Global Editions

ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کا تجربہ

جدت ایک ہمہ گیر سچائی ہے اور انسان اس جدت کا شیدائی، اور جدت کے ساتھ ٹیکنالوجی کا اس طرح ملاپ ہو جائے کہ انسان کی جدت پسندی کی جبلت کو تسکین ملے تو اس کا ثانی نہیں۔ آپ خود بھی گاڑی چلاتے ہوں گے اور آپ نے لوگوں کو بھی گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا ہوگا لیکن آپ نے ڈرائیور کے بغیر گاڑی چلتے صرف ہالی وڈ کی فلموں میں ہی دیکھا ہوگا لیکن اب ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کا عمل شروع ہونے کو ہے اور ایسی گاڑیوں کا حال ہی میں عملی تجربہ بھی کیا گیا۔ امریکی ریاست مشی گن کا علاقہ این آربر (Ann Arbor) جو بطور خاص ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے تجربے کے لئے تیار کیا گیا تھا بہت صاف ستھرا دکھائی دے رہا تھا۔ علاقے کا منظر بھی دلکش اور پرسکون تھا۔ اس علاقے کو یونیورسٹی آف مشی گن نے تیار کرایا اور اس کا نام ایم سٹی (Mcity) رکھا گیا۔ اس علاقے کو مشی گن کے محکمہ ٹرانسپورٹ اور کئی کارساز اداروں کے اشتراک سے تیار کیا گیا تھا اور یہاں خودکار گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسی گاڑیوں کے تجربات ہونا تھے۔ ایم سٹی کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ شہر میں موجود شاہراوں اور مختلف حالات میں ڈرائیوروں کے ردعمل کا حقیقی عکاس بن سکے تاکہ کار ساز اداروں کو ان تجربات کی روشنی میں اپنی مصنوعات میں بہتری لانے کا موقع مل سکے، چونکہ یہ گاڑیاں خودکار سینسرز اور چند الگورتھم قواعد کے تحت کام کرتی ہیں لہذا ان کی کارکردگی کا معمول کے ماحول میں جانچنا ازحد ضروری ہے۔ اگرچہ خودکار ڈرائیونگ کی ٹیکنالوجی میں نمایاں بہتری اور ترقی آئی ہے لیکن اب بھی ایسی خودکار گاڑیوں میں نصب کمپیوٹر بعٖض حالات میں درست انداز میں کام کرتے دکھائی نہیں دیتے مثال کے طور پر موسمی حالات، یا ایسی صورتحال جہاں حد نگاہ کم ہو یا ایسی شاہراہ جہاں ٹریفک کی روانی نہایت سست ہو یا تعطل کا شکار ہو اور ایسی صورتحال میں سینسرز کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایم سٹی ایسے ہی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لئے ہے۔ 32 ایکٹر پر محیط ایم سٹی میں شہری اور دیہی ماحول کے مطابق اور اس میعار کی شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں، ٹریفک کی روانی کے لئے گول چکر، تعمیراتی مقامات، ٹریفک نشانات، ٹنلز، ہائی وے اور اس پر داخلی اور خارجی مقامات کے ساتھ ساتھ برفباری کی صورت میں برف سے ڈھکی ہوئی شاہراہ بھی شامل ہے جو مشی گن کے موسمیاتی ماحول سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہاں بہت سی کمپنیوں نے خودکار گاڑیوں کے لئے بنائی گئی ٹیکنالوجیز کے مظاہرے بھی کئے۔ مثال کے طور پر خودکار گاڑیوں کے لئے پرزے تیار کرنے والی جاپان کی کمپنی ڈینسو (Denso) نے ایسی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا جس کی مدد سے خودکار گاڑیاں آپس میں رابطہ رکھ سکیں گی تاکہ حادثات سے محفوظ رہا جا سکے۔ جرمن کمپنی بوش (Bosch) نے ایسے سسٹم کا مظاہرہ کیا جس کی مدد سے گاڑیاں خودکار نظام کے تحت سیدھی سڑک پر چل سکیں گی۔ ایکسرور (Xerox) اور ہونڈا (Honda) کمپنیوں نے ایسے سسٹم کا مظاہرہ کیا جس کے تحت حادثات یا کسی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لئے خودکار گاڑیاں سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں سے انکے سمارٹ فون کے ذریعے رابطہ کر سکیں گی۔ ڈینسو (Denso) کمپنی کی ایپلی کیشن ڈویلپر لاریان نووک (Lorraine Novak) کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ وہ ایم سٹی کو کئی طرح کے ٹریفک مسائل سے آگاہی اور اس کی مدد سے خود کار گاڑیوں میں بہتری لانے کے لئے کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے بہائو کے یقینی بنانے کے لئے بنائے گئے گول چکر خودکار گاڑیوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہیں کیونکہ خودکار گاڑیاں یہاں سے قابل اعتماد انداز سے نہیں گزر پاتیں۔ ایسے ہی کئی ٹریفک مسائل کے حل کو جانچنے کے لئے ایسی ہی تجربہ گاہ کی ضرورت تھی جسے ایم سٹی نے پورا کیا۔

تحریر: ول نائیٹ Will Knight

Michigan

Read in English

Authors
Top