Global Editions

کیوو جھیل کا عظیم گیس گیمبل

lake_img_2

یہ روانڈا کی جانب جھیل کیوو پر جمعہ کی شام ہے جو کبھی ایک خاموش ساحل تھا وہاں ایک پر عزم کاوش کی داستان تشکیل پا رہی ہے۔
جھیل میں ساحل سے تھوڑا سا اندر ایک بہت بڑا مکینیکل راج ہنس نماگیس نکالنے والا پلیٹ فارم تقریباً مکمل ہے،سٹین لیس سٹیل اور کنکریٹ کا 3,000ٹن جو کہ جلد ہی ایک ایسے وسائل کو گرفت میں لے لے گا جو اس پیمانے پر دنیا بھر کی کسی اور جھیل میں نہیں ہے۔

کیوو جو کہ روانڈا اور ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو(ڈی آر سی)کی سرحدوں پر مشتمل ہے اس میں تقریباً60ارب کیوبک میٹر میتھین اور300کیوبک میٹر کاربن ڈائی آکسائیڈ تحلیل ہیں۔گیس جو کہ ایک قریبی آتش فشاں کی سرگرمیوں اور جھیل کی تہہ میں موجود بیکٹریا
کے گلنے سڑنے کے عمل کی وجہ سے بن رہی ہے ، ایک معاشی صلاحیت اور خطرہ کو بیک وقت لئے ہوئے ہے۔

اگرا س گیس کونکال لیا جائے تو کیوو کی میتھین سے 960میگا واٹس بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو کہ اس وقت روانڈا کی پیدا ہونے والی بجلی
سے چھ گنا زائد ہے۔روانڈا اور مشرقی ڈی آر سی دونوں جو کہ بجلی کی شدید قلت کا شکار ہیں اور ان کے پاس اپنی بجلی کی پیداوارکو بڑھانے کے بہت کم مواقع ہیں یہ ایک معاشی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس سے نئی صنعتوں کے قیام اور غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگر یہ ملک تعاون کریں اور گیس کو صحیح طریقے سے نکال لیا جائے تو یہ ان دونوں ممالک کے مابین عرصہ دراز سے خراب تعلقات سنوارنے اور خطے میں استحکام لا سکتی ہے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کیوو کی میتھین گیس کو نکالنے کی وجہ سے ایک ممکنہ تباہی سے بچنا بھی ممکن ہے۔ سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ میتھین گیس کی بڑھتی ہوئی مقدار آخر کار تباہ کن ہو سکتی ہے جسے انھوں نے”اوورٹرن”کا نام دیا ہے۔
اوور ٹرن جسے لمنک ارییپشن بھی کہا جاتا ہے تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب گیس کا پریشر جھیل کی گہرائی میں موجود پانی کے دباؤ سے بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک چین ری ایکشن شروع ہوتا ہے جو کہ انھیں بہت ہی سنگین نتائج کے ساتھ چھوڑتا ہے۔جتنی تاریخ ہم جانتے ہیں اس میں ا بھی تک صرف دو ہی لمنک اریپشن کے واقعات پیش آئے ہیں جو کہ دونوں ہی 1980ء کی دہائی میں کیمرون کی چھوٹی جھیلوں میں ہوئے۔ان دونوں جان لیوا واقعات میں پہلا واقعہ 1986ء میں جھیل اینوائی اوس میں ہوا اور اس کے وجہ سے 1700سے زائد لوگوں کا دم گھٹ گیا جب کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک بادل 100میٹرپانی کے فوارے کے ساتھ جھیل سے پھٹا اور ساحل سے 25کلومیٹر دور تک پھیل گیا۔کیوو ،اینوئی اوس سے ہزار گنا زائد گیس رکھتا ہے لہذا اگرا س کے ایک حصے کا بھی اخراج ہو جائے تو اس کے گرد رہنے والے 20لاکھ لوگوں کی زندگی خطرے میں ہو گی۔

