Global Editions

کینسر کا علاج ڈی این اے ایڈیٹنگ سے ممکن ہو گیا

دنیا میں بہت سی لاعلاج بیماریاں ہیں جن کا علاج ڈھونڈنے کیلئے طبی ماہرین دن رات سرگرداں ہیں۔ ان بیماریوں کے علاج کیلئے نہ صرف ادویات بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکنالوجی کی مدد سے مدافعتی نظام کو مضبوط کیا جارہا ہے۔ جینیاتی طور پر ترمیم کردہ مدافعتی سیل کینسر کے مریضوں کی زندگی بچانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔ یہ شاید اس کام کا آغاز ہے۔
اس سلسلے میں لیوکیمیا میں مبتلا مریض بچی پر انجینئرنگ کی مدد سے علاج کا تجربہ کیا گیا۔ حقیقی زندگی کی یہ کہانی کچھ اس طرح سے کہ ڈاکٹر خون کی کمی کی بیماری لیوکیمیا (Leukemia)میں مبتلا چھوٹی سی بچی لیلا رچرڈز (Layla Richards)کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ اسےبار بار کیموتھراپی (Chemotherapy)اور بون میرو ٹرانسپلانٹ (Bone Marrow Transplant)سے گزرنا پڑا۔گزشتہ سال جون میں 12سالہ لیلا (Layla)شدید بیمار پڑ گئی ۔ اس کے والدین منتیں کرتے رہے کہ کیا کوئی چیز اسے بچا سکتی ہے۔

جی ہاں ایک شے ایسی تھی جس سے لیلا کا علاج ممکن تھا۔ اس کے گریٹ آرمنڈ ہسپتال (Great Ormand Hospital)کے فریزر میں وہائٹ سیل سے بھری ہوئے تھے۔ ان سیلوں کو لیوکیمیا کے مرض کو ختم کرنے کیلئے جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا تھا لیکن ہسپتال کو ابھی اسے ٹیسٹ کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ پھر امید کی ایک کرن اس وقت روشن ہوئی جب لیلا کے معالجین کو مین ہٹن میں قائم بائیوٹیکنالوجی کی فرانسیسی کمپنی سلیکٹس (Cellectis)کی طرف سے فون موصول ہوا۔ یہ کمپنی جین کو ترمیم کرنے کے طریقے ٹالین (Talen)کے ذریعے کینسر کے علاج کا دعویٰ کرتی ہے۔ ٹالین ٹی سیلوں میں جین کی ترمیم کا طریقہ ہے۔

ڈاکٹروں نے لیلا کو کلینک کے اصولوں سے ہٹ کر دوادے کر ایک خاص مریض قرار دیدیا تھا۔ یہ ایک جوا تھا کیونکہ اس کے ٹیسٹ صرف ایک چوہے پر کئے گئے تھے۔ اگر یہ تجربہ ناکام ہو جاتا تو کمپنی کی ساکھ خراب ہو سکتی تھی اور اگر یہ کامیاب ہو جاتا تب بھی سرکاری ریگولیٹرز پیچھے پڑجاتے۔ لیکن ڈاکٹروں کو زندگی بچانے یا کسی بری خبر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔بائیوٹیکنالوجی کی فرانسیسی کمپنی سلیکٹس (Cellectis)کے ڈاکٹروں نے 2011ء میں لیلا کا علاج شروع کیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ لیوکیمیا کے مریض کے خون سے ٹی سیل لے کر اس میں ترمیم شدہ ڈی این اے داخل کرتے ہیں۔ اس تکنیک سے 300مریضوں میں لیوکیمیا کو ختم کرنے کے نتائج حوصلہ افزاء ملے ہیں۔ اب ایک درجن کے قریب کمپنیاں اس طریقہ علاج کو مارکیٹ میں لانے کیلئے کام کررہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ لیلا جیسے چھوٹے بچوں میں ٹی سیل نہیں ہوتے یا بہت کم ہوتے ہیں۔ سلیکٹس کمپنی کے سی ای اوچائولیکا کہتے ہیں کہ ٹی سیلوں میں لیوکیمیا کو ختم کرنے کی بڑی صلاحیت ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک شخص کے ٹی سیل دوسرے میں استعمال نہیں ہو سکتے۔

