Global Editions

خلل ہے دماغ کا

دماغی خلل (Down Syndrome)کوئی شاعری کی بات نہیں یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے ہماری آنے والی نسلوں کو بچانے کیلئے جدید تحقیق سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں تو اس پر بہت کام ہورہا ہے لیکن دنیا میں زیادہ تر مائوں کو تو علم ہی نہیں کہ یہ بھی کوئی بیماری ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں ہر سال دماغی خلل کے ساتھ پیدا ہور ہے ہیں اس سلسلے میں باربرا سٹرپ (Barbra Strupp)اپنی ٹیم کے ساتھ تحقیق کررہی ہیں وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو رسالے میں لکھتی ہیں کہ ہمیں پیدائشی دماغی خلل میں مبتلا افراد کو ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے ان کے علاج کی ضرورت ہے۔اس وقت ہمارے پاس ان مریضوں کیلئے کوئی مناسب علاج موجود نہیں ہے جو پیدائشی ذہنی بیماریوں یا خلل میں مبتلا ہیں تاکہ ان کی ذہنی معذوری کو ختم کرکے انہیں عام زندگی کی سرگرمیوں کی طرف لایا جاسکے۔ اس وقت صرف امریکہ میں 4 لاکھ افراد ذہنی خلل میں مبتلا ہیں۔ کچھ تحقیق کار ایسی ادویات پر تحقیق کررہے ہیں جو شکم مادر میں ہی ذہنی خلل کو دور کرنے کیلئے استعمال کرائی جاسکیں۔

دس سال پہلے ہم نے ادویہ سے ایسے علاج کی کوشش کی کہ ذہنی خلل میں مبتلا چوہے پر سیکھنے کی اہلیت بڑھانے کیلئے ادویات آزمائیں۔ایک ساتھی نے تجویز دی کہ ہمیں حمل اور دودھ پلانے کے دوران ماں کی خوراک میں وٹامن بی کمپلیکس پر مشتمل طاقتور عنصر کولین (Choline)اضافہ کیا جائے کیونکہ دیکھا گیا تھا کہ عام چوہوں میں کولین کے اضافے سے سیکھنے کے عمل میں اضافہ ہوا تھا۔ میں تو زیادہ پر امید نہیں تھی لیکن میں نے کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اس حوالے سے خوراک میں تبدیلی ذہن کو اپنی طرف کھینچتی ہےکیونکہ اسے نہ صرف انسانوں میں با آسانی جانچا جا سکتا ہے بلکہ نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

چوہے کی ماں کی خوراک میں اضافی کولین ملانے سے ہمیں پتہ چلا کہ اس سے حمل اور دودھ پلانے کے دوران چوہے کے بچے ادراک، توجہ اور جذباتی ردعمل میں بہتری آئی ہے اور اس کے ذہنی خلل میں مثبت فرق پڑا ہے۔ اس کے علاوہ کولین استعمال کرنے سے ذہنی خلل میں مبتلا چوہوں کے دماغی خلیوں کو ، جن سے الزیمر کی بیماری لاحق ہوتی ہے، میں بہتری آئی۔

ان نتائج کی وضاحتاس طرح کی جاسکتی ہے کہ کئی دہائیوں سے کولین دوران حمل انسانوں اور جانوروں دونوں میں مفید رہی ہے۔ شکم مادر میں پلنے والے بچے کو کولین کی عام شرح سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ تجربہ گاہوں میں ابھی یہ تصدیق کرنا باقی ہے کہ کولین کے انسانوں پر بھی وہی اثرات ہوتے ہیں جو جانوروں پر ہوتے ہیں۔ رپورٹس تو یہی بتاتی ہیں کہ جس بچے کی ماں نے دوران حمل کولین کو اپنی خوراک میں شامل نہیں کیا اس کے بچے ذہنی خلل میں مبتلا ہوگئے۔ دوران حمل یا دودھ پلانے والی مائیں اگر کولین کی اضافی مقدار لیتی رہیں تو ان کے بچے ذہنی خلل کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے۔

آج وہ عورتیں جنہیں علم ہو کہ ان کے ہونے والے بچے میں ذہنی خلل کی بیماری کا امکان ہے انہیں ڈاکٹر حمل گرانے کی تجویز دیتے ہیں۔ لیکن بہت سی وجوہات کے سبب، اخلاقی ہوں یا دیگر وجوہات ، زیادہ تر خواتین اس تجویز پر عمل کرنا پسند نہیں کرتیں۔ ہر سال 5ہزار بچے ذہنی خلل کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بات اہم ہے کہ ایسے بچوں کو بھرپور زندگی جینے کا موقع دینے کیلئے تحقیقی کام کریں۔

تحریر: باربرا سٹرپ Barbara Strupp (باربرا سٹرپ کورنل یونیورسٹی میں سائیکولوجی شعبے غذائی سائنس کے ذریعے علاج کے ڈویژن میں پروفیسر ہیں۔)

Read in English

Authors

*

Top