Global Editions

کیاسائبر دہشتگردی کے خلاف سلیکون ویلی امریکی حکومت کا ساتھ دیگی ؟

سیاستدان ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو داعش کیخلاف جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیا اس کی کوئی وجہ سمجھ میں آتی ہے؟
امریکہ چاہتا ہے کہ سلیکون ویلی بھی دہشتگردی کی جنگ کیخلاف اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کیونکہ امریکی اعلیٰ مقتدر حلقوں میں ایک اہم سوال گردش کررہا ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ ہم داعش یا دیگر دہشتگرد تنظیموں کو انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتی کرنے، لوگوں کو اپنی طرف دہشتگردی یا تشدد کیلئے راغب کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ اس سوال کا عملی جواب حاصل کرنے کیلئے اوباما انتظامیہ کو انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی خدمات فراہم کرنےوالی بڑی کمپنیوں کے ساتھ میٹنگ کرنے پر مجبور کردیا۔ جس پر اوباما انتظامیہ کے حکام نےسلیکون ویلی میں سماجی رابطوں کی خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں فیس بک(Facebook)، ٹوئٹر(Twitter)، مائیکروسوفٹ (Microsoft)، لنکڈ ان(Linkedin)، یوٹیوب(Youtube)اور ایپل کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کی۔ حکومت کی طرف سے اس اہم اجلاس میں امریکی اٹارنی جنرل، وہائٹ ہائوس ،ایف بی آئی اور این ایس اے کے حکام شریک ہوئے اس اجلاس کا ایجنڈا یہ تھا کہ دہشتگردوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتی اور انہیں نوجوانوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے سے روکنےکیلئے کون سے اقدامات اٹھائے جائیں؟

اس سے پہلے جب کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو(San Bernardino)میں داعش نے دہشتگردی کی تھی تب سے اوباما انتظامیہ سلیکون ویلی کو دہشتگردی کیخلاف شامل ہونے کا مطالبہ کررہی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن (Hillary Clinton)نے اپنی مہم کے دوران تقریر میں کہا کہ ”
ہم انتہائی مہارت کے حامل ایسے لوگ چاہتے ہیں جو انٹرنیٹ کے محاذ پر داعش کا مقابلہ کرسکیں۔”
اسی طرح ریپبلکن کے امیدوار ڈونلڈ ٪ٹرمپ (Donald Trump)نے اپنے صدارتی مباحثہ میں کہا کہ
“میں سلیکون ویلی کے اپنے ذہین لوگوں سے کہوں گا کہ داعش کو محدود کرنےکیلئے کام کریں”۔

یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ انٹرنیٹ سے کس طرح کام لیا جارہا ہے اور سیاستدان کتنی بےچینی سے چاہتے ہیں کہ سلیکون ویلی دہشتگردوں کیخلاف کچھ کرے۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اوباما، کلنٹن ، ٹرمپ یا دیگر سیاستدانوں کےذہن میں آخر کیا ہے؟بڑی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز ان کے مطالبے پر کیسا ردعمل ظاہر کریں گے؟کیونکہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد بہت سی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ، واشنگٹن کے ساتھ براہ راست تعلق جوڑنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس ایسا منصوبہ ہے کہ وہ نجی شعبے کی صنعتوں کو اس قسم کے اشتراک میں کام کرنے پر آمادہ کرے جو امریکی آئین کی پہلی، چوتھی اور پانچویں ترمیم کیخلاف ہے۔ اور اگر کوئی تعاون کی صورت نکل آتی ہے تو کیا یہ موثر ہوگی؟ ہیلری کلنٹن نے اس بات پرزور دیا کہ
“بنیادی چیز یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومت کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں باہمی تعاون کیلئے ایک دوسرے کیخلاف مخالفانہ سوچ کو ترک کرناہوگا۔ “

خفیہ ایجنسیوں کیخلاف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مخالفت ایک نیا رحجان ہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں اس کے برعکس بتاتی ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نے 1920ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران تمام ٹیلی گراف اور ٹیلگرام تک امریکی خفیہ ایجنسیوں کی رسائی ممکن بنائی تھی۔ 1950ء میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی، اے ٹی اینڈ ٹی (AT&T)اور بعد میں بےبی بیل (Baby Bell)کے اشتراک سے فون لائنوں کی نگرانی کی گئی۔ اس وقت ساری انڈسٹری ہی ریڈیو اور مائیکروویو سگنل پکڑنے اور انہیں ڈی کو ڈ کرنے میں لگ گئی تھی۔ اس کے بعد جب دنیا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک پہنچی تو سیلیولر اور انٹرنیٹ کمپنیوں نے بعض اوقات عدالتی احکامات کے تحت اور اکثر اوقات اپنی رضامندی سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی اس پرانی روایت کو برقرار رکھا۔ جواباً حکومت بھی ان کی بہت سے معاملات میں حمایت کرتی رہی۔ مثلاً این اایس اے کے دو سینئر افسران نے مجھے بتایا کہ جب مائیکروسوفٹ نے اپنی پہلی ونڈو تیار کروائی تو انفارمیشن اشورنس ڈائریکٹوریٹ (Information Assurance Directorate)نے اس کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے اس میں 1500کے قریب خامیاں دریافت کیں اور انہوں نے صرف چند کو چھوڑ کرتمام خامیوں کو دور کرنے میں مدد دی۔چند خامیاں اس لئے چھوڑ دیں تاکہ این ایس اے ان سے اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔

