Global Editions

چین ٹیکنالوجی کےعظیم پاور ہائوس میں بدل چکاہے

دنیا کے سینکڑوں شہر سلیکون سٹی بننے کی جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن صرف بیجنگ ایسا ہے جو واقعتاً مدِمقابل بن کر ابھرا ہے۔ چین کے سیاسی، مالیاتی اور ثقافتی دارالحکومت بیجنگ نے حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے ادارے بنا لئے ہیں جو اسے ترقی میں بہت آگے لے جاسکتے ہیں۔ 2011 میں اس کی خطرات مول لینے والی سرمایہ کاری کمپنیوں نے 13ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں سے 30 فیصد صرف بیجنگ میںکی گئی۔ بیجنگ میںدولت کمانے کے بہت سے مواقع ہیں۔ اس کے 70کے قریب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں چین کے بہترین کمپیوٹر سائنسکے شعبے کام کر ہے ہیں ۔ نیویارک کی طرح بیجنگ بھی حوصلہ مند نوجوانوں کا شہر ہے اور واشنگٹن ڈی سی کی طرح یہ ملک کا دارالحکومت ہے۔ بیجنگ وہ کچھ دنیا کودے رہاہے جو چند ایک مقام ہی فراہم کرتے ہیں، بیجنگ میں بہت بڑی اور تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں قائم ہو چکی ہیںجن میں 31ارب ڈالر کے اثاثوں والی بیدو(Baidu)، لینووو(Lenovo) اور سمارٹ فون بنانے والی کمپنی ژیومی(Xiaomi)ہے جس نے گزشتہ سال 2 ارب ڈالر کے ہینڈ سیٹ فروخت کئے تھے۔ بیجنگ میں دو کروڑ کے قریب رہائشی ہیں شائد ان میں سے کوئی بھی اتنی تیزی سے ابھر کر سامنے نہیں آیا جتنا کائی فُو لی(Kai Fu Lee) سامنےآئے ہیں۔ وہ مائیکروسوفٹ ایشیا اور گوگل چائنہکےبانی ہیں۔ امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والےکمپیوٹر سائنٹسٹ کائی فُو لی چین کی ٹیکنالوجی کی پہلی شخصیت ہیں جنہوںنے انجئنیرز کی پوری ٹیم کو تربیت دی ہے جنہوں نے بیجنگ کو ٹیکنالوجی سینٹر میں بدل دیا ہے۔ حال ہی میں کائی فُو لی نے بیجنگ میںانوویشن ورکس(Innovation Works )نامی نئی سرمایہ کاری کمپنی قائم کی ہے جو نومولود اور نئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