کیوو میں زیاد ہ امکانات اس بات کے ہیں کہ گیس کے اخراج کا باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت میتھین بنے گی۔
یہ اس بات کی متقاضی ہے کہ توانائی کی اس صلاحیت کو فوری طور پر استعمال میں لایا جائے،روانڈا اور ڈی آر سی طویل عرصے سے کچھ ایسا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔دہائیوں بعد بھی بہت کم پیش رفت ہو سکی ہے مگر اب آخر کار دونوں ممالک میں گیس نکالنے کے لئے کچھ
تیزی سامنے آئی ہے۔میرے فروری کے جھیل کے دورے میں100سے زائد پیلی واسکوٹ پہنے کارکن کیوو واٹ منصوبے کے پہلے حصے کے حتمی کاموں کو مکمل کر رہے تھے یہ 200ملین ڈالر کا پراجیکٹ ہے جوامریکن انرجی فرم کون ٹوور گلوبل کی ملکیت ہے۔جھیل کے پہلے صنعتی
سطح پر گیس فیول پراجیکٹ سے توقع ہے کہ وہ اس سال کے وسط میں 25میگا واٹس پیدائش کی صلاحیت حاصل کر لے گا جو کہ آخرکار 100 تک پہنچ جائے گی۔ایک اور امریکن کمپنی سمبین پاوراس سال کے آخر تک روانڈا کی جانب 50میگا واٹ کے پراجیکٹ کی تعمیر شروع کر رہی ہے۔ڈی آر سی کے دوردراز دارالحکومت کنساشا میں ہائیڈروکاربن کی وزارت ملک کے پہلے کیوو گیس کنسیشن کی نیلامیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔تاہم گیس کو صحیح طریقے سے نکالنا بہت مشکل کام ہے۔اگرچہ روانڈا کی حکومت 2008ء سے گیس سے چلنے والا پاور پلانٹ پائلٹ بنیادوں پر چلا رہی ہے،گیس نکالنے کا عمل بہت اچھوتا ہے اور بہت چھوٹے پیمانے پر ہو رہا ہے۔اگرچہ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ جھیل میں میتھین گیس کو مزید جمع ہونے سے روکنا چاہئے تاکہ اس صدی کے آخر تک کسی بڑی تباہی سے بچا جا سکے تاہم کچھ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ گیس نکالنے کا عمل گہرے پانی میں گیسوں کی بہت بڑی مقدار کوتہوں کی صورت مجتمع رکھنے کے قدرتی عمل کو خراب کر دے گا۔ان کا استعمال گیس کے اخراج کے خطرے کو کم کرنے کی بجائے مزید بڑھا دے گا۔جب تک بہت بڑے پیمانے پر گیس نکالنے کا عمل شروع نہیں ہو جاتا تب تک یہ بات غیر واضح رہے گی کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی مؤثر عمل کرے گی اور آخر کار کیوو بجلی کی کتنی پیداوار دے گا۔

فنش انجینئراورکیوو واٹ کے کنٹری منیجر جارمو گیمرس کا کہنا ہے کہ “ہم اس بارے میں بہت متجسس ہیں کہ یہ سارا عمل کیسے کام کرے گا”۔
بہت جلد ہمارے پاس اس جھیل کی صلاحیت کے بارے میں بہت بہتر آئیڈیا ہو گا۔

