Global Editions

کیا ایف بی آئی کو ایپل کے ڈیٹا تک رسائی ہونی چاہئے؟

امریکہ میں یہ بحث بڑے زور شور سے جاری ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سمارٹ فون کے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی ہونی چاہئے یا نہیں۔ صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے معاملے پر ایف بی آئی اور ایپل کا کیس بہت مشہور ہے۔ ایف بی آئی کا موقف ہے کہ اسے قانون کے نفاذ، انصاف کی فراہمی کی شفاف تحقیق کیلئے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی ہونی چاہئے۔ جبکہ ایپل کا موقف ہے کہ اس سے صارفین کی پرائیویسی کا حق متاثر ہوتاہے۔

12جون 2010ء کی شام جب ڈیون گاڈ فرے (Daven Godfrey)کو ہارلم (Harlem)میں ان کے اپارٹمنٹ میں قتل کردیا گیا تھا تو نیویارک پولیس کے افسران نے سوچا کہ انہیں پتہ ہے کہ یہ قتل کس نے کیا۔ سیکورٹی کیمرے ملزم کے قتل کے ممکنہ وقت میں داخلے کے بارے میں اپارٹمنٹ میں داخلے اور واپس جانے کے بارے میں ویڈیو بنا چکے تھے۔ استغاثہ کے پاس گرینڈ جیوری کو قائل کرنے کیلئے حقائق جمع کرنے کیلئے صرف ایک ہفتہ ہے۔ لہٰذا مین ہٹن میں اٹارنی جنرل آفسکے پراسیکیوٹر جارڈن آرنلڈ (Jordan Arnald) نےثبوت تلاش کرنے شروع کردیئے۔ گاڈفرے کے اپارٹمنٹ میں پولیس کو اس کا آئی فون ملا ۔ آرنلڈ نے سیل فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ایک جاسوس کو ایپل کے دفتر بھیجا تا کہ وہاں سے آرنلڈ کو مطلوب ڈیٹا حاصل کرےجس سے پتہ چل سکےکہ آخری ٹیکسٹ اور کالیں کب کی گئی تھیں۔ دریں اثناء تفتیش کاروں نے اپارٹمنٹ میں نگرانی کے کیمروں کی ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا۔ نئے شواہد کے ساتھ کیس کی صورتحال اچانک بدل گئی۔ آخر پولیس نے رافیل روزاریو (Rafael Rosario)کو گرفتار کرلیا گیا جس نے اعتراف جرم بھی کرلیا اور جسے سزا سنا دی گئی ۔

گاڈفرے کے قتل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایپل نے آئی فون پر اپنی سیکورٹی سخت کردی ۔ تو کیا اب کوئی پولیس والا ان سے معلومات حاصل نہیں کرسکتا۔ ڈیجیٹل ثبوت یہ بتا سکتے ہیں کہ کب اور کہاں آلات استعمال کئے گئے۔ آرنلڈ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں رابطے کی فہرست یا ٹیکسٹ پیغامات تک رسائی نہیں حاصل ہوتی تو شاید ہماری تفتیش صرففوٹیج تک ہی محدود رہ جائے اور انتظار کریں کہ کوئی آئے اور کہے کہ ہاں میں اس شخص کو پہچانتا ہوں۔ کیا ہم واقعی ان ثبوتوں تک رسائی نہیں دینا چاہتے جو پولیس پراسیکیوٹرز، ججوں سچائی اور انصاف تک رسائی میں مدد دے سکے؟ یہ وہ اہم سوال ہے جو اس وقت ایپل اور ایف بی آئی کے تنازعہ میں کہیں کھو گیا۔ جب ایپل نے سید رضوان فارق اور اس کی بیوی کا ڈیٹا دینے سے انکار کر دیا جنہوں نےسان برنارڈینو کیلیفورنیا میں 14لوگوں کو مار دیا اور 22افراد کو زخمی کیا۔ تفتیش کاروں کے پاس بہت سی معلومات تھیں جن کی بنیاد پر انہیں معلومات ہوا کہ رضوان فاروق کا ڈیٹا آئی فون کلائوڈ پر موجود ہے۔ ایف بی آئی نے رضوان فاروق کے ایک دوست کو گنز خرید کردینے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ بالآخر ایف بی آئی کو راستہ مل گیا۔

