Global Editions

چین میں روبوٹک انقلاب: فیکٹری کارکنوں کا کیا بنےگا؟

جنوبی شنگھائی کی ایک الیکٹرانکس فیکٹری میں 15 کارکن بےچینی کے ساتھ ایک چھوٹے سے روبوٹ پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ روبوٹ بے حس و حرکت بیٹھا ہوا تھا۔ فیکٹری میں کوالٹی کنٹرول کی ذمہ دار 20سالہ خاتون نی جوآن (Nie Juan)نے بتایا کہ سسٹم اس وقت ڈائون ہے۔ اس کی ٹیم گزشتہ ایک ہفتے سے روبوٹ کی جانچ کررہی تھی۔ مشین سے نئے راستے اختیار کرکے خانوں پر سٹیکرز لگانے کی توقع کی جارہی تھیلگتا تھا کہ یہ بہت اچھی طرح اور مہارت سے کام کرے گا لیکن پھر یہ اچانک یہ بند ہوگیا۔ نی جوآن نے بتایا کہ روبوٹ یقیناً لیبر بچاتا ہے لیکن اس کے کام کے تسلسل کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔
چین کے صنعت کاروں کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔وہ یہ کہ شنگھائی میں اجرتیں گزشتہ سات سال میں دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں۔ جبکہ کیمبرج انڈسٹریز گروپ(CIG) کو جرمنی، جاپان، اور امریکہ میں ہائی ٹیک آپریشن میں شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نپٹنے کیلئے کیمبرج انڈسٹریز گروپ (CIG)اس سال اپنے 3000کارکنوں کے دوتہائی حصے کو مشینوں سے بدلنا چاہتی ہے اور مزید چند سال کے اندر اندرکمپنی اپنی فیکٹری کو مکمل طور پر خودکار نظام پر لے آئے گی جسے انہوں نے نام نہاد “سیاہ فیکٹری”کا نام دیا ہے۔ آئیڈیا یہ ہے کہ مشین کو چند لوگوں کے ساتھ اندھیرے میں چھوڑ دیں تو مشین خودکار طریقے پر کام کرتی رہے گی۔

mj16-chinarobots-3

زیادہ تر صنعتی روبوٹ اس وقت تمام کام درست طریقے سے کرتے ہیں کہ جب ان کے سامنے تمام مطلوبہ سامان رکھ دیا گیا ہو۔ جبکہ چینی فیکٹریوں میں زیادہ تر کام مہارت، بدلتے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ایک باکس غلط زاویئے سے کنوئیر بیلٹ پر آرہا ہے تو ورکر اسے ہاتھ سے ایڈجسٹ کردے گا، دوسرے ہی لمحے وہی کارکن ممکن ہے کسی باکس پر لیبل لگا رہا ہو یا پھر اگلے دن کسی اور کام پر منتقل ہو جائے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود چین میں ان گنت مینوفیکچررز بڑے پیمانے پر روبوٹکس اور آٹومیشن استعمال کرتے ہوئے اپنی پیداوار کے عمل کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ بعض معاملات میں تو ان کے پاس چوائس ہی موجود نہیں۔

چین میں انسانی لیبر اب اتنی سستی نہیں رہی جتنی پہلے ہوتی تھی۔ خصوصاً مدمقابل ممالک ویت نام، تھائی لینڈ، اور انڈونیشیا کے مقابلے میں چین میں اجرتیں زیادہ ہیں۔ مینوفیکچررز اور سرکاری حکام کو یقین ہے کہ اس کا ایک حل انسانوں کی جگہ مشینوں کے ذریعے کام لینا ہے۔ اس کوشش کے نتائج کو عالمی سطح پر محسوس کیا جائے گا۔ کیونکہ تقریباً ایک چوتھائی دنیا کی مصنوعات آج چین میں بنائی جارہی ہیں۔ اور اب چین ہائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے پوری دنیا کیلئے ایک مٹھائی کی دکان بن چکا ہے۔