lake_img_3

گرڈ میں اضافہ
کیوو واٹ سے چکر کھاتی سڑکوں پر تین گھنٹے کی مسافت پر روانڈا کا دارالحکومت کیگالی واقع ہے جسے دیکھ کر یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ توانائی کے بحران کا شکار ہے ۔روانڈا کے قتل عام جس میں 800,000لوگ مارے گئے تھے تب سے 21سالوں کے دوران لاشوں سے بھرے
پسماندہ علاقے سے دس لاکھ لوگوں پر مشتمل جدید شہر کی صورت ابھرا ہے۔آج کیگالی درختوں کی قطاروں سے بھری گلیوں کا شہر ہے جہاں
پہاڑوں کے گرد امریکن طرز کے آفس ٹاور بن رہے ہیں۔یہ روانڈا کی معیشت کا انجن بھی ہے جو کہ گزشتہ ایک دہائی سے اوسطاً8فیصد سالانہ کی شرح نمو سے ترقی کررہا ہے جو کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔جیسے روانڈا اور اس کے دارالحکومت نے ترقی کی ہے ویسے ہی بجلی کے گرڈاس کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی تگ و دو میں ہے۔اگرچہ گزشتہ 5سالوں کے دوران لگائی گئی گنجائش کو دگنا کر دیا گیا ہے مگرابھی بھی 156میگا واٹس کی کمی ہے۔آج lake_img_4روانڈاکی 1کروڑ20لاکھ آبادی کا 80فیصد جس میں دیہاتی آبادی کے مکین بھی شامل ہیں بجلی کے کنکشن سے محروم ہیں۔ایسے خاندان اور کاروبار جن کے پاس بجلی ہے انھیں اس خطے میں بجلی کی سب سے مہنگی قیمت کا سامنا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملکی بجلی کا ایک تہائی درآمد شدہ ڈیزل اور ہیوی فیول آئل سے پیدا کیا جاتا ہے جوکینیا اور تنزانیہ سے بذریعہ ٹرک پہنچتا ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق روانڈا کی کمپنیاں اوسطاً24سینٹ ہر کلو واٹ آور پر ادا کرتی ہیں جس کے مقابلے میں یہ کینیا میں 15سینٹ اور یوگنڈا میں17سینٹ ہے۔امریکہ میں اوسطاًایک صنعت کار 7سینٹ سے کم ادا کرتا ہے۔
وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی غربت میں کمی اور اپنی چھوٹی صنعتی بنیاد کو بڑھاوا دینے کی امید کے ساتھ روانڈا نے بجلی لگانے کے پر عزم اہداف کا تعین کیا ہے۔ملک کی دوسری معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے کی حکمت عملی جس کا آغاز 2013ء میں ہوااس میں بجلی کی پیداوار میں 2017ء کے آخر تک چار گنا اضافے کے ساتھ 563میگا واٹس کے ہدف کا تعین کیا گیا ہے۔مالیاتی مشکلات اور توانائی کے محدود ملکی وسائل کی وجہ سے اس کو حاصل کرنا خاصا مشکل کام ہو گا۔کیوو واٹ کے علاوہ واحد توانائی کاقابل ذکر منصوبہ ،جو تکمیل کے قریب ہے وہ 15میگا واٹ کا پلانٹ ہے جو دلدلی کوئلے کو جلائے گا۔اگرچہ دلدلی کوئلے سے چلنے والے ایک اور 80میگا واٹ کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے اور 2بڑے علاقائی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کو پیسے کی فراہمی کا انتظام بھی ہو رہا ہے مگرا بھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ 2017ء کے ہدف تک یہ گرڈ میں شامل ہو جائیں گے۔اگر ابتدائی سروے درست ہوئے تو روانڈا میں نمایاں جیو تھرمل وسائل ہو سکتے ہیں مگر 2013ء میں کھودے گئے 2کنویں خالی نکلے۔حال ہی میں روانڈمیں مشرقی افریقہ کے استعمال کے قابل پہلے سولر فیلڈ کا افتتاح کیاگیا ہے،اور حکام سولر انسٹالیشنز کو گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں میں بجلی فراہم کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں مگرلگتا نہیں کہ شمسی توانائی صنعتوں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کوئی نمایاں کردار ادا کر سکے گی۔مایوسی کے اس عالم میں روانڈا جلد ہی بجلی درآمد کرنے والا ایک نمایاں ملک بن سکتا ہے۔وزارت انفراسٹرکچر کے مطابق اس سال کینیا سے 30میگا واٹس بجلی خریدنے کے انتظامات ہو رہے ہیں اور آخر کارایتھوپیا سے400میگا واٹس لئے جائیں گے۔

lake_img_5

سرحد کے اس پار مشرق کی جانب ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو (پرانا نام زائرے)میں بجلی کے حالات اس سے بھی بد تر ہیں۔ڈی آر سی 77ملین لوگوں پر مشتمل ملک ہے جس کا رقبہ تقریباً مغربی یورپ جتنا ہے وہاں ہائیڈرو الیکٹرک کے وسیع وسائل ہیں۔اگر پوری طرح سے استعمال میں لایا جائے تو دریائے کانگو کی انگا آبشار سے تقریباً 40,000میگا واٹس پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جو کہ دنیا کے سب سے بڑے پاور سٹیشن تھری گورجز ڈیم چائناکی گنجائش سے دگنی ہے۔تاہم آج ڈی آر سی کی تنصیب شدہ عمر رسیدہ گرڈ کی گنجائش 2,400 میگاواٹس ہے جس میں سے تقریباً نصف ہی متواتر طور پر مہیا ہوتی ہے کیونکہ ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی حالت بہت خراب ہے۔جنگ سے متاثرہ مشرقی حصے میں بجلی کی فراہمی خاص طوربہت محدود ہے۔جھیل کیوو پر سب سے بڑے شہر گو ما کو بجلی کی فراہمی کی گنجائش 5میگا واٹس سے کم ہے جو کہ 10لاکھ لوگوں پر مشتمل شہر کے لئے بہت معمولی ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بات جھگڑوں کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

