Global Editions

نوجوان اتھلیٹس کے لئے دماغی چوٹ کے خطرات

امریکی نامور اداکار ول سمتھ نے Concussion نامی فلم میں نیوروپتھالوجسٹ کا کردار ادا کیا جس میں اس نے پٹسبرگ کے کوائف مرکز میں مائیک ویبسٹر (Mike Webster) نامی شخص کے پوسٹ مارٹم میں حیران کن انکشافات کئے۔ مائیک ویبسٹر فٹ بال کا کھلاڑی تھا جس نے پرو فٹ بال ہال آف فیم میں بھی جگہ پائی لیکن وہ پچاس سال کی عمر میں یادداشت گنوانے، ڈیپریشن اور ذہنی جبلتوں کے انحطاط کے باعث انتقال کرگیا۔ اپنی وفات کے وقت مائیک ویبسٹر بے گھر تھا۔ متذکرہ فلم جی کیو آرٹیکل (GQ Article) پر مبنی تھی جس میں ویبسٹر کے دماغی خلل اور اس کے نتیجے میں اس کے افعال و کردار میں ہونے والی تبدیلیوں کو فلمایا گیا تھا اور جس وقت ول سمتھ جس کا اس فلم میں نام بینٹ اومالو (Bennet Omalu) تھا نے اس کے دماغی ٹشوز کا جائزہ لیا تو اس نے وہاں تائو پروٹینز کی موجودگی کے آثار پائے۔ تائو پروٹین بنیادی طور پر اعصابی انحطاط سے منسلک ہوتی ہے۔ بعد ازاں اس نے ایک ریسرچ شائع کی جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ دو دہائیاں قبل کھیل کے دوران سر سے فٹ بال کو ہٹ کرنے کی وجہ سے ویبسٹر ایک بیماری جس کو اس نے CTE یعنی دائمی دماغی چوٹ (Chronic traumatic Encephaopathy) کہا جا سکتا تھا کا شکار ہوا جس کے اثرات اسے دماغی انحطاط، یادداشت کھونا وغیرہ تھے اور اس کی وجہ سے ہی اس کی موت واقع ہوئی۔ پھر اومالو اور دیگر تحقیق کاروں نے وفات پا جانیوالے فٹ بالرز کے دماغ کا جائزہ لیا اور ان میٓں بھی انہیں CTE کے اثرات ملے، جس پر قومی فٹ بال لیگ نے حسب توقع اپنے ردعمل کا اظہار کیا جس میں انہوں نے اس جائزہ رپورٹ اور اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے نتائج کو یکسر مسترد کردیا۔ خیر فلم کی بات کو مکمل ہوئی لیکن اب حقیقی دنیا میں اس جائزے کے اثرات پر بات ہو جائے۔ بوسٹن سکول آف میڈیسن کے رابرٹ سٹرن (Robert Stern) کا کہنا ہے کہ ایسی دماغی چوٹ کے مکلمل اور خطرناک اثرات کچھ عرصہ کے بعد ہی سامنے آتے ہیں تاہم یہ ایک امر واضح ہے کہ فٹ بال کے کھلاڑی جس طرح کھیل کے دوران سر سے بال کو ہٹ کرتے ہیں اس سے CTE کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اب یہ معاملہ آگے بڑھ کر بچوں تک آ گیا ہے اور اب یہ سوال اٹھایا جانے لگا ہے کہ آیا بچوں کو فٹ بال یا ایسے کھیل جس سے سر پر چوٹ لگنے یا غیر محسوس طریقے سے سر پر بار بار چاہے ہلکی ہی سہی ضربات لگیں تو اس کے بھی خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں؟ اس حوالے سے نیورو سائنٹسسٹس کا کہنا ہے کہ اگر دماغ پر متعدد مرتبہ ایسی ہلکی ضربات لگیں تو امکانات موجود ہیں کہ سی ٹی ای مرض سامنے آ جائے اور بچوں میں تو اس کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ ممکنہ طور ایسی ضربات سے بچائو کے لئے انہیں یا تو حفاظتی ہیلمٹ پہنا دئیے جائیں یا پھر کھیل کے قوانین اس طرح تبدیل کر دئیے جائیں جن کی مدد سے بچوں کی صحت کو درپیش خطرات دور ہو سکیں۔

تحریر: امنڈا شیفر (Amanda Schaffer)

Read in English

Authors

*

Top