چین میں سی آئی جی (CIG)فیکٹری کے سی ای او جیرالڈ وونگ(Gerald Wong) نے 1980ء میں ایم آئی ٹی سے ڈگری حاصل کی۔ جب ہم نے ان کی فیکٹری کا دورہ کیا تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک حساس سرکٹ بورڈ پر سولڈرنگ کررہے ہیں۔ اور ایک دوسرا گروہ ان سرکٹ بورڈز کو پلاسٹک کے ڈبوں میں رکھ رہا ہے۔جیرالڈ وونگ(Gerald Wong)نے ایک مشکل کام کو روک دیا جو اس کے خیال میں خودکار مشینی طریقے سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جب ہم فیکٹری کا دورہ کررہے تھے تو ایک روبوٹ ادھر سے گزرا ،جیرالڈ وونگ(Gerald Wong)نے ہمیں دکھایا کہ راستے میں کوئی چیز آنے پر روبوٹ کیسے رک جاتا ہے۔ ایک اور روبوٹ کنوئیر بیلٹ پر سرکٹ بورڈ لگا کر انہیں ایک ڈبے میں رکھ رہا تھا۔ جیرالڈ وونگ(Gerald Wong)نے بتایا کہ ان کی کمپنی مہارت سے سولڈرنگ کرنے والے ایک روبوٹ کو ٹیسٹ کررہی ہے۔ جب ہمارا فیکٹری کا دورہ مکمل ہو اتو انہوںنے بتایا کہ چین میں یہ بات واضح ہے کہ یا تو ہم آٹو میشن پر چلے جائیں یہ پھر مینوفیکچرنگ کے کاروبار سے نکل جائیں۔

نظام خودکاری پر لے جائیں یا پھر چھوڑ دیں

چین کا اقتصادی معجزہ براہ راست اس کی مینوفیکچرنگ کی صنعت سے وابستہ ہے۔ تقریبا 100 ملین لوگوں چین کی مینوفیکچرنگ کی صنعت سے وابستہ ہے جبکہ امریکہ میں 12ملین لوگ مینوفیکچرنگ کی صنعت سے منسلک ہیں۔ چین کی مینوفیکچرنگ کی صنعت ملک کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 36فیصد ہیں۔1990ء میں چین مینوفیکچرنگ میں عالمی پیداوار کا صرف تین فیصد حصہ فراہم کرتا تھا۔ آج چین دنیا کی پیداوار کا ایک چوتھا ئی حصہ فراہم کر رہا ہے جس میں 80فیصد ائیر کنڈیشنز، 71فیصد موبائل فونز، 63فیصد شوز بناتا ہے۔

mj16-chinarobots-4

دنیا بھر میں صارفین کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو آئی فون سے لے کر فلیٹ سکرین تک چین کی مصنوعات نہایت سستے داموں مل جاتی ہیں۔چین کی برآمدات 2009ء کےمالی بحران کے بعد پہلی مرتبہ گر گئیں۔اور عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کی سطح بتانے والا کائیکسن پرچیزنگ منیجرز انڈیکس (Caixin Purchasing Manager’s Index)ظاہر کرتا ہے کہ چین کا یہ شعبہ مسلسل دسویں ماہ بھی کم پیداوار کررہا ہے۔ آٹو میشن نے لیبر کے مسائل کے حل کیلئے قابل عمل حل فراہم کیا ہے۔

چین پہلے ہی صنعتی روبوٹ کی ایک بڑی تعداد درآمد کررہا ہے۔ لیکن یہ ملک اب بھی اپنے حریف ملکوں سے روبوٹس کے صنعتی استعمال سے پیچھے ہے۔ جنوبی کوریا میں، دس ہزار کارکنوں کے مقابلے میں 478، جاپان میں 315 ، جرمنی میں 292، امریکہ میں 164جبکہ چین میں صرف 36 روبوٹ کام کررہے ہیں۔ چینی حکومت اس سارے منظرکو تبدیل کرنے کی خواہش مند ہے۔ چینی حکام نے مارچ 16 20 ء میںمینوفیکچررز کو فیکٹریاں اپ گریڈ کرنے کے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان کیا جس میں انہیں اپنی فیکٹریوں کو جدید مشینری اور روبوٹ پر لانے کیلئے اربوں یوآن دستیاب ہوں گے۔ حکومت اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کیلئے ملک بھر میں درجنوں انوویشن سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