یہ کیس گاڈ فرے سے خاصا مختلف تھا۔ مقامی پولیس کے پاس ایف بی آئی سے بہت کم وسائل ہوتے ہیں۔ جو ثبوت کیمرے، نوٹ پیڈ ، ایڈریس بکس، کیلنڈرز اور روزنامچے میں موجود ہوتے ہیں لیکن انہیں آج کل انہیں سمارٹ فون سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گاڈ فرے کے کیس میں سیل فون سے خاصے ثبوت مل گئے تھے۔ یہ دلیل نہیں دی جاسکتی کہ ہمیں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرنے کیلئے سمارٹ فون کو کھول دینا چاہئے۔ ایک آزاد معاشرے میں آزادی اور سلامتی کے تحفظ کیلئے کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جس سے مجرموں کو راہ فرار مل جاتی ہے۔ ثبوت ہمیشہ الجھن، نااہلی ، بروقت کام نہ کرنے سے کھوجاتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے اپنے راز بند فائلوں، تجوریوں اور ذہنوں میں محفوظ ہوتے ہیں۔ اگر سمارٹ فونز لاک ہیں تو تصویروں، کیلنڈرز، اور پیغامات کی ٹریفک کی صورت میں تمام ثبوت ختم ہو جائیں گے۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ثبوتوں تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ ایف بی آئی نے کلائوڈ سے رضوان کا ڈیٹا حاصل کرنے کا جو راستہ اختیار کیا تھا اسے ایپل بتدریج بند کردے گا۔ لیکن اس وقت کیا ہو گا جب ڈیٹا محفوظ کرنے کا یہ رحجان انصاف کی فراہمی اورتفتیشکے نظام کو کمزور کردے گا۔

تبدیلی کا جائزہ لیں

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے (James Comey)نے 2014ء میں عوامی فورم پر خبردار کیا کہ سمارٹ فون کے ڈیٹا کو محفوظ تر بنانے کا نیا رحجان مجرموں کو اندھیرے میں دھکیل رہا ہے۔ حقیقت میں 2011ء سے ڈیجیٹل ثبوت وافر مقدار میں میسر آنا شروع ہوئے۔ پرائیویسی کی حمایت کرنے والے سکالرزپیٹر سوائر (Peter Swire)اور کنیسا احمد (Kenesa Ahmad)کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ نگرانی کرنے کا سنہری دور تھا۔ پرائیویسی کی حمایت کرنے والے وہ اور دیگر افراد کا قانون نافذ کرنے والے حکام سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ دہشت گرد، مختلف مسلح جتھوں کے سربراہ اور دیگر جرائم پیشہ افراد خود کو محفوظ کرنے کیلئے اپنے ڈیٹا کو تحفظ (encryption)میں لے آتے ہیں۔

اب ہمیں صرف یہ بات جاننی ہے کہ کیا زیادہ سے زیادہ لوگ کمپیوٹنگ یا ڈیوائس پر بات چیت کرتے ہیں اور اپنے ڈیٹا کو محفوظ بنا لیتے ہیں اور اگر کوئی زیادہ مرتبہ غلط پاس ورڈ دیتا ہے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے کی کوشش کرتا ہے توڈیٹا ناقابل رسائی ہو جاتا ہے۔ جب سے ایپل نے 2014ء میں اپنے آئی فون اور آئی پیڈ کیلئے آپریٹنگ سسٹم بنایا ہے اور گوگل نے اس کی نقل کی ہے ، ثبوت ضائع ہو رہے ہیں۔ ڈیٹا کا اس طرح کا تحفظ نہ صرف چالاک مجرموں کے بارے میں تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی تحقیقات میں رکاوٹ ہے۔ امریکی ریاست لوزیانا کے علاقے بیٹن روج (Batton Rouge)میں تفتیش کار اس وقت مشکل میں پڑ گئے جب انہیں آئی فون سمیت 60لاک موبائل فون ملے جن میں سے ایک میں 29سالہ عورت اور 8ماہ کی حاملہ برٹنی ملز کا تھا جسے اس کے گھر کی دہلیز پر گولی مار دی گئی تھی۔ پولیس یہ تو جانتی تھی کہ کن لوگوں نے ملز کو اس روز ٹیکسٹ پیغام بھیجا یا کال کی لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے کیا کہا۔ ان لوگوں میں کوئی بھی مشتبہ نہیں تھا۔ البتہ ملز کا آئی فون اہم ثبوت ہو سکتا تھا۔ اس کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ آئی فون پر ڈائری لکھنے کی عادی تھی۔ لیکن اس نے تین ماہ کیلئے ایپل کی آئی کلائوڈ سروس حاصل نہیں کی تھی۔ کوئی بھی اس کا پاس کوڈ نہیں جانتا تھا اور ایپل نے فون کھولنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ نگرانی کا سنہری دور ختم ہو رہا تھا۔ سیکورٹی کنسلٹنٹ پال روزنوائیگ (Paul Rosenweig)کہتے ہیں کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ڈیٹا نہ بھی دیا جائے تو بھی ہمیں ان کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کیسز پر تفتیش کرتے ہوئے سیل فون کا ڈیٹا نہیں مانگتے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تین سالوں میں بہت بڑی تبدیلی نظر آئی ہے۔