اب تو بیجنگ محض سوفٹ وئیر اور گیجٹ کا شہر نہیں رہا۔ اس کی ایک اپنی ہی الگ شناخت بن چکی ہےجس کی اپنی سمتیں متعین ہیں۔ حال ہی میں چین کا دور کرکے امریکہ واپس آنےوالے ایک کاروباری شخصیت اور بزنس سکول کے پروفیسر سٹیو بلینک(Steve Blank)کاکہنا ہے کہ میں نے بہت سے شہر دیکھے ہیں لیکن بیجنگ نے مجھے حیران کردیا۔ یہاں پرکاروبار کا ایسا نظام بنایا گیاہے جس نے بوسٹن (Boston)اور سیٹل (Seatle)کو بھی شرمندہ کردیاہے۔ تائیوان میں پیدا ہونے والے لی کی عمر 51سال ہے ۔ اس کا خاندان 1970ء میں امریکہ منتقل ہو گیا تھا۔ پٹس برگ(Pittsburg)میں اپنی پی ایچ ڈی کے دوران اسے معلوم ہوا کہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کا بہت بڑا خلا موجود ہے۔ لی اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ چین کی کمپیوٹر میں پسماندگی نے میری آنکھیں کھول دیںجس میں اختراعات نام کو نہیں تھیں۔ اس وقت چین کی حکومت نے اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا تھا۔ 1980ء میں انہوں نے بیجنگ میں ژونگ گونکن (Zhong-guancun ) ٹیکنالوجی کا شعبہ قائم کیا۔ یہ 54سائنس اینڈ انوویشن پارکس میں سے پہلا پارک تھا جس نے سلیکون ویلی کو اپنے لئے مثال قرار دیا۔ لی کو 1997ء میں اس وقت موقع ملا جب بل گیٹ نے چین کا دورہ کیا اور وہاں پر مائیکروسوفٹ مصنوعات کیلئے مضبوط ایشائی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے ہی سال بل گیٹ نے لی کو مائیکروسوفٹ ریسرچ ایشیاء سینٹر قائم کرنے کیلئے چین بھیجا۔ لی پہلے ہی سلیکون ویلی میں گرافکس (Graphics)اور ایپل (Apple) میں مہارت رکھتے تھے انہوں نے فوراً سمجھ لیا کہ چینی معاشرے میں تجربہ کار مینجرز اور حکام کی کمی ہے اس لئے اسے اپنی ٹیم فوجیوں سے بنانی پڑے گی جو عام شخص کی بجائے کسی جنرل کی زیرکمان ہوں۔ لی کہتے ہیں کہ مجھے ایک جنرل کی کمان میں 10فوجی دئیے گئے جو بہت پرعزم اور پرجوشتھے انہوں نے نیا نظام بنانے کیلئے دن رات کام کیا۔ لی کی زیرکمان مائیکروسوفٹ پلاٹون نے انجنئیرنگ مسائل کو تخلیقی انداز میں حل کرنے کے طریقے کو سمجھا۔ بعد ازاں گوگل نے گوگل چائنہ (Google China)کے قیام کیلئے لی کی خدمات حاصل کیں۔ سٹیو کہتے ہیں کہ میں نے لی قیادت میں چین میں ڈرامائی تبدیلی پیدا ہوتے دیکھی اس نے چین میں سینکڑوں سے ہزاروں کمپیوٹر انجئنیر پیدا کردئیے۔

لی کی زیر نگرانی کام کرنے والے بہت سے فوجی جنرلوں کوبڑی کمپنیوں کیلئے سوفٹ وئیرز بنانے کی تربیت دی گئی۔ انہوں نے اپنے تجربے سے فائدہ اٹھا کر بیجنگ میں فرمیں قائم کیں جیسے لین بین(Lin Bin) لی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ای- کامرس میں مہارت رکھنے والی کمپنی لائیٹ ان دی باکس(Light in the Box) اور سمارٹ فون بنانے والی کمپنی ژیومی(Xiaomi)قائم کیں۔ ان فرموں کو چین کی مارکیٹ کی جتنی واضح سمجھ ہے اتنی امریکی کمپنیوں کو نہیں اسی وجہ سے گوگل نے اپنا مرکز 2010ء میں ہانگ کانگ منتقل کردیا۔

چین کی انٹرنیٹ پر کامیابیاں غیرملکی مصنوعات کی نقل تصور ہوتی ہیں مثلاً چینی کمپنی ٹیسنٹ(Tacent)نے آئی سی کیو(ICQ)کے آن لائن بات چیت کے برائوزر چیٹ کلائنٹ (Chat Client)کی نقل اتاری ۔ اسی طرح بیدو نے گوگل کو نقل کیا۔ اور بہت سی چینی کمپنیاں ایسی ہیں جو بڑی کامیابی سے غیرملکی مصنوعات کی نقل کررہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیکون ویلی کو جن مصنوعات پر اجارہ داری ہے، بیجنگ ابھی ان کیلئے کسی بھی طرح سے خطرے کا باعث نہیں ہے۔ لیکن چین میںجس تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ لی سوچتے ہیں کہ بیجنگ بہت جلد اختراعات میں کیلیفورنیا کے مدمقابل آجائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ چین میں امریکہ کی نسبت ترقی کی رفتار تیز ہے۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ امریکہ جس کام کے بارے میں سوچے بھی نہ لیکن وہ چین میں ہوجائے۔

تحریر: ٹیڈ گرین ووڈ (Ted Greenwood)

Read in English

Authors
Top