Global Editions

فالج کے خاتمے پر کام جاری

سائنسدانوں نے فالج کے خاتمے کے سلسلے میں کافی ترقی کرلی ہے۔

فرانسیسی نیوروسائنٹسٹ گریگوائر کورٹین (Grégoire Courtine) کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گردش کررہا تھا۔

کورٹین ایک ٹریڈمل پر بیٹھے ایک بندر پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ان کی ٹیم نے اس بندر کی سپائنل کورڈ کو کاٹ کر اس کی داہنی ٹانگ مفلوج کردی تھی۔ ب کورٹین یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ یہ بندر ایک بار پھر اپنی ٹانگیں استعمال کرنے لگ جائے گا۔ اس کے لیے انھوں نے بندر کی کھوپڑی کے نیچے اس کے موٹر کے کورٹیکس کے ساتھ ایک ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی اور اس کے سپائنل کورڈ کے گرد ایک پیڈ لگادیا جس پر لچک دار الیکٹروڈز لگائے گئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ڈيوائسز کو ایک وائرلیس کنکشن سے جوڑ دیا گیا۔

اس سسٹم نے بندر کا ٹانگ کو حرکت دینے کا ارادہ بھانپ لیا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کو برقی سگنلز بھیجنا شروع کردیے، جس کے بعد بندر کی دائيں ٹانگ حرکت کرنے لگی اور وہ لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ کورٹین، جو سویٹزرلینڈ کے École Polytechnique Fédérale de Lausanne میں ایک پروفیسر ہیں، یہ دیکھ کر اچھل پڑے۔

پچھلے چند سالوں میں کئی لیب کے جانور اور انسان دونوں ہی برین امپلانٹ کی مدد سے صرف ارادہ کر کے ہی کمپیوٹر کے کرسر یا روبوٹ کے ہاتھوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب ریسرچرز اس صلاحیت کا فائدہ اٹھا کر فالج کا خاتمہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ دماغ پڑھنے کی اس ٹیکنالوجی کو جسم پر لگے برقی سیمولیٹرز سے متصل کر کے "نیورل بائی پاس" تخلیق کررہے ہیں، تاکہ مفلوج افراد اپنے ہاتھ پیر دوبارہ استعمال کرسکیں۔

کلیولینڈ کے کیس ویسٹرن ریزرو یوینیورسٹی (Case Western Reserve University) میں ایک جسمانی طور پر معذور شخص، جن کا اپنے سر اور کندھے کے علاوہ جسم کے کسی حصے پر کنٹرول نہیں ہے، اپنے دماغ میں بندر کے دماغ میں استعمال ہونے والے امپلانٹس کی طرح کے دو ریکارڈنگ امپلانٹس لگانے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ سیلیکون سے بنائے گئے یہ امپلانٹس ایک پوسٹیج کے اسٹامپ سے بھی چھوٹے ہیں، لیکن ان میں سینکڑوں دھات کے پروبز لگے ہوئے ہیں جو نیورانز کے کمانڈز کو "سن" کر ان پر عمل کرسکتے ہیں۔

اس بائی پاس کو مکمل کرنے کے لیے رابرٹ کرش (Robert Kirsch) اور بولو اجیبوائے (Bolu Ajiboye) کی سربراہی میں کیس کی ٹیم نے اس شخص کے ہاتھ اور بازو کے پٹھوں میں 16 باریک الیکٹروڈز نصب کیے۔ اس تجربے کی ویڈیوز میں اس شخص کو اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اور مٹھی کھولتے اور بند کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ ایک کپ اٹھا کر اس میں سے ایک گھونٹ بھی لیتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ یہ سب کرنے سے قاصر تھے۔

سپائنل کورڈ خراب ہونے کی صورت میں آپ اپنے ہاتھ یا پیر کسی بھی کام کے لیے نہیں استعمال کرپاتے ہیں، لیکن کورٹین کہتے ہیں "اس سسٹم سے آپ کی زندگی کو بدلا جاسکتا ہے۔"