جون 2013ء میں سنوڈن کے انکشافات نے دنیا پر امریکی خفیہ ایجنسیوں کے تمام معاملات کھول کر رکھ دئیے۔ جس نے بہت سی کمپنیوں کے سربراہوں کو اس خوف میں مبتلا کردیا کہ امریکہ کی بنی ہوئی ونڈوز اور دیگر سوفٹ وئیر میں کچھ ایسی خفیہ کھڑکیاں کھلی چھوڑ دی گئی ہوں گی جن کے راستے سے این ایس اے کا ادارہ داخل ہو کر مطلوبہ معلومات حاصل کرتا ہوگا۔ اسی لئے ایپل نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کیلئے آئی او ایس ایٹ (IOS8)متعارف کروایا جس میں یوزر اپنا پاس ورڈ خود رکھتاہے۔ ایپل نے این ایس اے کو “پاس ورڈ کی “فراہم نہیں کی کیونکہ یہ خود ایپل کے پاس بھی نہیں بلکہ یوزر کے پاس ہوتی ہے۔

دوسری طرف داعش کے خطرے نے ماحول کو قدرے تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک دوسرے کے قریب آگئیں اور نرم رویہ اختیار کرنے لگیں۔ اس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ سلیکون ویلی کی کمپنیوں کو یہ پسند نہیں کہ داعش یا دیگر دہشتگردتنظیمیں ان کے نیٹ ورک ، ویب سائیٹس اور سرورز کو اپنی مرضی کے مطابق جیسے چاہیں استعمال کریں۔ لہٰذا اصولی طور پر کمپنیاں واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے یا کم از کم سائبر دہشتگردی کا جواب دینے کا فیصلہ کرچکی ہیں ۔

کچھ کمپنیاں تو پہلے ہی اس پر کام کررہی ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر نے دہشتگردوں کی طرف سے بھیجے گئے پیغامات کو روکنے اور انہیں ختم کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ تاہم ان کی کوششیں زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہو رہیں کیونکہ جیسے ہی پرانی سائٹس کو روکا جاتاہے، نئی ویب سائٹس اور پیجز ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔ لیکن آن لائن نفرت انگیز مواد کو ختم کرنے کے اور بھی طریقے ہیں۔ اگرچہ سان جوز کے اجلاس میں ان باتوں کا ذکر نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود دہشتگردی کیخلاف لڑنےکیلئے نئی اصطلاحات مثلاً “معلومات پر مبنی کارروائیاں” (Information Operations)، معلومات کی جنگ (Information Warfare)، سائبرجنگ (Cyber warfare)کو سامنے رکھتے ہوئے کام کیا جارہا ہے ۔

جب امریکہ نے 2007ء میں عراق جنگ میں جارج ڈبلیو بش (George W. Bush)اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس (General David Patiraeus)کی زمینی حکمت عملی کو آگے بڑھایا تو اس کے ساتھ نہایت خفیہ انداز میں ایک دوسرے شعبے میں بھی کام کیا گیا جس پر کھلے عام بات نہیں کیجاتی تھی۔ امریکی سپیشل فورسز نے باغیوں کے کمپیوٹرز کو تلاش کیا، این ایس اے کے سائبر وار کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے ان کے یوزر نام اور پاس ورڈ ڈھونڈے ۔ تب ان کے نام سے مختلف جنگجوئوں کو ای میلز بھیجی گئیں کہ آپ مقررہ مقام اور مقررہ وقت پر پہنچیں جہاں پر امریکی فوجی پہلے سے ہی انہیں مارنے کیلئے موجود ہوتے تھے۔ چند مہینوں کی کوششوں سے 4000اجنگجوئوں کو مار دیا گیا جبکہ 22این ایس اے تجزیہ کار اس وقت سڑک کے کنارے نصب بم دھماکوں سے ہلاک ہو گئے جب وہ متعلقہ کمپیوٹرز پر کام کرنے والوں کو پکڑنےجارہے تھے۔