بنتو لوکمبو ماحولیات کے ایک سر گرم کارکن کا کہنا ہے کہ مشرقی کانگو کے گرڈ میں اگر اضافی کر دیا جائے تو یہ گوما میں صنعتی ترقی کو سستا کر دے گا جس کے نتیجے میں علاقے کے درجنوں مسلح گروپوں کی اپیل میں کمی آئے گی جو کہ نوجوانوں کے لئے مقناطیس کے طور پر کام کرہے ہیں کیونکہ ان کے پاس ملازمت کے دوسرے مواقع نہیں ہیں۔مزید برآں اس کا کہنا تھا کہ مزید ترقی غیر قانونی چارکول کی مارکیٹ کو کمزور کر دے گی ،ایک تاجر جو ہر سال مقامی ملائیشیاکو کروڑوں ڈالر پیدا کر کے دیتا ہے اور کثیر تعداد میں جنگلوں کی بربادی کرتا ہے۔گوما اور اس کے ماحول میں کیوو کی گیس پیدا کرنے کی وجہ بنیادی طور پر آتش فشاں ہیں۔سنہ 2002ء میں ایک آتش فشاں جو کہ قصبے کے شمال میں 20کلو میڑ کے فاصلے پر واقع نائراگونگو پھٹ پڑاجس نے شہر کے پانچویں حصے کو تباہ کر ڈالا اور ہزاروں ،لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے،اردگرد
لاوا جمع ہو گیا جسے لوگ ابھی تک گھر بنانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔قصبے سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے میٹیو یلائرجو کہ حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے گوما والکینو آبزرویٹری کے چیف جیو کیمسٹ ہیں انھوں نے مجھے بہت سے گڑھے دکھائے جن کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ مازوکو پر مشتمل تھے جہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس رس رس کر نکل رہی تھی جو کہ زمین کے نیچے پرانے لاواکے کناروں کے قریب جمع ہو گئی ہے وقتاًفوقتاً بچوں کا دم گھونٹ دیتی ہے۔گو ما کے مغرب میں25کلو میٹر کے فاصلے پر قصبہ سیک میں
کسنگا پرائمری سکول کے پرنسپل باچوکا لوبنگونے ہمیں ایک تصویر دکھائی جو اس کے دفتر کی دیوار سے لٹک رہی تھی اور اس میں ایک جوان مازوکو کا شکار نظر آرہا تھا۔

اپنی کھڑکی سے باہر کی جانب خطرناک علاقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک صبح ہم نے اسے وہاں مردہ حالت میں پایا۔ہم نے اس کی تصویر طلبہ کو خبردار کرنے کے لئے رکھ لی۔مازوکو کی موجودگی اس بات کی یاد دھانی ہے کہ جھیل کیوو میں تباہی لانے کی کتنی صلاحیت ہے۔مگر کاربن ڈائی آکسائیڈ واحد خطرہ نہیں ہے۔جھیل کی جیو کیمسٹری بہت غیر معمولی ہے پانی کا مقامی چشمہ ہونے کی بدولت اس کے اثرات بہت وسیع ہیں جو علاقے کے آتش فشاں کی مٹی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے کیوو کے گہرے ترین پانی کو گیس فراہم کر رہی ہے۔میتھین گیس کاایک بڑا حصہ زندہ مادوں کے گلنے سڑنے کے عمل کی وجہ سے آرہا ہے،باقی ماندہ آتش فشانی مٹی یا پھر بیکٹیریا سے جو کاربن ڈائی آکسائیڈکومیتھین میں تبدیل کر رہے ہیں۔یہ چشمے کھارے پانی کے ہیں جبکہ جھیل کے اوپری حصے کو جو پانی مل رہا ہے وہ تازہ ہے۔چونکہ کھارا پانی تازے پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے اس لئے یہ کثافت کی تہہ بناتا ہے جو گیسوں کو اوپر کی جانب ماحول میں پھیلنے سے روکتا ہے۔اگرچہ یہ درجہ بندی ابھی مستحکم ہے مگر گیسوں کااکٹھاہونااس بات کو ممکن بناتا ہے کہ لمنک کا اخراج اسی طرح سے ہو جیسا کہ ماضی بعید میں ہو چکا ہے۔اگر کچھ نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایسا ہی ہونے کا امکان ہے۔

