Global Editions

سائبر سکیورٹی کے باوجود ہیکرز حملےجاری

نومبر 2014ء میں خاموشی کے ساتھ کئے گئے سائبر حملوں نے کارپوریٹ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہیکرز کے ہاتھ جو کچھ لگا انہوں نے سمیٹ لیا۔ بڑے سٹورز سے کریڈٹ کارڈ نمبرز چوری کئے گئے، ہیکرز نے حساس کاروباری رپورٹس سے لے کر سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ کی خفیہ سروسز کو بے نقاب کر دیا۔ اہم شخصیات کی ای میلز، عام صارفین کا ہیلتھ ڈیٹا حتیٰ کہ ریلیز سے قبل فلموں کو بھی ویب سائٹس پر ڈال کر عام کر دیا۔ حملہ آوروں نے امریکی حکام کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کی یہ کارروائی شمالی کوریا کے حکمران طبقے کے ایماء پر تھی جو ایک مزاحیہ فلم پر اظہار ناراضگی کر رہے تھے۔ اس مزکورہ مزاحیہ فلم میں ایک ٹی وی پروڈیوسر کو پیش کیا گیا جو شمالی کوریا کے ڈ؎کٹیٹر کو قتل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ ان تمام اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال کس حد تک گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، ہیکنگ کا یہ سلسلہ کئی مہینے جاری رہا۔ کمپنی کی حساس معلومات کی سیکورٹی کے لئے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے تھے اور اس ضمن میں بنیادی حفاظتی ٹیکنالوجیزبھی ناکام ثابت ہو رہی تھیں کیونکہ جب بھی کمپنی کا کوئی بھی ملازم کسی لنک پر کلک کرتا تو نقصان پہنچانے والے سافٹ وئیر متحرک ہو جاتے۔ اس سے ثٓابت ہوتا ہے کہ سائبر حملوں سے بچائو کےلئے موجودہ دور میں استعمال کی جانیوالی ٹیکنالوجیز اتنی موثر نہیں ہیں جتنا کہ انہیں ہونا چاہیے۔ موجودہ دور میں ہیکرز مزید جارحانہ انداز اختیار کرتے جا رہے ہیں اور جیسے ہی یہ ہیکرز کسی بھی ادارے کی سائبر سیکورٹی میں رخنہ اندازی کرتے ہیں تو اس کے بعد ان پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سونی کمپنی پر ہونے والے ہیکنگ حملہ موجودہ دور میں ہونے والی بڑی ہیکنگ کاروائیوں میں سے ایک ہے اس حملےکے دوران تقریباً 10 ملین ریکارڈز تلف ہوئے اتنی بڑی کارروائی نے سائبر سیکورٹی کی موجودہ صورتحال کی قلعی کھول دی ہے اور اس کی کمزوریاں سب پر عیاں کر دی ہیں جو عالمی معیشت کے لئے بھی نہایت خطرناک ہے۔ 2015ء میں امریکی پرسنل مینجمنٹ کے ادارے کو ہیک کیا گیا جس کے نتیجے میں 21.5 ملین شہریوں کے ریکارڈ افشا ہو گئے ان ریکارڈز میں شہریوں کی ذاتی معلومات بھی شامل تھیں، 56لاکھ شہریوں کے انگلیوں کے نشانات بھی ہیکرز نے حاصل کر لئے۔ بعد ازاں ایشلے میڈاس نامی ڈینٹنگ ویب سائٹ نے انکشاف کیا کہ ان کے 37 ملین صارفین کی ای میلز اور اہم معلومات افشا ہو گئی ہیں۔ وال سٹریٹ کے 83 ملین صارفین کا ڈیٹا اسرائیلی ہیکرز کے ہاتھ لگ گیا۔ اسرائیلی ہیکرز سٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں ردوبدل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سے اس حقیقت کو بھی اشکار کر دیا ہے کہ سائبر حملوں سے اب بڑے کاروباری ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔ غیر محفوظ نیٹ ورک اور ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی وجہ سے کمپنیاں اور دیگر ادارے اس قسم کے حملے نہیں روک سکتے۔ اب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہیکرز کے حملے روکنے کے لئے مستقبل میں سمارٹ ٹیکنالوجیز کو کس طرح اپنایا جا سکتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ نئے طریقے سوچے جائیں اور ایسے راستے تلاش کئے جائیں جن کی مدد سے سائبر سیکورٹی کو برقرار رکھا جا سکے۔ کچھ ادارے ماضی کی صورتحال دیکھ کر پہلے سے خود کو بہتر کر رہے ہیں۔ اب کسی بھی حملے کی صورت میں فوری ردعمل دکھایا جاتا ہے، ایسے پلیٹ فارم استعمال کئے جاتے ہیں جس سے سیکورٹی سٹاف فوری طور پر الرٹ ہو جائے۔ اب نئے ٹولز بھی استعمال ہو رہے ہیں جس سائبر سیکورٹی پہلے سے کافی بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس عمل میں بعض اندیشے بھی سامنے آ رہے ہیں کیونکہ لاکھوں صارفیں ایسی ڈیوائسز اور میسجنگ سسٹم استعمال کر رہے ہیں جن پر سائبر سیکورٹی کے حوالےسے حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں۔ اس ضمن میں تقریباً تین برس قبل امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن نے انکشاف کیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں مختلف کمپنیوں کو ڈیٹا محفوظ رکھنے کی مفت خدمات پیش کر رہی تھیں۔ یہ کمپنیاں صارفین کا ڈیٹا خفیہ رکھتی ہیں تاہم بہت سے ایسے صارفین بھی ہوتے ہیں جو تھرڈ پارٹی ایپ استعمال نہیں کرتے جس کی وجہ سے انکا ڈیٹا محفوظ نہیں رہتا۔ یہ تمام پیمانے آج کے غیر محفوظ نیٹ ورکس سے ڈیٹا محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاہم یہ بھی واضح رہے کہ کوئی بھی نیٹ ورک اس وقت تک ڈیٹا محفوظ نہیں کر سکتا جب تک صارف خود بھی اسے محفوظ نہ بنائے۔اب نئی سائبر سیکورٹی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے سافٹ وئیر استعمال کئے جائیں جو تصدیق شدہ ہوں۔ سمارٹ فون، کمپیوٹر اور ٹیبلٹ کے علاوہ انٹر نیٹ سے ساتھ منسلک بہت سی ڈیوائسز آئندہ پانچ برس تک دو ارب لوگوں تک رسائی حاصل کر لیں گی۔ 2016ءکےآخر تک یہ ملٹی ٹریلین ڈالر مالیت کی صنعت ہو گی۔ تمام ڈیوائسز کو اس حد تک محفوظ بنایا جائیگا کہ دیگر کمپنیاں سونی کمپنی طرز کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔

تحریر: ڈیوڈ ٹالبوٹ (David Talbot)

Read in English

Authors
Top