Global Editions

ڈاکٹر کمپیوٹر اب مرض کی تشخیص کریگا

اس وقت انسانی علم میں آ جانے والی بیماریوں کی تعداد تقریباً دس ہزار ہے۔ تاہم اب بھی ڈاکٹر کئی مرتبہ مرض کی نوعیت کو سمجھنے میں چوک کر جاتے ہیں یا مریضوں کے امراض کی درست تشخیص نہیں ہو پاتی۔ سال 2012 میں جانز ہاپکنز کی جانب سے جاری گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صرف امریکہ میں ایک سال کے دوران ہسپتالوں کی ایمرجینسیز میں 40500 افراد غلط تشخیص کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تاہم اب مرض کی تشخیص کے لئے بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ ایک برطانوی ادارے کے مالک علی پارسا (Ali Parsa) نے امید ظاہر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت امراض کی درست تشخیص کے لئے ڈاکٹروں کی رہنمائی کر سکتی ہے۔ علی پارسا برطانوی ادارے بابیلون (Babylon) کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں اور یہ ادارہ برطانیہ میں صحت کے میدان میں کام کر رہی ہے۔ اس ادارے نے سبسکرپشن کی بنیاد پر ایک ایسی ایپ تیار کی ہے جس کے ذریعے ڈاکٹروں کو امراض کی درست تشخیص میں مدد ملے گی۔ استعمال کنندگان بیماری کی علامات کو ایپ کے ذریعے رپورٹ کرینگے، مصنوعی ذہانت کی حامل یہ ایپ دستیاب ڈیٹا بیس کی مدد سے علامات کو جانچنے اور مریض کی کیس ہسٹری اور وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب کارروائی تجویز کریگی۔ اس ایپ کو آزمائشی بنیاد پر محدود پیمانے پر جاری کیا گیا ہے۔ اس ایپ کا موازنہ آئی بی ایم کے واٹسن کمپیوٹر سے کیا جا سکتا ہے جسے نیویارک کے کینسر سینٹر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کمپیوٹر کی تیاری کے لئے آئی بی ایم نے چھ لاکھ مریضوں کی میڈیکل رپورٹس، پندرہ لاکھ مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ اور مختلف طبی جریدوں میں شائع ہونے والے مقالوں پر مشتمل بیس لاکھ صفحات کی مدد سے سافٹ وئیر تیار کیا تھا تاکہ ڈاکٹر مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مناسب ٹریٹمنٹ پلان تجویز کر سکیں۔ بابیلون نے بھی تقریباً ایسے ہی ڈیٹابیس کے نیٹ ورک کو استعمال کیا ہے تاہم اس ڈیٹا بیس میں کینسر سمیت دیگر امراض اور ان کی علامات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے مصنوعی ذہانت کا حامل ڈاکٹر مرض کی علامات کا اپنے ریکارڈ اور ڈیٹا بیس میں موجود ایسی ہی ملتی جلتی علامات سے موازنہ کرتا ہے تاہم اس کے لئے وہ مریض کی کیس ہسٹری، ماحول، کردار اور مرض کی وجوہات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ڈیٹا بیس میں موجود لاکھوں ریکارڈز کی چھان پھٹک کرتے ہوئے علاج کے لئے مناسب طریقہ تجویز کرتا ہے۔ علی پارسا کے مطابق اس وقت اس ایپ کے ڈیڑھ لاکھ کے قریب استعمال کنندگان ہیں جو اس ایپ کی مدد سے مطلوبہ ڈاکٹر سے ملاقات طے کرتے ہیں اور اس ایپ کے ذریعے تقریباً ایک سو ڈاکٹر دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن دستیاب ہوتے ہیں۔ اس ایپ کی ماہانہ سبسکرپشن 11.40 ڈالر یعنی (7.99) پائونڈز ماہانہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایپ وئیر ایبل ڈیوائسز کی مدد سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بھی چھان بین کرتی رہتی ہے اور صارف کو اس کی صحت کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتی رہتی ہے۔ جس میں خون میں کولیسٹرول کی مقدار، جگر، گردوں کی کارکردگی وغیرہ شامل ہے۔ پارسا کا کہنا ہے کہ اس ایپ کی مدد سے مرض کی تشخیص اس کے آغاز سے ہی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر صارف کے دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ ریکارڈ ہو رہی ہے تو یہ ایپ فوری طور پر آپ کی توجہ اس جانب مبذول کراتی ہے تاکہ آپ ڈاکٹر سے رجوع کر سکیں۔

تحریر: سائمن پارکن (Simon Parkin)

Read in English

Authors
Top