Global Editions

کھلی نگرانی

خفیہ تحریر نگاری سے الیکٹرانک تفتیش کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ جمہوریت کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ قانونی عمل عوام الناس کے سامنے ہو اور اس عمل کو نہ صرف شفاف رکھا جائے بلکہ اس پر عوامی اعتماد برقرار رہے۔ قانون سازی کا عمل کھلے بحث ومباحثے کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ ہر شہری آگاہ ہو سکے کہ انہیں کس طرح کے چیلنجز درپیش ہیں اور اس کے تدارک کے لئے کونسا قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ایسی ہی قانون سازی کے ذریعے حکومت کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ کسی شہری کی املاک کی تلاشی سے پہلے وارنٹ جاری کرے۔ اسی طرح اب ہمارے معاشرے میں الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال عام ہے اور ایک جمہوری معاشرے کے طور سائیبرسپیس کے لئے بھی قانون سازی کے عمل کو سب کے لئے اوپن ہونا چاہیے لیکن افسوس ایسا نہیں۔ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا قیام دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا تھا اور اس کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ یہ ادارہ جنگ کے دوران مخالفوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ بعدازاں اس ادارے نے اہم فوجی ادارے کی حیثت اختیار کر لی اوراس نے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے دونوں محاذوں پر ہماری اور مخالفوں کی خفیہ نگرانی کا کام شروع کر دیا۔ ابھی تک یہ ادارہ بیرونی مخالفوں کی خفیہ نگرانی کی انٹیلیجنس ایجنسی ہے لیکن اب یہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی ڈی فیکٹو طور پر قانون نافذ کرنے والا ادارہ بھی بن چکا ہے اور یہ دیگر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی طرح امریکہ کام کر رہا ہے اور بڑی تعداد میں امریکیوں کی نگرانی اور انکے ذاتی ڈیٹا کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ اسی طرح دیگر خفیہ ادارے بھی خفیہ نگرانی کے بخار میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ صرف ایف بی آئی نے ہی خفیہ طور پر کسی وارنٹ کے بغیر لاکھوں موبائل فون کے استعمال کنندگان کے ریکارڈ فون کمپنیوں پر دبائو ڈال کر حاصل کئے اور یہ سب بینک ڈکیتیوں اور بے گھر شرارتی لوگوں کی تلاش کے نام پر کیا گیا۔ خفیہ کارروائیوں کے نام پر ہونے والی تمام تر سرگرمیاں ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہیں تاہم موثر نگرانی کو کسی خفیہ کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک سادہ اصول کے تابع ہو سکتی ہے وہ یہ کہ کسی قسم کی نگرانی جس کے لئے بڑی تعداد میں شہریوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا ہو اور اس کے لئے کسی قسم کے وارنٹ بھی حاصل نہ کئے گئے ہوں انہیں عوامی جائزے کے لئے بھی پیش کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کی معلومات کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ضروری ہونا چاہیے کہ اگر وہ نگرانی کے لئے ڈیٹا تک رسائی چاہتے ہیں تو وہ ان افراد تک محدود ہونی چاہیے جو شک کے دائرے میں ہوں یا زیرتفتیش ہوں۔ کسی بھی طرح کی تفتیش کی تفصیلات کو کسی بھی حالات میں جاری نہ کیا جائے تاہم ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد اور مطلوبہ معلومات کے حصول کے بعد ڈیٹا کو دوبارہ اس کی اصل حالت میں بحال بھی کیا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے پولیس کسی شہری کے گھر پر تلاشی کے وارنٹ حاصل کر کے اپنی قانونی کارروائی مکمل کرتی ہے اور وہ اپنی تفتیش سے کسی کو بھی آگاہ نہیں کرتی۔ اس ضمن میں، میں نے اور میرے ساتھیوں نے جو ٹیکنالوجی تیار کی ہے اس کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے کام کو سہولت کے ساتھ اور شہریوں کی معلومات کی حفاظت کرتے ہوئے موثر انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔ جدید فن خفیہ نگاری کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے مطلوب افراد کی معلومات قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حاصل کر سکتے ہیں اور اس عمل کے دوران معصوم شہریوں کا پرسنل ڈیٹا متاثر نہیں ہوتا۔ بینک ڈکیتی کے ایک کیس میں ایف بی آئی نے ڈیڑھ لاکھ افراد کے کال ریکارڈ حاصل کئے اور یہ تمام کارروائی ایک شخص کو حراست میں لینے کے لئے کی گئی۔ ہمارے وضع کردہ نظام کے تحت ایف بی آئی 149999 افراد کی جانب سے کی گئی کالز کو سننے کے بجائے اسی مشتبہ شخص تک پہنچ سکتے ہیں۔ چند جرائم پیشہ افراد کی جانب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے ہر شہری کے اعتماد اور پرائیویسی کو دائو پر لگانا درست نہیں۔

تحریر: بریان فورڈ (Bryan Ford)

Read in English

Authors

*

Top