سان جوز کے اجلاس میں انٹرنیٹ کمپنیوں کے سربراہوں اور حکومتی افسران نے داعش کے خلاف بہت سے منصوبوں پر بات کی جن پر عملدرآمد اب زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔ دراصل جنگجوئوں کو اس طریقے سے مارنے کیلئے زمینی فوج اور صدارتی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن داعش کے کمپیوٹروں کو ہیک کرنے، فیس بک اور ٹوئٹر پر دہشتگردوں کی نئی بھرتیوں کو روکنے کیلئے ان کا پیچھا کرنے اور ان کی ای میلز کا جواب دینےکیلئے صدارتی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طریقہ کار کے تحت دہشتگردوں کے انٹرنیٹ پر بنے اکاوئنٹس، ای میل ایڈریسز، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کے نام، ان کی ویب سائٹس تلاش کرکے اور وہاں سے جمع ہونے والی معلومات کا شخصیت کی بنیاد پر تجزیہ کیا جاتا ہے پھر اُن مخصوص افراد کی نشاندہی کی جاتی ہے جو دہشتگردوں کے پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے ہیں۔ بھرتی کرنے والی دہشتگرد تنظیموں اور ان کے کارکنوں کے پیغامات کو پکڑ کر ان کی شکل مسخ کردی جاتی ہے ۔ یا پھر نئے دہشتگردوں کو بھرتی کرنے کیلئے متاثر کرنے والے پیغامات کو بدل کر ان کی جگہ مضحکہ خیز پیغامات لگادیئے جاتے ہیں ۔ اس طریقہ کار کے تحت بھرتی کیلئے متاثرہ افراد کو ہتھیار اٹھانے سے پہلے دو بار سوچنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ سائبر سیکورٹی کے ماہر اور 13سال سے ٹیررازم ریسرچ سینٹر چلانے والے میٹ ڈیووسٹ (Matt Devost)کہتے ہیں کہ

“اگر دہشتگردوں سے اختلاف رائے رکھنے والی آواز بلند کی جائے تو اس سے پراپیگنڈے کا توڑ کیا جاسکتا ہے۔ ”
اوباما انتظامیہ دہشتگردوں کے آن لائن پراپیگنڈےکا توڑ کرنے کیلئے اسی قسم کے طریقے اپنارہی ہے۔
ان طریقوں کو اپنانے سے کچھ نتائج بھی سامنے آئے مثلاً 2014ء میں داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی نے ایک پیغام بھیجا کہ
’’ ـــــانہیں حرمین کی زمین پر لڑنےکیلئے ہمیں لوگوں کی ضرورت ہے (اس سے مراد سعودیہ کی زمین تھی)۔ ‘‘
ایک شخص محسن ارائیں (Mohsin Arain)نے اس کے جواب میں لکھا کہ
’’ـ معذرت دوست ! میں اگلی سٹار وار سے پہلے مرنا نہیں چاہتا۔ ‘‘
ایک اور شخص زے زادہ (Zay Zadeh)نے لکھا کہ
’’معذرت میں خیرات دے کر حقیقی مسلمان بننے کی کوشش کررہا ہوں۔ ‘‘
ایک اور شخص حسین اولاد نے جواباً لکھا کہ
ـ’’ اسے پھر کسی اور کیلئے اٹھا رکھتے ہیں کیونکہ میری ماں نے میرے لئے بہت لذیذ دلیہ بنایا ہے۔ ‘‘
ذرا تصور کریں کہ ایسے ہی ہزاروں پیغامات داعش کے پیغام کے جواب میں دئیے جائیں تو دہشتگرد تنظیم کے پراپیگنڈے اور ان کی بھرتی کا کیا حشر ہو گا۔ اس لئے پراپیگنڈہ لائن کھلی رکھنے اور اس پر زہریلے پیغامات کا جواب دینا اسے بند کرنے سے کہیں زیادہ موثر ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر جہادی رہنما پراپیگنڈےکے جواب میں دیئے گئے پیغامات کو جھوٹا بھی قرار دے دیں تو وہ لوگ جو اپنے بیڈ رومز یا تہہ خانے میں بیٹھےپڑھ رہے ہیں وہ انہیں حقیقی ہی سمجھیں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی مہم انٹرنیٹ کمپنیاں چلائیں گی یا حکومت؟قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ایسے کاموں کیلئے مطلوبہ وسائل، ماہرین اور ادارہ جاتی مینڈیٹ تو پہلے سے ہی موجود ہے لیکن کمپنیوں کو اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کردار خاموش مگر موثر ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگرانہیں پتہ چلے کہ کچھ انٹیلی جنس ایجنسیاں کسی خاص ویب سائٹ کی نگرانی کرہی ہیں تو وہ اسے بند نہ کریں۔ یا پھر اس ویب سائٹ کو بنانے والے کی تلاش میں مدد دے سکتی ہیں تاکہ خفیہ ایجنسی پچھلے دروازے سے اس کے سرور میں داخل ہو سکیں۔آخر میں بات صرف یہی ہے کہ حکومت سلیکون ویلی کو دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں اپنے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتی ہے۔

تحریر: فریڈ کیپلان (Fred Kaplan)

Read in English

Authors

One Comment;

*

Top