Global Editions

کیا واقعی شمسی توانائی قدرکھو دیگی؟

سستی اور ماحول دوست توانائی کا حصول وقت کی ضرورت بنتی جا رہی ہے کیونکہ دیگر ذرائع خاص طور پر تھرمل یعنی فرنس آئیل سے تیار کی جانے والی بجلی ماحول دوست نہیں بلکہ یہ لاگت میں بھی زیادہ ہے اس لئے اب ہوا اور شمسی توانائی کے حصول کو سہل اور کم لاگت بنانے کے لئے بھی کام شروع ہو چکا ہے۔اس ضمن میں اہم سوال یہ ہے کہ سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کی شرح کو کس حد تک بڑھایا جا سکتا ہے،اور کس طرح اس کی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے کیونکہ جیسے جیسے مزید شمسی توانائی گرڈ میں شامل کی جائے گی اس کی اہمیت کم ہوتی جائے گی یہ معاملہ بالکل معاشیات کے اصول طلب وا رسد جیسا ہے یعنی جیسے جیسے رسد بڑھتی جاتی ہے طلب کم ہوتی جاتی ہے اور شمسی توانائی کے معاملے میں یہ اصول اور بھی واضح ہےکیونکہ شمسی توانائی کی رسد دوپہر اور سہ پہر کے اوقات میں زیادہ ہو گی لیکن اسی ہی دورانئے اس کی طلب محدود ہوتی جائے گی، نتیجہ یہ نکلے گا کہ شمسی توانائی خود اپنے ہی مقابل آ جائیگی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا میں سورج سے حاصل ہونے والی بجلی دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کا صرف ایک فیصد ہے، لیکن جیسے جیسے شمسی توانائی کو دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کے ساتھ شامل کرینگے تو یہ معاشی اعتبار سے ناموافق ہوتی چلی جاتی ہے۔ جی ٹی ایم ریسرچ (GTM Research) کے سربراہ شیلے کان(Shayle Kann) اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے فیلو وارون شیوارام (Varun Sivaram) نے حال ہی میں ٹیکساس اور جرمنی کے گرڈز سے متعلق ایک جائزہ رپورٹ تیار کی اس رپورٹ کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ شمسی توانائی کی پیداوار دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کے پندرہ فیصد تک پہنچنے پر اس کی قدر آدھی رہ جاتی ہے۔ کیلی فورنیا کے گرڈ کے حوالے سے جائزہ رپورٹ کے بعد بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جیسے ہی شمسی توانائی کی شرح دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کے پچاس فیصد ہو تو اس قدر صرف ایک تہائی رہ جاتی ہے۔ شیلے کان اور شیوا رام نے ان گرڈ سٹیشنز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ذیل کے گراف کے ذریعے پیش کیاگراف لگانا ہے۔

تحریر : مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top