Global Editions

ہسپتال پر سائیبر حملہ: تاوان کی ادائیگی کے بعد کمپیوٹر سسٹم بحال

امریکی ریاست لاس اینجلس کے ایک ہسپتال نے اپنے کمپیوٹر سسٹم کو رینسم ویئر کی مدد سے بند کر دیے جانے کے بعد ہیکروں کو 17000 ڈالر تاوان کے طور پر ادا کیے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں ہیکروں نے کسی مرکز صحت کو نشانہ بناتے ہوئے ہسپتال کے نظام کو غیر فعال کر دیا اور تاوان وصول کرنے کے بعد نظام کو بحال کیا۔ تاہم اس واقعے کے بعد سائبر حملوں کے حوالے سے دستیاب حفاظتی نظام کی کارکردگی پر سوالات نے جنم لیا ہے۔ اس واقعے میں ہیکرز نے نیٹ ورک کو متاثر کیا، ڈیٹا کو خفیہ رکھنے کے نظام کو ناکارہ بناتے ہوئے تاوان کا مطالبہ کیا۔ ہالی وڈ کےپریسبائٹیرین(Presbyterian) میڈیکل سینٹر کا نظام کم سے کم ایک ہفتے تک متاثر رہا، جس کے نتیجے میں ہسپتال کے عملے کو تمام تر کارروائیاں کاغذوں پر کرنا پڑیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس امر کے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے معلوم ہو سکے کہ ہسپتال میں زیر علاج افراد کی ذاتی معلومات کو چرایا گیا ہو۔ لیکن اس حملے سے واضح ہو گیا ہے کہ سائبر حملے کرنے والے کس حد تک جدید ٹیکنالوجی اور آلات کا استعمال کرتے ہوئےجدید طبی آلات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رینسم وئیر ایک ایسا مضر سافٹ ویئر ہے جس کی مدد سے متاثرہ کمپیوٹر لاک ہو جاتا ہے اور اس تک واپس رسائی کے لیے تاوان ادا کرنا پڑا ہے۔ ہسپتالوں میں چونکہ سائبر سیکورٹی کے حوالے انتظٓامات اتنے جامع نہیں ہوتے اور اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر بھی اپ ڈیٹ نہیں رکھے جاتے اس وجہ سے انہیں نشانہ بنانا اور شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس حملے سے واضح ہو گیا ہے کہ سائبر سیکورٹی کے حوالے کئی چیلنجز درپیش ہیں جن سے عہدہ برا ہونے کے لئے مزید حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top