ایم آئی ٹی کے کمپیوٹر سائنسدان ہیل ایبلسن (Hal Abelson)کہتے ہیں کہ موبائل فون میں میڈیکل ڈیٹا اور ادائیگیوں کا حساب موجود ہوتا ہے، اس سے سیکورٹی ہٹانے سے تباہ کن نتائج برامد ہوں گے۔ موبائل فون کے ڈیٹا کا تحفظ بہت ضروری ہے اگر یہ تحفظ پولیس کیلئے مسئلہ پیدا کررہا ہے تو یہ بات غلط ہے۔ مین ہٹن شہر کے ڈسٹرکٹ اٹارنی سائرس وینس جونیئر (Syrus Vance Jr.)کہتے ہیں جب سے ایپل نے ڈیٹا پر پابندی لگائی ہے ، ان کے دفتر میں 215مقدمات کے وارنٹس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ایبلسن نے رائے دی کی جس طرح ایف بی آئی نے سان برڈینو میں آئی فون کے کوڈ کو توڑ کر معلومات حاصل کی تھیں اسی طرح وینس کو بھی فونز کے کوڈ توڑنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ کیونکہ ان کا خیال نہیں کہ ایپل نئے سرے سے آئی فون ڈیزائن کرے گا۔ لہٰذا پولیس اہلکار محفوظ ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ میں نے وینس سے پوچھا کہ کیا فون سے معلومات نکالنے کے سوا کوئی اور طریقہ مقدمات حل کرنے کا نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ مشکل ہے۔

کیا تم پاگل ہو؟

وینس کا کہنا ہے کہ ڈیٹا حاصل کرنے کا سیدھا راستہ تو یہ ہے کہ وفاقی حکومت قانون سازی کرے جس میں سمارٹ فون آپریٹنگ سسٹم بنانے والوں کو پولیس کو تفتیش کیلئے مطلوب ڈیٹا فراہم کرنے کا پابند کیا جائے جو سرچ وارنٹ اور ڈیوائس لے کر آئیں جیسا کہ انہوں نے 2014ء میں کیا تھا۔ وینس کی تجویز کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے ڈیٹا کو محفوظ نہ بنائیں لیکن کم از کم یہ تونہیں ہو گا کہ فون کی ہر چیز ہی پولیس کیلئے نامعلوم ہو جائے۔ وینس اس بات کا قائل ہے کہ سیل فون کی بنیاد پر مقدمات کی تعداد بڑھنے سے پہلے حکومت کو اس پر قانون سازی کرلینی چاہئے۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ مین ہٹن میں ایک شخص ویڈیو بنا رہا تھا جب اسے گولی ماری گئی۔ اگر ویڈیو میں ثبوت موجود ہے تو پولیس اہلکار کیوں ویڈیو دیکھنے سے محروم رہیں ؟کیا اس لئے کہ وہ آئی فون کا ڈیٹا ہے؟
یہ کہنا بہت آسان ہے کہ یہ نگرانی کا سنہری دور ہے جبکہ آپ سیل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سچائی سامنے آئے تاکہ حقائق کی بنیاد پر انصاف فراہم کیا جاسکے تو پھر آپ میری پوزیشن میں آجاتے ہو۔ تب آپ میری جگہ پر آجاتے ہو اور لوگوں سے کہتے ہو کہ کیا آپ پاگل ہیں ؟کیا آپ نہیں چاہو گے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اہم ثبوت تک رسائی حاصل ہو؟وینس کہتے ہیں کہ آخر گوگل اور ایپل کیوں چاہتے ہیں کہ ان سے دیگر کارپوریشنوں سے ہٹ کر سلوک کیا جائے۔ دو کمپنیاں جو دنیا کے 96فیصد سمارٹ فون چلا رہی ہیں کیا وہ خود طے کریں گی کہ کیا پرائیویٹ ہونا چاہئے اور کیا پبلک؟ہمیں انہیں کہنا چاہئے کہ وہ طریقہ اپنائیں جو بنکوں نے اپنا رکھا ہے۔

