک ، ای بے ، ڈراپ باکس اور اسی طرح دیگر ویب سائٹس پر ایک نظر ڈالیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ سب اسی جگہ موجود ہیں۔ اسی طرح ایک کمپنی میں مدغم مختلف کمپنیاں مثلاً پنٹرسٹPinterest) (کا مرکز بھی یہیں ہے۔ زیادہ ذخیرہ معلومات بہت سی جگہوں پر پڑا ہوا ہے۔ لیکن تجزئیے کیلئے زیادہ تر معلوماتی ذخیرہ یہیں پر ملے گا۔ لہٰذا اگلی نسل کا اینڈرائیڈ اور آئی او ایس فون اب مارکیٹ میں آرہے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ یہاں پر بڑے پیمانے پر کام تو ہو رہا ہے لیکن ویلی میں کمپنیاں حالات کا مقابلہ نہیں کرتی اور بڑے مسائل دوسرے لوگوں کیلئے رہ جاتے ہیں جو وہ کہیں اور جا کر حل کرتے ہیں۔ یہ چیلنجز ویلی کی توقعات پر پورا نہیں اترتے کہ کمپنیاں کم سرمائے اور تیزی سے اپنے کام کا آغاز کریں اور جہاں انہیں بڑے پیمانے پر فائدہ حاصل ہو۔ ہوفمین کہتا ہے کہ بہت سی چیزیں یہاں ہیں جن کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں ہے اور جن کی وجہ سے ہم کمزور ہیں۔ ہم نہیں جانتے کے ڈیوپونٹ (Dupont) جیسی کمپنی کیسے بنائی جاتی ہے۔

اب صحت اور جینیاتی تحقیقات کا بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔ جب تک یہاں ان شعبوں کیلئے بہتر حالات کار فراہم نہیں کئے جاتے ، ممکن ہے کہ ان کا مرکز بوسٹن ہی رہے۔ اور اگر بہتر حالات فراہم کردئیے جائیں تب امکانی طور پر یہ کمپنیاں ادھر آجائیں گی۔

ہوفمین، سٹیپ کی سوچ بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ سلیکون ویلی کی کمپنیاں ان کاموں پر زیادہ توجہ نہیں دے رہیں جن پر باقی دنیا کام کر رہی ہے۔ اگر مجھے کوئی جادوئی چھڑی مل جائے تو میری خواہش ہوگی کہ زیادہ کاروباری لوگ زیادہ اور متنوع خطرات مول لیں۔ اور اگر ان کے نئے خیالات وادی کے ماڈل کیلئے مناسب ہیں تو انہیں ادھر ہونا چاہئے اور اگر نہیں تو انہیں کہیں اور چلے جانا چاہئے۔

( میخائل ایس میلون امریکی صحافی و مصنف ہیں اور ان کا سلیکون ویلی کی کوریج کا 25 سال سے زائد کا تجربہ ہے )

Authors
Top