تاہم ابھی تک ان خطرات کے بارے ہم یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔کیوو کی تلچھٹ کے ریکارڈ کا مطالعہ کرنے سے یہ لگتا ہے کہ پچھلے
6,000سال کے دوران کم از کم5مرتبہ اوور ٹرن کا واقعہ ہوا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان واقعات میں جھیل کے پانی کی تمام تہیں شامل تھیں جس کے نتیجے میں تما م گیس نکل گئی یا اس کے اوپری حصے کی کچھ تہیں شامل تھیں۔مزید برآں حالیہ پیمائشوں سے پتہ چلا ہے کہ
میتھین کا اجتماع بڑھ رہا ہے اور اس کی شرح اتنی ہے کہ اس صدی کے آخر تک یہ اس مقام پر پہنچ جائے گی جہاں مزید گنجائش ممکن نہ رہے گی،ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ عمل کیوں وقوع پذیر ہو رہا ہے یا یہ عمل جاری رہے گا بھی یا نہیں۔پیچیدہ عناصر والی کیوو مختلف گہرائیوں کے ساتھ پانچ مختلف تہوں پر مشتمل ہے جس میں ہر ایک الگ فزیوکیمیکل خواص رکھتی ہے۔

تاہم یہ واضح ہے کہ کیووکی بڑی تہہ میں ہونے والااخراج قیامت خیز تباہی لا سکتا ہے۔اگر کیوو میں تحلیل شدہ موجودہ میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈکوماحول میں چھوڑ دیا جائے تو یہ پوری جھیل کو گیس کے بادل سے ڈھانپ لے گی جو کہ 100میڑ موٹا ہو گا۔اگر گیس کا ایک معمولی حصہ بھی باہر نکلا تو یہ جھیل کے گرد قصبے کی تمام آبادی کا دم گھونٹ سکتی ہے۔ایسا ممکن ہے اگر ایک خاص گہرائی پر پانی گیس سے بھر چکا ہے اور اس دوران کوئی زلزلہ،آتش فشاں کا پھٹنا یا کوئی بیرونی عمل پانی کی اس گہرائی کو خراب کر دے کہ پانی کا دباؤ کافی نہ رہے کہ وہ مزید گیس کو جذب کر سکے۔

گیس نکالنے کا عمل
کیوو کی گیس کے پھٹنے کے امکانات جتنے بھی ہوں اس کی میتھین گیس میں بہت عرصے سے تجارتی دلچسپی لی جاتی رہی ہے۔1963ء سے
لیکر 2006ء تک روانڈا لیک سائیڈ بارلیوا بروری اپنے بوائلروں کو میتھین گیس سے چلاتی رہی ہے جسے جھیل کے اندر 800میٹر سے نکالا جاتا تھا۔1980ء کے عشرے میں نیدر لینڈ کے محققین نے بارلیوا کی فالتو گیس کو استعمال میں لا کر اسے کاروں میں بھرنا شروع کیا لیکن آخر کار یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔1990ء کے عشرے کے ابتداء میں سرحد پار سے بجلی کی پیداوار کے لئے گیس استعمال کرنے کی کوششوں نے تیزی پکڑی مگر روانڈا میں ہونے والے قتل عام اور مشرقی کانگو میں جنگ نے اس ترقی کو روک دیا ۔آخر کار رونڈا میں استحکام پیدا ہونے کے بعدکیگالی میں حکومت نے ایک سکاٹش فرم کے ساتھ پارٹنر شپ کی تاکہ جھیل پر ایک چھوٹا منصوبہ شروع کیا جائے۔اس پلانٹ کا نام