شہری آزادیاں

ایف بی آئی کیخلاف ایپل کا قانونی نقطہ یہ تھا کہ ڈیٹا زبردستی حاصل نہیں کیا جانا چاہئے جیسے سان برناڈینو میں فون سے حاصل کیا گیا۔ ایف بی آئی نے کمپنی کے کیخلاف 1789ء کے قانون آل رٹس ایکٹ (All Writs Act)کا سہارا لیا۔ جو وفاقی عدالتوں کو قوانین پر عملدرآمد کرنے کیلئے احکامات جاری کرنے کا حق دیتا ہے۔ ایپل نے موقف اختیار کیا کہ یہ عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں ہے اس کی صرف کانگرس اجازت دے سکتی ہے۔ کوئی جج انفرادی طور پر فیصلہ نہیں کرسکتا کہ سمارٹ فون بنانے والوں کو کیا کرنا ہے۔ تاہم ایک اور کیس میں جج نے ایپل کی موقف تسلیم کرلیا اور تفتیش کاروں کو آئی فون کے ڈیٹا تک رسائی دینے سے انکار کردیا۔

لہٰذا ایک بات پر تو ایپل کمپنی وینس کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتی ہے کہ کانگرس کو ڈیٹا تک رسائی پر قانون سازی کرنی چاہئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح ؟ ایپل نے تاہم اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ نئے قانون میں کیا ہونا چاہئے اور تجویز دی کہ انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور شہری آزادیوں کے ماہرین پر مشتمل کمیشن بنایا جائے جو قانون کے مندرجات تجویز کرے۔ لیکن ایپل کے سی ای او ٹِم کُک (Tim Cook)کو اعتماد ہے کہ پینل کوئی ایسی تجویز نہیں دے گا جس سے ڈیٹا کے تحفظ کے حق پر زد آتی ہو۔ ٹائم میگزین کو ایک انٹرویو میں کُک نے بتایا کہ ممکنہ طور پر جدید سمارٹ فونز میں انصاف کیلئے بھی کوئی راہ چھوڑی جانی چاہئے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ تفتیش کاروں کو روک کر ہیکرز کیلئے میدان کھلا چھوڑ دیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ پولیس کی مدد کیلئے ایک راستہ دیکھ سکتے ہیں۔ اگر تفتیش کاروں کو آپ سے تفتیش کرنی ہے تو وہ آپ کے پاس آکر کہہ سکتے ہیں کہ اپنا فون کھول دیں۔ وہ ایسا قانون بنا سکتے ہیں کہ آپ کو فون کھولنے پر مجبور کیا جاسکے اور نہ کرنے کی صورت میں آپ کو کچھ جرمانے کا سامنا کرنا پڑے۔لیکن ایسے قوانین تو برطانیہ سمیت کئی ممالک میں موجود ہیں۔ اگر کُک کی تجویز مان بھی لی جائے تو قتل ہونے کی صورت میں مقتول کا فون کیسے کھلے گا جیسے گاڈ فرے اور برٹنی کو قتل کردیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک ملزم جسے جرم کی صورت میں کئی سال جیل میں گزارنے کا خدشہ درپیش ہے وہ توہین عدالت کے جرم کی چھوٹی سزا پر خوش رہے گا۔ تو کیا یہ سوچا جائے کہ ایپل کمپنی شہری آزادیوں اور پرائیویسی کے حقوق کیلئے لڑ رہی ہے؟ یا پھر وہ اپنے صارفین کو ایسا سیل فون بیچنا چاہتی ہے جو وہ چاہتے ہیں خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں؟یہ بات قابل فہم ہے کہ ایپل اپنے صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ایپل کو ایسی اجازت دینے سے معاشرے کی کوئی بہترخدمت نہیں ہوگی۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ (Brookings Institute)میں نیشنل سیکورٹی اور گورننس کی سٹڈی کرنے والی سوزن ہینیسی (Susan Hennessey)کہتی ہیں کہ اس بحث کو کمپنی پر چھوڑدینا کوئی اچھا خیال نہیں ہے۔ انہوں نے کمپنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی کمپنی پوری طرح سے یہ بات نہیں سمجھ سکتی کہ ہماری قومی اقدار کیا ہیں۔

تحریر:برائن برگسٹین (Brian Bergstein)

Read in English

Authors

*

Top