Global Editions

افراد دنیا کے ساڑھے تین ارب افراد سے زیادہ امیر 62

دنیا کے ساڑھے تین ارب غریب ترین افراد سے زائد سرمایہ صرف 62 امیر ترین افراد کے زیر تصرف ہے جو دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کا غماز ہے۔ اس امر کا انکشاف اکسفیم (Oxfam) کے جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کا اگر اس پہلو سے جائزہ لیا جائے کہ امیر ترین افراد جو مجموعی آبادی کا ایک فیصد کے لگ بھگ ہے دنیا کی آبادی کے ننانوے فیصد سے زیادہ امیر ہے تو یہ نہایت تشویشناک پہلو ہے۔ حالیہ ایام میں ڈیوس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں عالمی رہنمائوں کے سامنے یہ سوال بھی موجود تھا کہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی عالمی معیشت کے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے؟ ایسے تمام افراد جو ہائی ٹیک کمپنیوں میں کام کرتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ مختلف میدانوں میں ان کی کارکردگی دنیا کے روزمرہ معمولات میں بہتری لا رہی ہے تاہم اس دلیل سے متفق ہونا نہایت مشکل ہے۔ حقیقت اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے اور یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ ٹیکنالوجی کا فروغ بھی کئی طرح کی عدم مساوات کا سبب ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ کی عام مثال دی جا سکتی ہے، سلیکون ویلی میں کام کرنے والے کارکن زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کنندگان میں شامل ہونے کے باعث جدید دور کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں انٹرنیٹ کا عام صارف دستیاب وسائل سے ہی استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ جدید ٹیکنالوجیز مثلاً روبوٹ ٹیکنالوجی کو فروغ ملنے سے مزدور طبقہ کس قدر متاثر ہوگا؟ دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے محنت کش طبقہ پر ہونے والے ممکنہ اثرات ایسے حساس موضوعات ہیں جن کی سنگینی سے نہ مراعات یافتہ طبقہ آگاہ ہے اور نہ ہی شائد وہ ان کا عملی حل تلاش کرنے کی جستجو میں مصروف نظر آ رہا ہے۔ڈیوس میں عالمی رہنمائوں کی سالانہ کانفرنس میں شریک رہنما جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ممکنہ بیروزگاری اور دولت کی مزید غیر منصفانہ تقسیم کے اثرات سے آگاہ ہوتے تو ان سوالات کو یقینناً زیر بحث لاتے۔ شائد ابھی ان کے لئے ان سوالات پر غور کرنے کا وقت نہیں آیا۔

تحریر: میچل ریلے (Michael Reilly)

Read in English

Authors

*

Top