lake_img_6

کے پی ون (KP1)ہے2008ء میں وقفے وقفے سے کام شروع کیا اورچند میگا واٹس بجلی پیدا کی۔ایک اور منصوبے نے 2010ء میں
مختصر طور پر2.4میگا واٹس بجلی پیدا کی مگر جھیل میں آنے والی ایک طوفان کی وجہ سے مشینری کو ہونے والے نقصانات کی بنا پر اسے ہٹا دیا گیا۔
کیوو وا بڑے پیمانے پر گیس نکالنے کی پہلی ملکی کوشش ہے۔اگرچہ اس کی ٹیکنالوجی بہت اچھوتی ہے مگر اس کا تصور بہت سادہ ہے۔ساحل سے 13کلومیڑ دور جھیل کی تہہ میں ایک بجرا لنگرا نداز ہو گاجہاں پلاسٹک کے چار پائپ سطح سے 350میٹر کی گہرائی سے پانی نکالیں گے۔ جونہی پانی بلند ہونا شروع ہو گا میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بلبلے بننا شروع ہو جائیں گے،تقریباً80فیصد میتھین اور40فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ سپریٹر نامی افقی چیمبر میں پمپ کر لی جائے گی۔وہاں سے گیس نکالنے کے بعد والا پانی حصہ وار جھیل کی گہرائیوں میں چھوڑ دیا جائے گا،اس مقام پر تقریباً30فیصد میتھین اور70فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن سلفائیڈ کے کچھ ذرات بجرے پر بنے چار ٹاورز کے ذریعے اوپر کی جانب جائیں گے۔یہاں “واش واٹر”جسے 40میٹر کی گہرائی سے لیا جائے گا اسے گیس میں شامل کیا جائے گا تاکہ جس حد تک ہو سکے باقی رہ جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈگیس کو الگ کیا جا سکے۔اس پانی کو دوبارہ60میٹر کی گہرائی میں چھوڑ دیا جائے گا،یہ کم گہرائی کافی ہے کہ آخر کار کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول میں شامل ہو جائے۔آخر میں جو پراڈکٹ حاصل ہو گی وہ گیس تقریباً 80فیصد میتھین پر مشتمل ہوگی جس پر دباؤ ڈالنے کے بعد ساحل پر پاور پلانٹ میں بھیج دیا جائے گا۔

بجلی کی کمی کے شکار اس طرح کے علاقے کے لئے کیوو کی گیس ایک پر کشش تجویز ہے۔پراجیکٹ کی نگرانی کرنے والے انجینئرگو میرس
کے مطابق کیوو واٹ اپنے پہلے مرحلے میں پیدا کی جانے والی بجلی روانڈا کی حکومت کو 15سینٹ فی کلو واٹ-آور کے حساب سے دے گا۔یہ ملک میں لگائے جانے والے دلدلی کوئلے سے چلنے والے پراجیکٹ کے متوقع ریٹ کا مقابلہ کرتی ہے اور درآمد شدہ فوسل فیول سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمت کا آدھا ہے۔(امید کی جاتی ہے کہ بعد میں یہ قیمت گر کر 12سینٹ فی کلو واٹ-آور رہ جائے گی)
اقتصادی اور سیفٹی کی دونوں وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ بہت پر کشش ہے تاہم یہ اپنی ہی نوعیت کے ماحولیاتی خطرات پیدا کر سکتا ہے جس میں یہ امکان بھی ہے کہ گیسوں کو نکالنے کے عمل کے دوران یہ جھیل کی ساخت اور خواص کو تبدیل کر دے۔
مینجمنٹ پرسپریکیشن فار دی ڈویلپمنٹ آف لیک کیووگیس ریسیورس کی 2009ء کی دستاویزات کے مطابق جسے پی ایمز کے نام سے جانا جاتا ہے دونوں ممالک روانڈا اور ڈی آر سی نے گیس کو نکالنے کے لئے عمومی ہدایات کو نافذ کر لیا ہے،گیس نکالنے کے عمل میں خطرات کم ہیں بہ نسبت اس کے کہ جب گیس نکالے گئے پانی کو واپس ڈالا جائے گا۔ میتھین گیس سے بھرا ہوا کیوو کا گہرا پانی کھارا،گاڑھا اور غذائی اجزاء سے پرُ ہے اسے جھیل کی سطح کے قریب چھوڑنے سے اس کا ایکو سسٹم خراب ہو سکتا ہے اور اس کی درجہ بندی کی کثافت کمزور ہو سکتی ہے۔ان خطرات کو کم کرنے کے لئے رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ”ریسورس زون”جھیل کی گہرائی سے لئے گئے تمام پانی کو دوبارہ سطح سے کم از کم 260میٹر نیچے چھوڑا جائے تاکہ اس پر کافی دباؤ موجود رہے۔چونکہ کیووواٹس کا ڈیزائن ،رپورٹ شائع ہونے سے قبل منظور ہو چکا تھا تاہم یہ منصوبہ اس ضروریات کے تحت نہیں ہے اور اس کا گیس نکالا گیا پانی 240میٹر کی گہرائی میں واپس چھوڑا جائے گا۔اگرچہ یہ فرق معمولی سا لگتا ہے مگر فلپ مورکل جو کہ ایک ساؤتھ افریقن انجینئر اور فائیو پرسن کمیٹی کے ممبر ہیں جو رہنما اصولوں کو مرتب کرتی ہے وہ اس سے اتفاق نہیں رکھتے۔ان کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک بار ان تہوں میں گھس جاتے ہیں تو آپ اس کے تحفظ کرنے والے میکانیزم کو خراب کر دیتے ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
کچھ ماہرین کے خیال میں خطرات اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ خبردار ہوا جائے۔ڈائیرو ٹیڈسکو اٹالین ماہر آتش فشاں ہیں اور ان کے پاس جھیل کے متعلق وسیع علم ہے انھوں نے مجھے بتایاکہ واپس ڈالے جانے والے پانی کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ کوئی اہم خرابی پیدا کر سکے۔
الفرڈ جانی وواسٹ جو کہ سوئس فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف ایکویٹک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایکویٹک فزکس ریسرچ گروپ کے سربراہ اور ایک دوسری ایم پیز کمیٹی کے ممبر ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ احتیاط کی جانب سے کی جانے والی غلطی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حتٰی کہ کیووواٹ کا پانی دوبارہ گہرائی میں چھوڑا جائے گا جو کہ تحفظ کے لئے کافی ہے۔

