Global Editions

ڈرونز کا فضا میں تصادم روکنے کے لئے ٹریفک پلان پر کام جاری

امریکی وفاقی محکمہ برائے ہوا بازی کی جانب سے شہریوں کو ڈرونز استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے صورت میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ فضا میں ڈرونز کے ٹکرائو کو روکنے کے لئے کیا حکمت عملی وضع کی جائے؟ یہ امر تو مبنی بر حقیقت ہے کہ ڈرونز کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کی اجازت ملنے کی صورت میں فضا ان ڈرونز سے بھر جائے گی اور محکمہ شہری ہوا بازی کو اس ضمن میں نہایت اہم کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ وہ فضا میں ان ڈرونز کی پروازوں پر نہ صرف نظر رکھ سکے بلکہ ان کو ممکنہ حادثات سے بھی محفوظ رکھ سکے۔ اس ضمن میں سٹینفورڈ انٹیلیجینس لیبارٹری میں تقریباً ایک سو تیس کارکنوں کی ٹیم نے ناسا کے اشتراک سے ڈرونز کی ائیر ٹریفک کو کنٹرول کرنے کےلئے ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے جس کی مدد سے نہ صرف ڈرونز کی پروازوں پر نظر رکھی جائیگی بلکہ دوران پرواز ڈرونز کو کسی ممکنہ ٹکرائو سے بچانے کے لئے ایک دوسرے سے مربوط رابطے کے لئے بھی اقدامات کئے جائینگے۔ سٹینفورڈ لیبارٹری کے ڈائریکٹر مائیکل کوچینڈرفر (Mykel Kochenderfer) کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمول سے ہٹ کر کئے جانیوالا کام ہے کیونکہ ڈرونز کو ان راستوں سے گزرنا ہے جن میں خاصے پیچ و خم ہیں اور روبوٹس کو کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بچانا نہایت ضروری ہے۔ کوچینڈرفر (Mykel Kochenderfer) اور انکے مکینکل انجیئنر ہوا یی اونگ (Hao yi Ong) کی جانب سے حال ہی میں پیش کئے جانیوالے ایک مقالے میں قرار دیا گیا ہے کہ ڈرونز کو پرواز کے دوران فوری فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہو سکیں اس حوالے سے ان کی ٹیم نے لاکھوں کی تعداد میں کمپیوٹر کی مدد سے لاکھوں فرضی ہنگامی صورتحال کے تجربات کئے جن میں سے ڈرونز کو گزارا گیا ان تجربات میں دو سے لیکر دس ڈرونز کی فرضی بیک وقت فرضی پروازیں کی گئیں اور اس دوران ڈرونز کو ایک دوسرے کے مقام، رفتار اور سمت کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں تاکہ وہ حادثات سے محفوظ رہ سکیں، اور پھر ان تجربات میں ڈرونز کے جوابی ردعمل اور کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ان تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر ڈرونز کو فضا میں دیگر ڈرونز کے مقام، سمت اور رفتار سے متعلق درست معلومات فراہم کر دی جائیں تو نہ صرف حادثات کی شرح کم کی جا سکتی ہے بلکہ تجربات سے ثابت ہوا کہ ڈرونز کی جانب سے معلومات کی فراہمی کے بعد جوابی ردعمل کا بھی درست تھا۔ صرف ان مقامات پر ڈرونز کے جوابی ردعمل کا وقت زیادہ تھا جہاں ڈرونز کو اردگرد کی معلومات بھی جمع کرنا پڑیں۔ سٹینفورڈ لیبارٹری ڈرونز کے لئے ائیر ٹریفک کنٹرول نظام تیار کرنے کے ساتھ ساتھ بغیر ڈرائیور کے گاڑی کی تیاری اور روایتی جہازوں کے لئے بھی ائیر ٹریفک کنٹرول کے نظام پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ناسا رواں سال کے دوران ڈرونز کے لئے ائیر ٹریفک کے نظام کے حتمی تجربات کرے گا۔

تحریر: سگنے بریوسٹر (Signe Brewster)

Read in English

Authors

*

Top