Global Editions

بھارت میں کوئلے کی توانائی سے ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک اضافہ

بھارت میں کوئلے سے توانائی کی پیداوار میں اضافے کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اس عمل میں خارج ہونے والی گیسیں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بھارت نے فوری اقدامات نہ ا ٹھائے تو ماحولیاتی آلودگی اگلی دو دہائیوں میں آسمان کو چھو جائے گی۔رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی گیسوں کے اخراج میں اس وقت بھارت کا حصہ 6 فیصدہے اگرچہ بھارت ابھی اس حوالے سے چین، امریکہ اور یورپی یونین کی سطح پر نہیں آیا لیکن اگلی دو دہائیوں میں یہ صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔ اس وقت بھارت کابجلی کی پیداوار میں کوئلے سے حاصل کردہ توانائی کا حصہ تین چوتھائی ہے اور بھارت بڑی شدت سے چاہتاہے کہ وہ کوئلہ کی توانائی پر انحصار سے نجات حاصل کرلے لیکن یہ اگلی دو دہائیوں تک تو ممکن نظر نہیں آتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے اور بھارت کی ایک ارب 24 کروڑ کی آبادی میں اگلے 30 سالوں میں 40 کروڑ کا اضافہ ہو جائے گا اسی شرح سے اس کی توانائی کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔ لہٰذا اسے اگلی دو دہائیوں میں اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے سالانہ 15 سے 20 گیگا واٹ بجلی کی ضرورت ہو گی۔ اس مقصد کیلئے وہ توانائی کے تمام ذرائع استعمال کررہا ہے۔ جن میں کوئلہ، نیوکلیائی توانائی، پن بجلی، قابل تجدید توانائی سمیت دیگر ذرائع شامل ہیں۔بھارت میں کس شرح سے توانائی استعمال ہورہی ہے اس کا جائزہ بھی لینا ضروری ہے۔ بھارت میں نیوکلیائی توانائی مجموعی پیداوارکا صرف 3.4 فیصد پیدا ہورہی ہے اور اسے اگلی دو دہائیوں میں 5 فیصد تک لے جانے کیلئے بڑے شدید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ پن بجلی سے بھارت کی 17 فیصد توانائی کی ضرورت پوری ہوتی ہے،پن بجلی کی پیداوار 2030 ء تک 25 فیصد تک ہوجائے گی۔ جبکہ قابل تجدید توانائی کا حصہ 6فیصد ہے جو 15 سالوں میں تین گنا ہو جائے گا۔اگر بھارت اپنے یہ اہداف حاصل بھی کرلیتا ہے تب بھی کوئلہ اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے گا اور اس سے ماحولیاتی اورسماجی چیلنجز کا سامنا رہیگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرنے والی کانوں میں کھدائی، ٹرانسپورٹیشن اور تیل کا استعمال کم کردے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح ہوگا؟ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کاربن کے پھیلاؤ کو محدود اور اثاثوں کو محفوظ کیا جائے۔ لیکن سب سے محفوظ اور حقیقی طریقہ کوئلے کی کانوں میں ہی پلانٹ لگا کر اسے گیس میں تبدیل کرنا ہے۔ بھارت کو جرمنی سے سبق سیکھنا چاہئے جو شمسی توانائی میں سب سے آگے ہے، بھارت سے کہیں چھوٹا ملک جرمنی اس سے 12 گنا زیادہ شمسی توانائی پیدا کررہاہے۔ بھارت کو اس وقت تحقیق اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی ضرورت ہے اور یہ بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

تحریر : جے رام رمیش (یہ مضمون بھارت کے سابق وزیرجے رام رمیش برائے توانائی و ماحول نے لکھاہے۔ انہوں نے ایک کتاب بھارت میں ماحولیات، افزائش اور جمہوریت لکھی ہے)

تحریر: Jairam Ramesh

عکاسی: Andy Friedman

Read in English

Authors
Top