Global Editions

ہالو لینز۔۔۔۔۔ ورچوئل رئیالٹی کو نئی جہت مل گئی

لوگ ایک ساتھ ویڈیو گیمز کھیلنا پسند کرتے ہیں چاہے وہ ایک کمرے میں ہوں یا الگ الگ مقامات پر۔ میں نے حال ہی میں ایک ایسا مظاہرہ دیکھا ہے جس کے بعد یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جلد ہی ہم اضافی AUGMENTED رئیالٹی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک ساتھ مختلف ویڈیو گیمز کھیل سکیں گے۔ جسے ورچوئل رئیالٹی کا کزن قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے تحت ڈیجیٹل تصویر کشی کے مظاہر حقیقی دنیا پر غالب آ جائیں گے۔ آپ اس سے ایک آرام دہ ہیڈ سیٹ کی مدد سے لطف اندوز ہو سکیں گے اور اسے پہن کر آپ کو ایسا محسوس ہو گا کہ جو کچھ آپ ڈیجیٹل تصاویر کی مدد سے دیکھ رہے ہیں ان مناظر میں صرف آپ ہیں لیکن گزشتہ ہفتے میں نے سان فرانسسکو میں مائیکروسافٹ کی جانب سے منعقد کی جانے والی ڈویلپر کانفرنس میں شرکت کی جہاں میں نےدیکھا کہ ایک بہت بڑے ہال میں کئی افراد 3000 ڈالرز مالیت کا ہالولینز (Hololens) ہیڈ سیٹ پہنے ہوئے وائرلیس نیٹ ورک کی مدد سے ایک ساتھ نہ صرف گیم کھیل کر رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے بھی اس مظاہرے میں ایک نیلے رنگ کا ہیڈ سیٹ پہن کر شرکت کی۔ (گیم شروع کرنے سے پہلے آپ کو چار چھوٹے اواٹارز میں سے ایک کو منتخب کرنا ہوتا ہے اواٹار ورچوئل رئیالٹی میں کسی صارف کی گرافیکل نمائندگی کو کہا جاتا ہے) ہیڈسیٹ پہننے اور اواٹار کے انتخاب کےبعد کھیل شروع ہو جاتا ہے اور پھر ایک دلچسپ تجربہ کا آغاز بھی ہو جاتا ہے میں جس جانب سر گھماتا ہوں میرا آبجیکٹ اسی جانب گھوم جاتا ہے۔ پھر ہم دوسرے اواٹارز کو نشانہ بنانے کے لئے انہیں یکسوئی سے تاکنا شروع کر دیتے ہیں اورا نہیں نشانہ بنانے کے لئے ہوا ہی میں انگلی کو اوپر یا نیچے کی سمت میں حرکت دیتے ہیں مائیکروسافٹ اس عمل کو Air Tap کا نام دیتا ہے اس کے ساتھ ہی سلور بال اواٹار پر پھینکی جاتی ہے اور اگر بال آپ کے اواٹار کو لگ جاتی ہے تو نظروں کے سامنے ستارے گھومتے نظر آ جاتے ہیں، میں بتا نہیں سکتا کہ یہ کتنا دلچسپ تجربہ تھا۔ اس ہیڈ سیٹ کی تیاری کے لئے ہالولینز کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہالو لینز ابھی صرف سافٹ وئیر ڈویلپرز کے لئے دستیاب ہے اور اسے صارفین کے لئے عام نہیں کیا گیا۔ ہیڈ سیٹ بھی ابھی کافی وزنی ہے اس کا وزن لگ بھگ 1.3 پائونڈ ہے جس میں بیٹری اور سپیکرز کا وزن بھی شامل ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجیز کا ماضی میں سوچا بھی نہیں گیا تھا لیکن ٹیکنالوجی میں ترقی نے سب کچھ بدل دیا اب انتظار ہے تو صرف اس بات کا کہ کب تک ڈویلپرز اس ٹیکنالوجی کو مکمل کر کے عوام کے لئے پیش کرتے ہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ وقت جلد از جلد آئے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors

*

Top