Global Editions

درد کے خاتمے کےلئے ایل ای ڈی کا استعمال

دیرینہ درد کا علاج نہایت مشکل ہے کیونکہ اس کی تکلیف کی وجہ کو سمجھنا اور پھر درد کو کم کرنے کےلئے اقدامات تجویز کرنا نہایت اہم ہے اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے ذریعے دیرینہ درد کے علاج کے لئے ایل ای ڈی ٹیکنالوجی اور ریڈیو والو کو دو الیکٹروڈ سے منسلک کر کے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ تجربے میں چوہوں پر اس مختصر اور لچکدار الیکٹرانک ڈیوائس استعمال کی گئی۔ تحقیق کاروں نے اس مختصر آلے کو چوہے کے جسم میں پیوست کیا اور اس کے ذریعے جسم کے ان اعصابی مراکز سےمطلوبہ معلومات حاصل کی گئیں جو چوہے کے جسم میں درد کا باعث تھیں اور یہ ڈیوائس جسم کے اندرونی حصے میں روشن ہو جانے کی وجہ سے درد کے مرکز کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ دائمی درد کے علاج کے لئے جسم میں الیکٹرانک ڈیوائس نصب کرنے کا طریقہ نیا نہیں ہے لیکن موجودہ قباحتوں کو اس نئی تحقیق کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ جسم میں موجود آلے کے لئے انٹینا، جسم کے لئے مناسب اور مختصر آلہ، اس نئے آلے کو جسم کے اندرونی حصوں میں نہایت آسانی کے ساتھ نصب کیا جا سکتا ہے اور اس کا انٹینا جو نہایت حساس سینسر بھی ہےاس کو جسم کے ساتھ ہی نصب کیا جا سکتا ہے۔ جسم میں نصب ہو سکنے والا یہ آلہ نہایت باریک اور نرم مواد سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں ایسی مکینکل خصوصیات ہیں جس کے ذریعے یہ بائیولوجیکل ٹشوز جیسا ہی ہے۔ اسے جسم کی کسی ہڈی کے ساتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے جسم کے کسی حصے کے ٹشوز یا اعصابی مراکز کےقریب بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف سینٹ لوسیا کے پروفیسر رابرٹ گیریو (Robert Gereau) کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے درد کے علاج کے لئے پرانے طریقہ کار میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں اور یونیورسٹی آف الیلنوائے میں ہونے والے تجربے میں دکھایا ہے کہ کس طرح چوہے میں نصب کئے جانے والی مختصر الیکڑانک ڈیوائس اور اس میں لگائی جانے والی ایل ای ڈی اس وقت روشن ہو جاتی ہے جب درد کا احساس ہو اور وہ روشنی دماغ پر اس طرح اثرانداز ہوتی ہے کہ اسے رفع درد کے لئے مزید کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تحقیق بہت سے سوالات کے جوابات کے لئے مزید تحقیق کے دروازے کھول دے گی اور بہت پرانے اور پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے راہ ہموار ہو سکےگی۔

Mike Orcutt تحریر: مائیک اورکٹ

Read in English

Authors

*

Top