وواسٹ الگ تشویشوں میں مبتلا ء ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ پراجیکٹ جھیل کی ایکالوجی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔یہ تفکرات ماہی گیروں کو بھی لاحق ہیں۔کیوو واٹ کے گرد خاص علاقے میں ماہی گیری ممنوع ہو جائے گی اور حتٰی کہ اس علاقے کے باہر بھی گیس نکالنے کے پراجیکٹ کی وجہ سے صاف شدہ پانی کو دوبارہ واپس ڈالنے ، شوراورکمپن خاصے قابل غور ہونگے ۔کے پی ون پائلٹ پلانٹ کے قریب ایک ماہی گیر کا کہنا تھا کہ ان کا زیادہ تر شکار سارڈین پر مشتمل ہے جسے سمبازا کہا جاتا ہے اس کے شکار میں اس سہولت کے شروع ہونے کے وقت سے خاصی کمی آئی ہے۔تاہم سمبازا میں کمی کو دستاویزی طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے مگر اسے واحد وجہ گرداننا مشکل ہوگا اس کمی کی وجہ غیر منظور شدہ کشتیوں میں اضافہ اور بلا نما مخلوق کا آنا بھی ہو سکتا ہے۔

توانائی کے نقطہِ نظر سے سب سے زیادہ اہم تشویش یہ ہے کہ گیس نکالنے والی ٹیکنالوجی کتنی ا چھی کارکردگی دے گی۔ایم پیز کے لکھاریوں کا تخمینہ ہے کہ جھیل 50سالوں تک 160سے لیکر960میگا واٹس کے درمیان پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس کے بعد گیس کا اجتماع جاری رہے گا اور اس سے دائمی طور پر 100میگا واٹس پیدا کئے جا سکیں گے۔
تاہم یہ سب اس پر منحصر ہے کہ گیس نکالنے کا عمل اور ساحل پر موجود اسے توانائی میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی کتنی کارگر ہے۔کیوو واٹ تقریباً دو تہائی میتھین گیس اوپر لائے گئے پانی سے نکال لے گا جبکہ باقی ماندہ علیحدگی کے عمل اور واشنگ ٹاورز میں ضائع ہو جائے گی۔
اگرچہ کچھ گیس جھیل میں واپس چلی جائے گی جب پانی کو واپس جھیل میں ڈالا جائے گااور نظریاتی طور پر اسے بعد میں دوبارہ نکالا جا سکتا ہے ،اس بات کا امکان ہے کہ اس کا اجتماع کم ہو گا جس کی بناپر معاشی طور پر اسے نکالنا سود مند نہ ہو گا۔یہ صرف سمولیشن پر مبنی تخمینہ جات ہیں اور اصل کارکردگی تب تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک بجرا کام شروع نہ کر دے۔بنیادی طور پر جھیل کی صلاحیت ابھی بھی انتہائی غیر یقینی ہے۔