اس وقت کیس کے نتائج، جنھیں میڈیکل جرنل میں شائع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، امپلانٹ شدہ الیکٹرانکس کی مدد سے انسانی حسوں اور صلاحیتوں کو بحال کرنے کی صرف ایک چھوٹی سی مثال ہیں۔ سائنسدان پرامید ہیں کہ وہ فالج کے علاج کے علاوہ نیورل پراستھیٹکس استعمال کرتے ہوئے آنکھ میں نصب کردہ چپس کی مدد سے نابینا افراد کی کھوئی ہوئی بینائی اور الزائمر (Alzheimer's) کے شکار افراد کی یادداشت لوٹانے میں کامیاب ثابت ہوں گے۔

انھیں اس کے ناکام ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے۔ ایک مائکروفون کے ذریعے عصب سامعہ (auditory nerve) کو سگنلز پہنچانے والے کانوں کے امپلانٹس ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کی قوت سماعت لوٹانے میں کامیاب ثابت ہوچکے ہیں۔

تاہم فالج کے علاج کے لیے نیورل پروستھیٹکس کا استعمال کافی مشکل ثابت ہورہا ہے۔ دماغی پروب کی مدد سے کمپیوٹر کی سکرین پر کرسر کو حرکت دینے کی پہلی کوشش 1998ء میں کی گئی تھی، لیکن ان کوششوں کے بعد اب تک عملی زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کورٹین نہایت افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ بیس سال کی محنت کے باوجود بھی طبی شعبے میں اس کے فوائد نظر نہیں آئے ہیں۔ کیا یہ ٹیکنالوجی کبھی عملی شکل میں نظر آئے گی؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

کورٹین کی لیب جینیوا کی جس عمارت میں واقع ہے، اسی عمارت میں دس کروڑ ڈالر کی لاگت کا ایک سنٹر بھی موجود ہے جسے سوئیس ارب پتی ہینس یورگ ویس (Hansjörg Wyss) نے سپائنل کورڈ بائی پاس جیسی نیوروٹیکنالوجیز کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔ یہاں چمکدار کمروں میں طبی ڈیوائس بنانے والی اور گھڑی بنانے والی کمپنیوں کے ماہرین صاف ستھرے کمروں میں لچک دار الیکٹروڈز میں سنہری تاریں لگانے میں مصروف ہیں۔

اس سنٹر کے سربراہ جان ڈونوگہیو (John Donoghue) ہیں جو امریکہ میں برین امپلانٹس کا کام شروع کرنے کے بعد اب جینیوا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ اب ایک ہی چھت کے نیچے منافع بخش سسٹمز تیار کرنے کے لیے باصلاحیت نیوروسائنسدان، ٹیکنالوجسٹس اور ڈاکٹرز جیسے ماہرین کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ڈونوگہیو کی ترجیحات میں "نیوروکام" نامی انٹرنیٹ کی رفتار پر آپ کے دماغ سے ڈیٹا جمع کرنے والی الٹرا کامپیکٹ وائرلیس ڈیوائس شامل ہے۔ ڈونوگہیو نے اسے "دماغ میں نصب ریڈيو" کا نام دیا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دماغ سے رابطہ کرنے والی دنیا کی سب سے پیچیدہ ڈیوائس ہے۔ ماچس کے ڈبے کے سائز کے یہ پروٹوٹائپس بائیوکمپیٹیبل (biocompatible) ٹائٹینیم سے تیار کیے گئے ہیں، اور ان میں نیلم کی ایک چھوٹی سی ونڈو لگائی گئی ہے۔ کورٹین کے ٹیسٹس میں اس کا پرانا اور بڑا ورژن استعمال کیا گیا تھا۔

ڈونوگہیو کے مطابق نیورل بائی پاس معذور افراد میں زیادہ مقبول ثابت ہوگا، اور ان کی پیچیدگیوں کے باوجود انھیں استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں "ہر کوئی اپنے خود کے ہاتھ پیر استعمال کرنا چاہتا ہے، اور اپنی روزمرہ کی زندگی پہلے کی طرح گزارنا چاہتے ہیں۔"

تحریر: انٹونیو ریگالاڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top