Global Editions

کھلاڑیوں کو ممکنہ دماغی چوٹوں سے بچانے کےلئے نئے کالر کی تیاری

کیا گردن پر پہنی جانیوالی ڈیوائس کھلاڑیوں اور سپاہیوں کو سر پر لگنے والی کسی ممکنہ چوٹ کے اثرات سے بچا سکتی ہے؟ ٹیکنالوجی اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں کوشاں ہیں اور اب تحقیق کاروں نے اس ضمن میں پیشرفت کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانوروں پر کئی سال سے جاری تحقیقات کامیاب رہی ہیں اور اب ایک ایسی ڈیوائس تیار کی گئی ہے جسے انسان اپنی گردن کے گرد پہن سکیں گے اور خاص طور پر کھلاڑی اور سپاہی جن میں سر کے ممکنہ ٹکرائو کے باعث دماغی چوٹوں کے امکانات اس لئے زیادہ ہوتے ہیں کہ اس ؑٹکرائو کے نتیجے میں دماغ بری طرح ہل جاتا ہے اور اس کے باعث دماغی ٹشوز کے متاثر ہونے کا احتمال رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹکرائو کے نتیجے میں دماغ کی جانب خون کا بہائو متوازن نہیں رہتا۔ یہ نئی ڈیوائس کسی ممکنہ ٹکرائو کے سبب دماغ کے بری طرح ہلنے کو کسی حد تک کم کر سکنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو خون کا بہائو معمول کے مطابق رکھنے میںمددکر سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے خالق اور الینوائے کی نارتھ شور یونیورسٹی کے چئیرمین آف نیوروسرجری جولین بیلیز (Julian Bailes) کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو وضع کیا گیا کہ کھلاڑیوں اور سپاہیوں میں دماغی چوٹوں کے اثرات نمایاں طور پر ؎محسوس کئے جاتے ہیں اور نیا کالر بنانے کا خیال جانوروں سے اخذ کیا گیا جو کئی طرح سے سروں کے ٹکرائو کے باوجود دماغی چوٹوں سے اس قدر متاثر نہیں ہوتے جتنے کے انسان متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ کسی بھی وجہ سے سر کا ٹکرائو دماغ کی جانب خون کے بہائو میں تھوڑے سے اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسانوں میں ایسا فٹ بال کے کھلاڑیوں میں مشاہدے میں آیا ہے جن کا نہ صرف کھیل کے دوران آپس میں سر ٹکرا جاتے ہیں بلکہ وہ گیند کو سر سے بھی کھیلتے ہیں اسی طرح میدان جنگ میں فرائض انجام دینے والے سپاہی بھی اسی طرح کی دماغی چوٹوں میں مبتلا پائے گئے ہیں اور ان میں یہ چوٹیں عموماً سر کا زمین کے ساتھ ٹکرانے کے باعث ہیں۔ جولین بیلیز کا کہنا تھا کہ اس ٹکرائو کے نتیجے میں کھوپڑی کے اندر دماغ بری طرح ہل جاتا ہے اور کھوپڑی کے اندر موجود سیال جو دماغ کو کھوپڑی کی دیواروں کے ساتھ ٹکرانے سے روکتا ہے پر بھی دبائو پڑتا ہے اور بعض کیسز میں دماغ کھوپڑی کی دیواروں کے ساتھ ٹکرا بھی جاتا ہے، اور اسی لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دماغ کے کسی بھی حادثے کی صورت میں بری طرح ہلنے یا کھوپڑی کی دیواروں کےساتھ ممکنہ ٹکرائو کو کس طرح روکا جائے؟ اور یہی سوال اس نئے کالر کو بنانے کا سبب بنا۔ اسی ضمن میں ایک نئی ڈیوائس تیار کی گئی ہے یہ ایک یو شکل کی ڈیوائس ہے جو گردن کے گرد لپیٹی جاتی ہے جو گردن کے گرد اچھی طرح فٹ آ جائے یہ ڈیوائس گردن کے گرد ہلکا سا دبائو پیدا کرتی ہے اور خون کی شریانوں سے گزرنے والے خون کے بہائو کو مانیٹر کرتی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دماغ کو جانیوالے خون کے بہائو کو متوازن رکھتی ہے۔ اس ڈیوائس کے چوہوں ہر تجربات خاصے کامیاب رہے ہیں اور اب تحقیق کار اس ڈیوائس کے تجربات سوروں پر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ اس ڈیوائس کی مدد سے دماغی چوٹوں کو ممکنہ حد تک کم کرنے اور دماغ کی کھوپڑی کی دیواروں سے ٹکرائو کو بچانے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔

_con.collar2x1200_0

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top