Global Editions

ہیکرز کے حملے: سائبر انشورنس میں اضافہ

کسی بھی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ڈیوائس یا چیز کی سیکورٹی ایک مشکل کام ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کوئی بھی کاروباری نقصان یا ذاتی نقصان ہو سکتا ہے۔ سافٹ وئیر سیکورٹی کے ماہر جوش کورمین (Jossh Corman) کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں کسی بھی کاروبار کے لئے انٹرنیٹ سے منسلک ہونا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ میڈیکل، گاڑیوں اور دیگر کاروبار سے منسلک افراد انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان شعبوں کے تحفظ کے لئے آنے والے دنوں میں انشورنس انڈسٹری قائم ہونے کا امکان ہے۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف لاء کے لیکچرار پال روزنزویگ (Paul Rosenzweig) کے مطابق اب بھی کئی گروپ انٹرنیٹ پر سائبر سیکورٹی کے لئے کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں گے جس ڈیٹا محفوظ بنایا جا سکے۔ اب بھی ایسے لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے جن کا ڈیٹا کسی وجہ سے خراب ہو چکا ہو۔ اگلی جنریشن کے لئے ڈیوائسز بنانے اور سروس فراہم کرنے والے ادارے بھی چاہتے ہیں کہ انہیں نقصان دہ سافٹ وئیرز سے نجات مل جائے اور وہ ہیکرز کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ کورمین کے مطابق انٹرنیٹ یا کسی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک سسٹم عام طور پر ایسے سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں جس سے سیکورٹی کا خلاء پیدا ہو جاتا ہے۔ اپنی مرضی کے مطابق تیارکردہ سافٹ وئیر بھی بعض اوقات مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ٹیسلا (Tesla) کمپنی نے گزشتہ موسم گرما میں ایک خودکار نظام رائج کیا تھا تاکہ کسی بھی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔ تاہم ہیکرز نے آن بورڈ جیپ کے کمپیوٹر کے ذریعے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری کر کے معاشی طور پر نقصان کیا جاتا ہے اسی طرح اگر کسی گاڑی پر ہیکرز کا کنٹرول ہو جائے تو حادثے کی صورت میں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔اب جبکہ انٹرنیٹ ،مینوفیکچررز، ہیلتھ کئیر، اور دیگر سروسز میں کاروبار کا مرکز بن چکا ہے ایسے میں ضروری ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جائے۔ ریاستی قانون سازوں کے ایک گروپ کے رکن اور نیشنل ایسوسی ایشن آف انشورنس کمشنرز کے ڈائریکٹر ایرک نارڈمین (Erik Nordman) کا کہنا ہے کہ کئی سال کے دوران سائبر انشورنس کو بہت محدود تعداد میں فروخت کیا گیا ہے کیونکہ مارکیٹ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ اب تمام انشورنس گروپ صارفین کی ذاتی معلومات کی بھی بھرپور طریقے سےحفاظت کرتے ہیں۔ ریاستی قوانین بھی ان مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں اس لئے ان معلومات کے افشا ہونے پر نہ صرف جرمانے کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ بھاری قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔ دوسری جانب روزینویگ کا کہنا ہے کہ ان کو انشورڈ کرنا اتنا بھی آسان نہیںہے۔

تحریر: ٹم مولانے (Tim Mullaney)

Read in English

Authors
Top