نومبر میں گریٹ آرمنڈ ہسپتال نے اعلان کیا کہ لیلا صحتیاب ہو گئی ہے۔ برطانوی پریس اس بہادربچی اور دلیر ڈاکٹروں کی دل کو گرما دینے والی خبر پر ٹوٹ پڑا۔ دو ہفتے بعد ہی ادویہ ساز کمپنیوں پی فائزر(Pfizer)اور سروئیر (Servier)نے 40ملین ڈالر سے اس طریقہ علاج کے حقوق حاصل کرلئے ہیں۔ لیلا کی صحتیابی کے بعد کینسر کے ماہرین نے اعتراف کیا کہ ترمیم شدہ جینز والے ٹی سیلوں سے کینسر اور ایڈز کے مریضوں کے علاج میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

معلوم قاتل
انسان کےمدافعتی نظام کو بیماریوں کیلئےقدرت کا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار ہے۔ اس میں ٹی سیلوں سمیت درجن کے قریب اقسام ہیں۔ ٹی سیلوں کا وائرس کیخلاف مدافعتی نظام اور اپنی یادداشت بھی ہوتی ہے۔ جس میں تمام ویکسین کی معلومات ہوتی ہیں۔ امریکی سرجن ولیم کُولے (William Cooley)نے 1893ء میں اپنے تجربات سے ثابت کیا کہ انسان کا اپنا مدافعتی نظام کینسر کا دفاع کر سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کو بتدریج معلوم ہو ا کہ انسانوں کا مدافعتی نظام کس طرح کینسر ٹیومر کیخلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ ایم آئی ٹی میں بائیولوجسٹ اور نوبل انعام یافتہ فلپ شارپ (Philip Sharp)کہتے ہیں کہ قریباً40سال سے سائنسدان جانتے ہیں کہ کینسر زدہ ٹیومر کے خلئے مدافعتی نظام سے رابطے میں رہتے ہیں۔ یہی رابطہ علاج میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ تاہم اب بھی ہم علاج کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

گزشتہ سال نئی کمپنیوں ایڈیٹاس میڈیسن (Editas Medicine)اور انٹیلیا تھراپیوٹکس (Intellia Therapeutics)نے کمپنیوں کے ساتھ ٹی سیلوں پر مبنی علاج کے معاہدے کئے۔ تحقیق کاروں نے سالہا سال یہ معلوم کرنے میں لگا دیئے کہ کس طرح ٹی سیل بیماریوں کے جراثیموں کے خلاف مدافعت کرتا ہے۔ یوسی ایس ایف (UCSF)میں سنتھیٹک بائیولوجسٹ (Synthetic Biologist)ونڈیل لِم (Windell Lim)کہتے ہیں کہ مائیکروسکوپ سے دیکھنے سے یہ معلوم ہوا کہ ٹی سیل گھوم پھر کرمتاثرہ سیلوں کو تلاش کرتے ہیں ان میں زہریلا مواد چھوڑتے ہیں جس سے متاثرہ سیل مرجاتے ہیں ۔ ٹی سیل دیگر سیلوں سے بات چیت کرتے ہیں، یہ متاثرہ سیلوں میں زہر منتقل کرتے ہیں، یہ یادداشت رکھتے ہیں، یہ ایک چھوٹے سے روبوٹ کی طرح کام کرتے ہیں۔

ونڈیل لِم نے بھی ٹی سیلوں کی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جسے اس نے سنتھیٹک امیونالوجی (Sythetic Immunology)کا نام دیا ہے۔ اس کے ترمیم شدہ ٹی سیل ہدف پر جاکر متاثرہ سیلوں کو ختم کردیتے ہیں۔ جگر، دماغ اور پھیپڑےکے ٹیومرز میں ٹی سیلوں کو داخل کرنے کی ٹیکنالوجی خطرناک ہے اس کے تجربات میں بعض مریضوں کی جان بھی چلی گئی۔ ٹی سیلوں کی اسی خامی کو دور کرکے انہیں مریضوں کیلئے دوستانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ٹی سیلوں کے ذریعے صرف کینسر سیلوں کو ہدف بنانا مشکل ہے۔ ونڈیل لِم نے اپنی نئی کمپنی سیل ڈیزائن لیبز (Cell Design Labs)قائم کی ہے۔

