Global Editions

گٹ ہب کمپیوٹر پروگرامرز کا سماجی رابطے کیلئے نیا نیٹ ورک

گٹ ہب (Git Hub)نے ایسا سوشل نیٹ ورک بنایا ہے جس میں پروگرامرز ای میل یا میٹنگ کے بغیر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ سان فرانسسکو (San Fracisco)میں قائم ہونے والی نئی کمپنی گٹ ہب میں اگلے بڑے سوشل نیٹ ورک ہونے کے تمام امکانات موجود ہیں۔ اس وقت کمپنی کے 30لاکھ 60ہزار صارفین ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے، 100ملین ڈالر سرمائے میں اضافے کے بعد اس کی قدر 750ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ گٹ ہب ،سوفٹ وئیر بنانے والوں کو اپنی ذاتی کوڈنگ پراجیکٹ کمپیوٹر لینگوئج مثلاً جاوا (Java)اورپائیتھون (Python)میں محفوظ کرنے اور انہیں شئیر کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔

گٹ ہب کے سی ای او ٹام پریسٹن وارنر(Tom Preston Warner)کا کہنا ہے کہ یہ سماجی رابطے کا  ایک نیٹ ورک ہے لیکن دوسروں سے اس طرح مختلف ہے کہ یہ قابل قدر کاموں کی تخلیق کیلئے بنایا گیاہے۔ ٹام کی یہ کمپنی "فیس بک فار گیکس" (Facebook  for  Geeks)بھی کہلاتی ہے۔ گٹ ہب سوفٹ وئیر اختراعی کام کیلئے اب ایک حب کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس پر لوگ پوری دنیا سے لاگ اپ  (Log up)ہوتے ہیں قریباً 78فیصد لوگ امریکہ سے باہر مثلاً جرمنی اور جاپان سے اپنی موبائل ایپلی کیشن اور ویب سرور سوفٹ وئیر کو ٹیسٹ کرنے کیلئے لاگ اپ  (Log up)ہوتے ہیں۔ وہارٹن سکول(Wharton School ) کے اسسٹنٹ پروفیسر ایتھن مولک(Ehthon   Mollick)کے نزدیک گٹ ہب اور کک سٹارٹر (Kick  starter)نئی قسم کی ٹیکنالوجی کا پلیٹ فارم ہے جہاں پر روائتی جغرافیائی سرحدوں کی پابندی کے بغیر اختراعات کی سہولت موجود ہے۔ ان پلیٹ فارمز کی وجہ سے کمپیوٹرز پروگرامنگ کرنے والے کا ساری دنیا میں حقیقی طور پر اثرورسوخ بڑھ گیا ہے۔

گٹ ہب سے پہلے سوفٹ وئیر کی کوڈنگ کرنے والے ذہن کیلئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا جہاں ان کی الگ پہچان اور شناخت ہو سکے۔ اب کمپنیاں اس سائٹ سے اچھے کوڈنگ کرنے والوں کو تلاش کرتی ہیں اور انہیں پراجیکٹ کیلئے ہائر کرتی ہیں۔گٹ ہب کی خدمات اور کمیونٹی ان لوگوں کیلئے غیر متعلق ہے جو سوفٹ وئیر کوڈنگ نہیں جانتے۔ پریسٹن وارنر کہتے ہیں کہ گٹ ہب کا اصل مقصد یہ ہے کہ پراجیکٹ پر کام کرنے والوں کی راہ میں حائل تمام مشکلات اور رکاوٹوں کو ختم کردیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کے دوران کسی مشکل کے حل کیلئے کسی کو ای میل کرنے اور اس کے جواب کے انتظار میں نہ رہیں۔ پریسٹ وارنر کہتےہیں کہ گٹ ہب کو انہوں نے 2008ء میں شروع کیا تھا اور اب اس پر 10000نئے یوزر روزانہ شامل ہورہے ہیں۔ گٹ ہب کا نیا فیچر کمپنیوں کو ایسا سوفٹ وئیر مستعار دینا ہے جسے وہ اندرونی کاموں کیلئے استعمال کرسکیں۔یاہو کی سی ای او میریسا مئیر(Marissa Mayer) کہتی ہیں کہ انہوں نے گٹ ہب کے ٹولز کو اپنی کمپنی کے معاملات حل کرنے کیلئے نہایت مفید پایا۔

گٹ ہب کا اہم ترین فیچر درخواست کرنا (Pull Request)ہےاس کا مطلب یہ ہے کہ سوفٹ وئیر ڈویلپر اپنی کوڈنگ اور سوفٹ وئیر کی ایپلی کیشنز سے کمپنیوں کو اسے خریدنے کیلئے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس کے ذریعے مختلف ماہرین سوفٹ وئیر کی غلطیوں کی اصلاح بھی کرتے ہیں اور مختلف تبدیلیاں بھی تجویز کرتے ہیں جس سے سوفٹ وئیر کے مالک کیلئے اس پر کام کرنا آسان ہو جاتاہے۔ گٹ ہب پر رہتے ہوئے مائوس کی ایک کلک سے مطلوبہ تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں یا اس پر بحث کی جاسکتی ہے۔ وہ لوگ جن کی درخواست کو پذیرائی نہیں ملتی وہ گٹ ہب سے ملتا جلتا پراجیکٹ اٹھا کر اس میں نئے آئیڈیاز شامل کرسکتے ہیں۔ گٹ ہب کا دفتر سان فرانسسکو میں ہے جہاں صرف 176ملازمین کام کرتے ہیں جبکہ باقی امریکہ یا بیرون ملک گھر میں بیٹھ کر، کافی شاپس میں یا کوئی کرائے کی جگہ لے کر وہاں کام کرتے ہیں۔ اس کمپنی میں صرف پریسٹن وارنر کا رسمی طور پر سی ای او کا عہدہ ہے۔

The-Internets-Innovation-Hub-Graph

گٹ ہب کی ویب سائیٹ اب بڑے پیمانے پر سوفٹ وئیر بنانے والے کے لئے ایک وسیع ذریعے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اور کمپنی سوفٹ ویئر کو اپنی خدمات پھیلانے کیلئے استعمال کرتی ہے۔ اگرچہ پریسٹ وارنر نے اپنی کمپنی کے کام کرنے کے اہداف مقرر کردیئےہیں لیکن انہیں حاصل کرنے کیلئے طریقہ کا ر طے کرنا اس کے ورک فورس کے ذمہ ہے۔ گٹ ہب کیلئے کام کرنے والوں کو عارضی بنیادوں پر رکھا جاتاہے۔یہ کمپنی کی ضرورت کے مطابق بڑھتے گھٹتے رہتے ہیں۔

کمپنیوں کیلئے اجلاس بلانا اب وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوجائے گا۔ اس کیلئے انہوں گٹ ہب کے فیچر پل ریکوئسٹ(Pull Request )کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ پریسٹن کا کہنا ہے کہ مجھے کبھی منیجر بھرتی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ پریسٹن کو امید ہے کہ اس کی فلاسفی قبولیت حاصل کرے گی اور گٹ ہب پر مزید قسم کے کاموں کو شروع کیا جاسکے گا۔بعض صحافی، اساتذہ اورحتیٰ کہ وہائٹ ہائوس کے ارکان بھی اپنی اہم دستاویزات کیلئے گٹ ہب کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

Read in English

Authors
Top