Global Editions

ٹویوٹا کمپنی خودکار گاڑیوں کی تیاری کے لئے سرگرم

معروف کار ساز ادارہ ٹویوٹا نے بھی مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کے میدان میں کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایک ارب ڈالر کی مالیت سے ٹویوٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور گل پراٹ (Gill Pratt) کو اس انسٹیٹیوٹ کا چیف ایگزیکٹو نامزد کیا ہے۔ امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اس امر کا اعلان کیا گیا، ٹویوٹا کمپنی اپنے ریسرچ انسٹیٹوٹ کی دو شاخیں ایم آئی ٹی اور سٹینفورڈ کے قریب قائم کرے گی اور اس کے لئے گل پراٹ نے کئی اہم تقرریوں کا بھی اعلان کیا، جس میں گوگل کے روبوٹیک ریسرچ کے شعبے میں فرائض انجام دینے والے معروف ریسرچر جیمز کفنر (James Kuffner) بھی شامل ہیں۔ ٹویوٹا کی ریسرچ ٹیم میں کئی طالب علم بھی شامل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ روبوٹک شعبے کے بانیوں میں شامل روڈنیو بروکس (Rodnev Brooks) کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لئے فیس بک اور نیویارک یونیورسٹی کے تحقیق کار یان لی چن (Yann leCun) بھی جلدٹویوٹا ریسرچ سینٹر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ لاس ویگاس میں ہونے والی تقریب میں اپنے کلیدی خطاب میں انسٹیٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو پراٹ نے سٹینفورڈ اور ایم ائی ٹی میں ہونے والے اپنے دو پراجیکٹس کا اعلان کیا، جو ٹویوٹا کمپنی کے خودکار ؒگاڑیوں کی تیاری کے لئے کوششوں کو کامیاب کرنے کے لئے مددگار ثابت ہونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاوشیں مصنوعی ذہانت کے قابل اعتماد اور مستند مظاہر بھی پیش کرینگی جو اس میدان میں کامیابی کے لئے رہنما میعارات اور اصول وضع کرینگی۔ سٹینفورڈ میں شروع کئے جانیوالے منصوبے کا نام ” Uncertainty on Uncertainty” رکھا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خودکار گاڑیوں کی کوئی مخصوص پروگرامنگ کئے بغیر مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کی ٹریننگ دی جائیگی تاکہ وہ حادثات سے محفوظ رہ سکیں اس کے ساتھ ساتھ یہ آموزش خودکار گاڑیوں کو مزید باعمل بنانے کے لئے مددگار ثابت ہو گی۔ پراٹ کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کو یہ سیکھانا ہو گا کہ کس طرح وہ کسی بھی صورتٓحال کو پیدا ہونے سے پہلے جانچ سکتے ہیں تاہم سب سے چیلنجگ معاملہ یہ ہے کہ ہم گاڑیوں کو یہ سب کس طرح سکھائیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملہ ذہانت کا ہے جسے اب تک گاڑیوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آشکار نہیں کیا جا سکا تاہم ہم اس کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ائی ٹی میں شروع ہونے والے منصوبے کا نام ” The Car Can Explain” رکھا گیا ہے اور اس منصوبے کے تحت ہم ایسا لائحہ عمل چاہتے ہیں جس کے تحت گاڑیاں اپنا لائحہ عمل خود منتخب کریں کیونکہ زمینی حقائق اور صورتحال کی روشنی میں خودکار گاڑیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ردعمل کے وقت کو محدود کرتے ہوئے درست لائحہ عمل تیار کریں اور خود کو جوابی ردعمل کے لئے تیار کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہو گا لیکن یہ انسانی ذہانت کا ایک

اور امتحان بھی ہے۔ پراٹ کا کہنا تھا کہ ٹویوٹا کے ریسرچ انسٹیٹوٹ کے مقاصد کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنی تحقیق کو کارسازی کے علاوہ گھریلو استعمال کے روبوٹس کی تیاری کی جانب لے کر جانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہم نئے ہارڈوئیر، سوفٹ وئیر، سامان تیار کرنا چاہتے ہیں۔ پراٹ نے اس منصوبے کو ” Mobility Inside” کا نام دیا ہے۔ اب جبکہ کئی کمپنیاں خودکار گاڑیوں کی تیاری کے لئے میدان میں آ چکی ہیں ٹویوٹا کمپنی کی جانب سے ان پراجیکٹس سے تحقیق کی نئی راہیں کھلنے اور اس میدان میں نئی ٹیکنالوجیز کے آنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top