Global Editions

ڈیجیٹل معیشت کے اثرات

اقتصادیات ،ٹیکنالوجی اورانوسٹرز کے ایک گروپ نے ایک ایسا طریقہ تجویز کیا ہے کہ جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی زیادہُ منصفانہ ہو سکتی ہے۔ان کے خیال میں ہم ٹیکنالوجی کے اِس دور کے ابتدائی مراحل میں ہیں جہاں ڈیجیٹل ایجادات ہماری صنعت ، معیشت اور معاشرے کو اس طرح بہتربنا رہی ہیں جیسے بھاپ ، بجلی اور جلنے کے کیمییائی عمل نے بنایا تھا۔ ہمارے آباؤ اجداد کی طرح کمپیوٹرز اور اس کی فیملی ہماری زندگیوں میں عظیم خوشحالی کے انجن ہیں۔ ہارڈویئر، سوفٹ ویئر اور نیٹ ورکس میں پیش رفت نہ صرف ہماری زندگیوں کوان گنت طریقوں سے بہتر بنا رہی ہے بلکہ اس کی قدروقیمت میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔ محض چند مثالیں لیں تو پتہ چلے گاکہ مصنوعی ذہانت میں ترقی ڈاکٹروں کو بیماریوں کی تشخیص میں بہت مدد دے رہی ہے۔ نئے سینسرز کے ذریعے کاروں کو محفوظ طریقے سے چلانا ممکن ہوا ہے۔

ڈیجیٹل ترقی پہلے سے کہیں زیادہ علم،سہولت اور تفریح فراہم کر رہی ہے۔ موبائل نیٹ ورکس پہلی بار اِس سیارے کی آبادی کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب لے آئے ہیں۔

ڈیجیٹل انقلاب اس سیارے پرسب سے بہترین اقتصادی خو شخبری ہے۔ لیکن اس پیش رفت کیساتھ ساتھ کچھ مشکل چیلنج بھی درپیش ہیں۔ امریکی گھرانوں کی اکثریت نے بیس سالوں میں بھی آمدنی میں اتنا اضافہ کم ہی دیکھا ہے۔ بیرونی اور ساحلی ذرائع نے ان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عالمگیریت کی یہ حالیہ لہر خود انفارمیشن اور کمیونیکشن ٹیکنالوجی کی ترقی پر انحصار کرتی ہے۔ بنیادی حقائق یہ ہیں کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ ڈیجیٹل اورآپس میں ربط رکھنے والی دنیا میں رہ رہے ہیں مگر ٹیکنالوجی کے اس طوفان کے فوائد مستقل نہیں ہیں۔

ٹیکنالوجی میں اضافے نے اچھی تنخواہ، کام اور مزدور کی مانگ میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہمارے ارد گرد ٹیکنالوجی میں ترقی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر رہی ہے،ایک خیال ہے کہ کیا روبوٹ ہماری ملازمتوں کو کھا جائیں گے؟جبکہ ہمارا خیال ہے کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ کیوں کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ٹیکنالوجیکل تبدیلی کے اثرات کو تبدیل کرنے یا اس کی صورت بدلنے میں بالکل بے بس ہیں۔جبکہ ایسا نہیں ہے لہذاہم اس خیال کو مسترد کرتے ہیں۔اس کی بجائے ہم سب کے لئے امکانات کو بہتر بنا سکتے ہیں ،اس کے لئیے ہم تحقیق ، امیگریشن ، تجارت ، انفراسٹرکچر ا ر تعلیم کے شعبوں میں بنیادی پبلک پالیسیوں میں تبدیلی کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ ایک مضبوط اتفاق رائے ہے کہ ایسا کرنے سے امریکہ کی معیشت اور اس کی افرادی قوت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ گہری تبدیلیوں کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کے لیے یہی وقت ہے جو آنے والے وقتوں میں ہمارے ٹیکس اور منتقلی کے نظام اور سرمایہ کاری کیلیئے بھی ضروری ہوگا۔یہاں تک کہ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دے گی کہ جمہوریت نیٹ ورک کی دنیا میں کس طرح کام کر سکتی ہے اور کس طرح کام کرنا چاہیے۔

دوسرا،ہم نئے تنظیمی ماڈل کی ترقی کے لئے کاروباری برادری سے بھی رابطہ کریں۔ یہ نقطہ نظر نہ صرف دولت اورپیداوار میں اضافہ کرتا ہے بلکہ وسیع البنیاد مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔تاہم مقصد خوشحالی پر مشتمل ہونا چاہیے۔ کارپوریشن خود ایک طاقتور جدت ہے اس سے آپ نہ صرف منافع پیدا کرتے ہیں بلکہ اُن کو بھی واپس کر تے ہیں جو مصنوعات سپلائی کرنے کا خطرہ اٹھاتے ہیں۔یہ مصنوعات اور خدمات میں خیالات تبدیل کرنے اور معاشرے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک آلہ ہے، اور ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے کئی لوگ روزگار کما سکتے ہیں۔ٹیکنالوجی میں جدت کی موجودہ لہروں کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس کارپوریشن اور ہمارے کاروباری نظام کو بھی دوبارہ ایجاد کرنے کا موقع ہے۔

تیسرا،ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس تمام جوابات نہیں ہیں اس کے لئے ہم ڈیجیٹل انقلاب کے اقتصادی اور معاشرتی مضمرات پر زیادہ اور بہتر تحقیق کر سکتے ہیں اور طویل مدتی حل تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو اس وقت موجودہ سوچ سے بھی باہر ہے۔

مختصریہ کہ ہمیں یقین ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب ترقی ، پیداوار، دولت پیدا کرنے اور دنیا کو بہتر بنانے کے لئے آلات کا ایک بے مثال سیٹ اپ فراہم کر رہا ہے۔لیکن مشترکہ خوشحالی کے ایسے معاشرے کی تشکیل اُسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم مواقع پرقبضہ کرنے اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اپنی پالیسیوں تنظیموں اور تحقیق کو اپ ڈیٹ کریں۔

یہ ایک کھلا خط ہے جو کہ ٹیکنالوجسٹ، معیشت دانوں اور سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کی مشترکہ رائے ہے جن کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی میں بہتر انداز میں ترقی ہو سکتی ہے۔

ایرک برنجولف سن
اینڈی میک آفی
سٹیو جرویٹسن، ڈریپر فشر جرویٹسن
ٹم او رائیلی، او رائیلی میڈیا
جیمز مانیکا، میکنسے اینڈ کمپنی
لارا ٹائیسن، ہاس سکول آف بزنس،
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے
مارک بینی آف سیلز فورس
کارل باس، آٹوڈیسک
جو شوندروف، ایکسل پارٹنر
ٹم بریسنان،سٹینفورڈ یونیورسٹی
ونود کھوسلہ ، کھوسلہ وینچرز
جرمی ہاورڈ، اینلائیٹک
مائیکل سپینس، نیویارک یونیورسٹی
مصطفٰے سلیمان، گوگل ڈیپ مائنڈسکوٹ سٹیرن،
ایم آئی ٹی سلون سکول
ڈیوڈ کرک پیٹرک، ٹیکونومی میڈی

عکاسی: ANDY FRIEDMAN

Read in English

Authors
Top