علاج کیلئے گوگل کرنا
اب نہ صرف دنیا کی بڑی ادویہ ساز کمپنیاں بلکہ ٹیکنالوجی کی فرمیں بھی اس میدان میں کود پڑی ہیں۔ شارپ کہتے ہیں کہ گوگل نے ایم آئی ٹی میں اینکالوجسٹ اور بائیو انجینئرز کے ساتھ دو کانفرنسیں کیں کہ اس قسم کے علاج میں حائل رکاوٹوں کا کون سا حصہ گوگل سرچ انجن پر پیش کیا جائے۔ اس طرح کے طریقوں سے مدافعتی نظام کے ٹیومر سیلوں میں کارروائی کے حوالے سے بڑا ڈیٹا جمع ہو جائے گا۔ اور نئی تحقیق سامنے آئے گی کہ اس نظام سے کیسے کام لیا جائے۔ تاہم گوگل کے لائف سائنس یونٹ ویریلی (Varily)نے ابھی تک کینسر کے تحفظاتی علاج کے بارے میں اپنا منصوبہ افشاء نہیں کیا۔ فیچر نگار لکھتے ہیں کہ وہ سابق فیس بک ملازم جیفری ہیمربیچر (Hammerbatcher)سے ملے جنہوں نے اب مائونٹ سینائی (Mount Sinai)میں اپنی لیبارٹری قائم کی ہے۔ وہ اپنے 12پروگرامرز کے ساتھ ٹی سیل پر تحقیق کیلئے بھی کچھ وقت صرف کررہا ہے۔ وہ مریض کے ڈی این اے کی ترتیب بتانے اور کینسر سیل میں ٹی سیل کے ردعمل کی پیش گوئی کرنے والا سوفٹ وئیر بنا رہے ہیں۔ جس کا اس سال مائونٹ سینائی میں تجربہ کیا جائے گا۔ اس سوفٹ وئیر کے ذریعے ٹی سیلوں کو کینسر متاثرہ خلئے پر حملہ کرنے کی تربیت دی جائے گی۔
گزشتہ سال جیونو تھراپیوٹک (Juno Therapeutic)کمپنی نے ٹی سیلوں کے ڈی این میں تبدیلی کرنے والی کمپنی اے بی وائٹرو (AB Vitro)کو خرید لیا۔ اب جیونوکینسر خلیوں میں کارکردگی دکھانے والے ٹی سیلوں کو تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جیونو کے چیف سائنسدان ہیام لیوٹسکی(Hyam Levitsky)کہتے ہیں کہ اب ٹیکنالوجی کی مدد سے جو تجربہ سات ماہ میں ہوتا تھا اب اسے سات دن لگتےہیں اور اوسطاً ایک تجربے سے 100گیگا بائیٹ کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

کینسر سے ہٹ کر
فائزر کمپنی کے جان لین (John Lin)نے بتایا کہ لیلا کے کیس سے پہلے ہی ہماری کمپنی سیلیکٹس سے ٹی سیلوں میں ترمیم کے حوالے سے بات چیت کررہی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ سالہا سال کی محنت سے اب کینسر کے علاج کی عملی شکل نکلنا شروع ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی سے محض لیوکیمیا یا کینسر کا علاج ہی نہیں ہو گا بلکہ انسانی سیلوں میں ترمیم کے بنیادی اصول سے وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ انسانی جسم کا حفاظتی نظام اس میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس کی مدد سے شوگر، جسمانی خلیوں کے غیرمعمولی ردعمل اور لیوپس جیسی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔ امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں وائرالوجسٹ (Virologist)ایڈورڈ برجر(Adward Berger)نے دریافت کیا کہ کیسے ایچ آئی وی کا وائرس انسانی سیل میں داخل ہوتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ وائرس پر مستقل نگرانی رکھنا شائد ممکن ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں کینسر پر ٹی سیل کے ذریعے کئے گئے کام سے متاثر ہوا ہوں۔ انہوں نے لیوکیمیا کی مریض بچی کو صحتیاب کردیا۔ ہم نے ان سے یہ ٹیکنالوجی لے لی ہے۔ دوسری بیماریوں کیخلاف انسانی جسم کے حفاظتی نظام کی انجینئرنگ کی جاسکتی ہے اور ایڈز کے مریضوں کو سب سے پہلے اس نظام سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regaldo)

Read in English

Authors

*

Top