Global Editions

ڈاکٹری نسخے سے نجات ۔۔۔فنگر پرنٹس سے میڈیکل ریکارڈ کا حصول ممکن

40 ملین سے زائد افراد کے لئے صحت کے تین سو سے زائد نظاموں تک رسائی کے لئے ایک نئی کمپنی نےخدمات کا آغاز کر دیا ہے۔ کراس چیکس (Cross Chx) کے نام سے خدمات کا اجراء کرنے والی نئی کمپنی نے اس ضمن میں نہایت سادہ طریقہ کار اختیار کیا ہے یعنی اب آپ کو ڈاکٹر سے ملاقات کےلئے وقت درکار ہے تو آپ چیک ان کائونٹر پر تشریف لے جائیں اور فنگر پرنٹ ریڈر پر اپنے داہنے ہاتھ کی انگشت شہادت رکھ کر اپنی شناخت کرائیں اور آپ کا تمام تر میڈیکل ریکارڈ کمپیوٹر سکرین پر نمودار ہو جائے گا۔ کراس چیکس کے بانی کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت ڈاکٹر سے ملاقات نہایت سہل ہو جائے گی اور مریض خواہ مخواہ کی دردسر سے بچ جائیگا جو مختلف اور دور افتادہ علاقوں میں مختلف ہیلتھ کئیر کمپنیوں کی جانب سے آئی ٹی سسٹم پرانے ہونے کے سبب اسے اٹھانا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے امریکی نظام صحت کو بھی بہت مدد ملے گی اور اس کے ذریعے اس نظام میں پائی جانیوالی کئی خامیوں کو دور کیا جا سکے گا۔ اگرچہ امریکی حکومت مریضوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے تاہم اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود کئی مریض اس کے ثمرات سے محروم ہی رہتے ہیں، کراس چیکس کا کہنا ہے کہ اس نے ان ریکارڈز میں 14 فیصد تک مریضوں کی شناخت کے حوالے سے سنگین غلطیوں کو رپورٹ کیا ہے، اور اس طرح مریضوں کے لئے یہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ اپنا تمام تر میڈیکل ریکارڈ کو یکجا کریں اور اسے کسی نئے ڈاکٹر کے ساتھ شئیر کریں اور اسی وجہ سے مریضوں کو مختلف ٹیسٹس ازسرنو کرانا پڑتے ہیں جو ڈاکٹر اور مریض دونوں کے لئے وقت کا ضیاع ہے۔ کراس چیکس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیان لین (Sean Lane) کا انگلیوں کے پوروں کے ذریعے شناخت کا طریقہ سہل اور معمول کے شناختی نظام کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے نہ صرف مریض کی شناخت میں آسانی ہو گی بلکہ اس کے ذریعے مریض کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ تک رسائی اور اس کی بنیاد پر مریض کے علاج میں آسانیاں پیدا ہونگی۔ سیان کا ماننا ہے کہ وہ وقت جلد آئیگا کہ مریض کے اپنے تمام تر میڈیکل ریکارڈز اس کے اپنے سمارٹ فون میں موجود ایک ایپلی کیشن میں دستیاب ہو گا اور وہ اسے صحت کی سہولیات پہنچانے والے کسی نئے سروس پروائیڈر کو مہیا بھی کر سکے گا۔ کراس چیکس اوہایئو میں قائم ہونے والا ایک نیا سٹارٹ اپ ہے اور اس نے آغاز میں ہی اپنے اس نئے پروگرام کے لئے 20 ملین ڈالرز فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ بروکنگس (Brookings) انسٹیٹیوشن کی فیلو نیام یاراگھی (Niam Yaraghi) کا کہنا ہے کہ کراس چیکس نے یو ایس ہیلتھ سسٹم میں درپیش آنیوالی قباحتوں کو درست انداز میں دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مریضوں کو قطعی الگ شناختی طریقہ اپنانا نہایت سود مند ہو گا۔

fingerprints_02

تحریر: ٹام سمونائیٹ (Tom Simonite)

Authors
Top