lake_img_7

مایوس کن نتائج روانڈا اور ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو میں تنازعات کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک نے 1975ء میں ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے مطابق دونوں کامیتھین گیس میں برابرکا حصہ ہے،استعمال میں روانڈا کا آغاز کرنے کا مطلب اپنے ہمسائے کے وسائل میں مداخلت کرناہو سکتا ہے اور خاص طور پر تب جب جھیل کی پیداوارتوقع سے کم ہو(کیونکہ گیس کی سطح جھیل کی بڑی تہہ میں دی گئی گہرائی میں مساوی ہے لہذا یہ ناممکن ہے کہ روانڈاکے پانی سے گیس ،ڈی آر سی کی دستیاب گیس کی مقدار کو متاثر کئے بغیر
نکال لی جائے)۔دونوں ممالک کی تاریخ وقتاًپرامن نہیں ہے۔جب سے روانڈا کی حکومت نے قتل عام کے بعد عنان اقتدار سنبھالا ہے
روانڈا نے دو مرتبہ کنساشا کی حکومت کوگرانے کی کوشش کی ہے جس میں سے ایک کامیاب ہوئی۔یہ ڈی آر سی میں بہت سے پراکسی شدت پسند گرپوں کو مدد فراہم کرنے او ر کانگوکی معدنیات جن میں سونا،ٹن،کولٹن اور الیکٹرو نکس کی پیداوار میں استعمال ہونے والی ایک دھات کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔
اس تناظر میںیہ تفکرات ہیں کہ روانڈا جو ایک چھوٹی مگر انتہائی منظم ریاست ہے اپنے بڑے مگر غیر فعال ہمسائے کے خرچے پر کیوو کی گیس روانڈا کے لئے منافع حاصل کرنے کاایک اور ذریعہ ثابت ہو گی ۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو یہ سرحد پار تعلقات کو بہتر کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔آگسٹا یوموٹونائی جو کہ روانڈا کی لیک کیوو مانیٹرنگ پروگرام جوسمندر پار گیس نکالنے کے عمل کی ایک حکومتی باڈی ہے اس کے سربراہ ہیں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک پہلے ہی کیوو کے جنوب
میں اپنی سرحد پر ایک ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ پر کافی پہلے سے ہی حل ڈھونڈ کر مشترکہ طور پر بجلی حاصل کررہے ہیں۔سیاست کی غیر یقینی کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک سے توانائی کے ماہرین تکنیکی سطح پر بہت اچھا تعاون کر رہے ہیں۔تاہم دونوں اس بات کا انتظا ر کر رہے ہیں جب یہ تصور تجارتی پیمانے پر کام کر کے دکھائے گا۔

بہت سے دیرینہ سوالات کے ساتھ کیوو واٹ شروعات کرنے کے لئے تیار ہے ،یہ بھولنا آسان ہے کہ کے پی ون پائلٹ سہولت کو کام کرتے ہوئے 8سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔اگرچہ اصل میں یہ منصوبہ 5میگا واٹس پیدا کرنے کے لئے تخلیق کیا گیا تھا سالوں سے سالانہ ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے جتن کر رہا ہے اور اب یہ مسلسل 2سے3میگا واٹس بنا رہا ہے جو انتظامیہ کے اعتماد کو معمولی سے بہتر کر رہا ہے۔
فروری کی ایک شام میں بجرے کے دورے پر جو ساحل سے 1کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے روانڈا-ڈی آر سی کی سرحد نظر آتی ہے کے پی ون کے پلانٹ منیجر آلیورٹوریشواسے ملا۔جنوب کی جانب ٹکڑوں میں گوما شہر کی روشنیاں نظرآرہی تھیں۔مزید دور نیاراگونگوکی بھاپ والی کون تھی۔بجرے کی مشینری کی آواز میں ٹوریشوا نے مجھے منصوبے کا مختصر تعارف کروایا کہ یہ کیسے سالہا سال تک اپنی صلاحیت سے کم کام کرتا رہا،اور کیسے اس کے سپریٹر میں حتمی تبدیلیاں کرنے سے اس کی بجلی کی پیداوار میں حالیہ اضافہ ہوا ہے۔جب میں نے ان سے کیوو کے بارے میں ان کی پیشین گوئی کے بارے میں پوچھا تو ٹوریشوا کا کہنا تھاکہ وہ اس منصوبے کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتے یا جھیل آخر کار کتنی بجلی پیدا کرسکے گی۔اس کی بجائے انھوں نے اس پر زور دیا کہ وہ بہت بڑے داؤ پر لگے تجربے کا حصہ بننے پر کیسا محسوس کرتے ہیں۔

ہم پانی کودیکھ رہے تھے جب انھوں نے کہا کہ یہ بہت ولولہ انگیزہے کیونکہ ہم وہ پہلے لوگ ہیں جو اس ٹیکنالوجی کا آغاز کر رہے ہیں۔
“کسی نے آج تک یہ کام سر انجام نہیں دیا”۔

تحریر: جو ناتھن ڈبلیو روزن

جوناتھن ڈبلیو روزن کیگالی میں مقیم ایک صحافی ہیں۔

Authors

*

Top