Global Editions

کیا سائبر سیکورٹی مجرموں اور دہشت گردوں کو روک پائے گی؟

آج کے دور میں متعدد تکنیکی سیکورٹی ناکامیوں کی بڑی وجہ ڈیٹا کی حفاظت کے لئے مناسب اقدامات کا نہ ہونا ہے۔ 2014ء اور 2015ء میں نامعلوم ہیکرز اور ممکنہ طور چینی حکومت کے ایماء پر 21.5 ملین امریکی باشندوں، سرکاری ملازمین اور دیگر کی ذاتی معلومات پر مبنی فائیلیں چرائی گئیں۔ اگر حکومتوں اور دیگر اداروں نے حفاظتی انتظامات یقینی بنائے ہوتے تو ایسا ہونا یقینی طور پر ممکن نہ تھا۔ متعدد مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ڈیٹا چرایا گیا یا اسے نقصان پہنچایا گیا۔ ایسی کئی کارروائیوں میں ہدف Heart land Payment Systems اور T.J. Maxx رہے۔ کئی ممالک میں حکومتیں خود ایسی کارروائیوں میں ملوث پائی گئی ہیں جن میں شہریوں کی ذاتی معلومات کو محض اس بناء پر چرائی گئیں کہ وہ مخالفانہ آوازیں خاموش کرنا چاہتی تھیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی اعلی افسر اس ضمن میں یہ دلیل پیش کرتے پائے گئے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف تحقیقات میں آسانی ہوتی ہے بلکہ عدالتوں میں جرم کو ثابت کرنے میں بھی مدد ملتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کارروائیوں کی مدد سے مجرموں اور دہشت گردوں کو اندھیرے میں رکھنا بھی رکھنا ممکن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ قانون نافذ کرنے اداروں کی کارکردگی سے متعلق کوئی اندازہ قائم نہیں کر سکتے۔ اسی ضمن میں ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی (James Comey) نے 2014؎ء میں بروکنگز انسٹیٹیوٹ میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا تھا جو درج بالا سطور سے ہی متعلق تھا تاہم یہ سوچ خطرات کا خاتمہ نہیں کر سکتی محض ان کو کم کر سکتی ہے۔ ہم معلومات تک رسائی کا ایسا نظام وضع نہیں کر سکتے جو خاص طور پر شہریوں کے لئے ہو یا چند اخلاقی میعارات کے تابع ہو یا اس کو قانونی تحفظ حاصل ہو؟ اگر ایف بی آئی صارف کے موبائل فون پر موصول ہونے والے ٹیکسٹ پیغامات یا کمپیوٹر ہارڈ ڈسک تک رسائی حاصل کر سکتی ہے تو دہشت گرد ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ اب پیرس حملوں کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہریوں کی ذاتی معلومات جن میں موبائل پیغامات اور دیگر ڈیٹا شامل ہے تک رسائی میسر ہونی چاہیے، اور کیا یہ راستہ درست ہے۔ میرے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ معلومات تک رسائی کے لئے حفاظتی انتظامات کم ہیں اگر ایسا ہے تو ان انتظامات کو مزید سخت ہونا چاہیے۔ یقینی طور پر دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دسترس سے دور رہنے کے لئے اپنی منصوبہ بندیوں کو محفوظ بنا رہے تھے، محفوظ بنا رہے ہیں اور محفوظ بناتے رہیں گے اور وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے معاشرتی ڈھانچوں، گاڑیوں، ریستورانوں اور ذرائع مواصلات کو بھی استعمال کریں گے اور انہیں نشانہ بھی بنائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں ان سہولیات سے ایماندار اور بے ایمان شہری مستفید ہونگے۔ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ دہشت گردوں اور مجرموں کی شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی ممکن نہ ہو اور اس کے لئے سائبر سیکورٹی کے لئے جدید نظام وضع کرنا ہونگے اور اس کے لئے ٹیکنالوجی کو مزید موثر انداز میں بروئے کار لانا ہو گا۔

تحریر: بروس شینائر (Bruce Schneier)

Read in English

Authors
Top