Global Editions

فضا میں موجود کاربن سے ایندھن کی تیاری

پچھلے دنوں کینڈا کے علاقے برٹش کولمبیا کے ساحلی شہر سکوامش (Squamish) کے صنعتی علاقے میں اعلی حکومتی عہدیدار، ماہرین ماحولیات اور مقامی اکابرین موجود تھے جو کاربن سے اخذ کردہ فیول کی تیاری کے لئے نو قائم شدہ پلانٹ میں کام کا جائزہ لے رہے تھے۔ کنیڈین سائنسدان اور ہاورڈ کے پروفیسر ڈیوڈ کیتھ (David Keth) کی زیرسربراہی قائم ہونے والے ادارے کاربن انجیئنرنگ (Carbon Engineering) میں فضا میں موجود کاربن سے فیول کی تیاری کے لئے تجربات جاری ہیں۔ اس موقع پر کیتھ کا کہنا تھا کہ ان کے اس پراجیکٹ کا مقصد نہ صرف فضا میں موجود گرین ہائوس گیسز کی مقدار کو کم کرنا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے ایسے فیول کی تیاری ہے جس کی مدد سے جہازوں اور بڑی گاڑیوں کو چلانا ممکن ہو سکے۔ کیتھ نے فضا میں موجود کاربن فیول کشید کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بہت بڑی دیوار میں بڑے بڑے پنکھے اس انداز سے نصب کئے جاتے ہیں کہ وہ ہوا باہر سےاندر کی طرف پھینکیں جہاں ایک سیال کو ہوا میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ شامل ہو جائے پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ ملے اس سیال کو مختلف مراحل سے گزار کر خالص گیس کی شکل کی دی جاتی ہے اور گیس کو پھر ٹھنڈا کرکے سیال کی شکل دی جاتی ہے تاکہ فیول تیار ہو سکے۔ کیتھ کے مطابق یہ طریقہ نیا نہیں بلکہ کاغذ ساز فیکٹریوں میں پہلے سے ہی استعمال ہو رہا ہے۔ کیتھ کا مزید کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کے تحت فیول بنانے کے لئے کاربن کے ساتھ ہائیڈروجن ملانے کی ضرورت ہے تاکہ ہائیڈروکاربن فیول بن سکے۔ کیتھ کے اس پراجیکٹٓ کےلئے کنیڈین حکومت کی سپورٹ حاصل ہے، اور یہ ماحول دوست بھی ہے۔ اس ضمن میں ایک قباحت سامنے آئی ہے اور وہ ہے اس فیول کی قیمت۔ جیٹ فیول کی قیمت اس وقت تقریباً 37 سینٹ فی لٹر ہے جبکہ کاربن فیول کی قیمت ایک ڈالر فی لیٹر ہو گی۔ کیتھ نے بتایا کہ جیسے جیسے اس فیول کی تیاری کے لئے پراسسنگ اخراجات کم ہونگے اس کی قیمت میں بھی کمی آئیگی۔

 

تحریر: رچرڈ مارٹن Richard Martin

Read in English

Authors

*

Top