Global Editions

گرم نہ ہونے والے پرزے بھی تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار ہونگے

روایتی طریقوں کے برعکس آج کے دور میں ایسا مواد تیار کیا جا رہا ہے جس کی مدد سے تھری ڈی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے سستے، موثر اور کم وقت کے اندر ضرورت کے پرزے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ تھری ڈی پرنٹر کے لئے دستیاب مواد کے ساتھ ساتھ اب ریشوں کی مدد سے بھی ضرورت کا سامان جیسے پرزے وغیرہ حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس جہت میں نئے مواد سرامکس (غیر نامیاتی مادوں کے پگھلائو سے مصنوعات بنانا، ان مادوں میں سلیکیٹس، ایلیومینٹس اور بہت زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے والے اکسائیڈز، میٹل نائیٹرائیٹس وغیرہ شامل ہیں) کا بھی استعمال کیا جانے لگا ہے اور اب اس کی مدد سے ایسے پرزے بنائے جا رہے ہیں جو نہ صرف گرم ہونے سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ زیادہ دیرپا اور محفوظ ہیں۔ سرامکس مواد سے بنی اشیاء اور پرزے نہ صرف فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں بلکہ فضائی سفر سے متعلق صنعت کے لئے بھی ان کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ان میں جہازوں کو باہر سے پینٹ کرنے کے ساتھ ساتھ راکٹ سازی کے لئے استعمال ہونے والے پرزے بھی شامل ہیں۔ مٹئیریل سائنس سے وابستہ اس شعبدے کے لئے ایچ آر ایل (HRL) کے تحقیق کاروں اور انجینئروں کا ہی شکر گزار ہونا چاہیے۔جنہوں نے سرامکس پارٹس بنانے کے لئے تھری ڈی پرنٹر کو استعمال کرنے کا اچھوتا خیال اخذ کیا۔ اس ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ سرامکس کو پائیدار پرزوں کے طور پر استعمال کرنا تھا خاص طور پر اس کو پرزوں کی شکل میں ڈھالنا مشکل تھا۔ یہ مواد اس رعایتی مواد کے بالکل برعکس تھا جس میں کسی بھی دھات کو پگھلا کر اسے اپنی مرضی کی شکل دے دی جاتی تھی۔ یہ طریقہ کار زیادہ مفید ثابت نہیں ہو رہا تھا اور اس کے باعث نقصان کا زیادہ اندیشہ تھا۔ ایچ آر ایل کے تحقیق کاروں نے اس کے لئے ایسا پرنٹ ایبل مواد تیار کرنا چاہتے تھے جو ریشوں کو اس طرح ڈھال سکے جو حدت سے محفوظ رہنے والے سرامکس بنا سکے۔ تحقیق کاروں نے اس تکنیک کو سٹریو لیتھوگرافی (Stereo litho graphy) کا نام دیا گیا ہے اس کے لئے ایک لیزر بیم تیار کی گئی ہے اور پائوڈر کے بجائے ریشوں کی سیال شکل کو استعمال کیا گیا ہے۔ تحقیق کاروں نے ایک مخصوص تکنیک کے ذریعے الٹراوالٹ شعاعوں کو استعمال کیا اور تھری ڈی سٹرکچر تشکیل دیا گیا اور روایتی طریقوں کے برعکس ہزار گنا بہتر نتائج برآمد کئے گئے۔ پرنٹنگ کے بعد تحقیق کاروں نے پرزوں کو گرم کیا اور ان کے شاندار نتائج کی جانچ کی۔ اس سلسلے میں ہلکے اور بڑے سرامکس پارٹس تیار کئے گئے جن کا کام مشینوں کو گرم ہونے سے بچانا تھا۔ بڑے پارٹس کو جہازوں اور خلائی شٹل کے لئے تھے۔ ایچ آر ایل لیبارٹریز کے سینئر سائنس دان ٹوبیس سچلائڈر (Tobias Schaedler) جنہوں نے تحقیق کاروں کے اس گروپ کی سربراہی بھی کی تھی کا کہنا تھا ان سرامکس پارٹس کی مدد سے خلا کا سفر کرنے والے جہاز کی بیرونی سطح پر نصب کیا جا سکتا ہے جو شٹل کو حدت، دبائو سے بچانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دفاعی آلات بنانے والی ایجنسی DARPA کی طرف سے اس پراجیکٹ کی فنڈنگ ہو رہی ہے۔ دوسری جانب DARPA کے ڈیفینس سائنس آفس کے ڈائریکٹر سٹیفن ٹومپکنز کا کہنا ہے کہ سرامکس کی ساخت کی وجہ سے اس کا استعمال کافی بہتر نظر آ رہا ہے تاہم اس کو بڑے پیمانے پر تیار کرتا اور اسے استعمال میں لانا زیادہ آسان بھی ثابت نہیں ہو گا۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top