چین میں بعض علاقائی حکام تو اپنے بعض منصوبوں میں تو مرکزی حکومت سے بھی ایک قدم آگے جارہے ہیں۔ چین کے صوبے گوآنگ ڈونگ (Guangdong)نے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 150ارب ڈالر صرف کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے فیکٹریوں کو صنعتی روبوٹس سے لیس کیا جائے گا اور اعلیٰ درجے کی آٹومیشن کیلئے دو نئے سینٹرز قائم کئے جائیں گے۔اس کا مقصد جمہوریہ چین کی 100thسالگرہ کے موقع پر 2049ء میں انتہائی جدید مینوفیکچرنگ میں جرمنی، جاپان اور امریکہ سے آگے نکلنا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے حکومت کو لاکھوں کی تعداد میں روبوٹس چاہئیں۔ چین اپنی کمپنیوں سے چاہتا ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں روبوٹس بنائیں۔جس سے امید ہے کہ ایک نئی ہائی ٹیک صنعت پیدا ہو جائے گی۔ راتوں رات اتنی بڑی تعداد میں روبوٹس بنانا بہت مشکل کام ہے۔ تائیوان کی شہر جتنے رقبے پر پھیلی 130ارب ڈالر مالیت کی مشہور کمپنی فوکسکون (Foxconn) کی مثال لے لیں جس میں سینکڑوں ہزاروں کارکن کام کرتے ہیں۔ جہاں پر ایپل کے آئی فون سمیت دیگر مصنوعات بھی بنائی جارہی ہیں۔ فوکسکون کے بانی اور سی ای اور ٹیری گُوو(Terry Guo) نے 2011ء میں اعلان کیا تھاکہ وہ 2014ء تک اپنی کمپنی کے پلانٹس میں ایک ملین روبوٹ لائے گی۔ لیکن جب اس پر کام شروع ہوا تو کمپنی کو تین سال بعد بہت سے غیر متوقع چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں بہت کم روبوٹس میسر آسکے۔

چیلنجوں کے باوجود کمپنی کے جنرل منیجر ڈے چیا پینگ (Day Chia Peng)کہتے ہیں کہ کمپنی بڑی تعداد میں اپنے کاموں کو آٹومیشن پر لا رہی ہے۔ کمپنی مصنوعات کی خود کار مینوفیکچرنگ آسان بنانے کے طریقے تلاش کر رہی ہے اورکمپنی نے کہا ہے کہ اس نے خود جو روبوٹس تیار کئے ہیں وہ ان میں سے کچھ دیگر مینوفیکچررز کو فروخت کرے گی۔ انسانی کارکنوں سے روبوٹ پر منتقلی چینی معاشرے کو شاید تباہ کرسکتی ہے۔ کیونکہ بعض بےروزگارفیکٹری کارکنوں کو سروس سیکٹر میں ملازمت مل جائے گی لیکن 100ملین کارکنوں کو ملازمت نہیں مل سکتی۔ لہٰذا روبوٹ اور آٹومیشن کی جانب اچانک منتقلی اقتصادی مشکلات اور سماجی بدامنی پیدا کر سکتی ہے۔ ایم آئی ٹی کی سلون سکول میں ایک پروفیسر یاشینگ ہوانگ (Yashang Huang)کہتے ہیں کہ آپ دلیل دے سکتے ہیں کہ روبوٹ ٹیکنالوجی چین میں مینوفیکچرنگ بچانے کا ایک راستہ ہے۔ لیکن چین میں بہت بڑی افرادی قوت موجودہے۔ آخرآپ ان کے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں؟
ناچنے والے روبوٹس

چند روزقبل میں نے سی آئی جی کا دورہ کیا ۔ میں نے چین کے پہلے بڑےروبوٹکس ایونٹ، عالمی روبوٹ کانفرنس،میں شرکت کی جو بیجنگ کے اولمپک پارک کے اندر واقع ایک وسیع نمائش ہال کے اندر منعقد ہوا۔ شہر ایک غیر معمولی سردی کی لپیٹ میں تھا، اور اس کی حرارتی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے قریبی کول پاور پلانٹس سے بجلی پیدا کی جارہی تھی جس سے پھیپھڑے فضائی آلودگی سے بھر رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس ایونٹ میں شرکت کی۔افتتاحی تقریب کا آغاز تھیڑ کے انداز میں ہو، ایک بہت بڑی ویڈیو دیوار کا مظاہرہ کیا گیا جس پر چین کی قدیم تاریخ اورسائنس فکشن فلموں سے روبوٹ کے کلپس دکھائے گئے۔ اس موقع پر مہمانوں کی فہرست کئی اعلی سطحی چینی سیاستدان شامل تھے جبکہ چینی صدر شی جن پنگ (Xi Jinping)، نائب صدر لی یانچائو (Li Yuanchao)اور وزیر اعظم لی کی چیانگ (Li Keqiang)کی طرف سے سڑکوں پر مبارکباد کے پیغامات کے بینرزلگے ہوئے تھے۔

اس دوران میں بہت سی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے سٹالز پر گھومتا پھرتا رہا۔ میں نے ایک بہت بڑا صنعتی روبوٹ دیکھا۔ ایک اور صنعتی مشین چین کے روائتی ڈریگن ڈانس کر رہا تھا۔ دو روبوٹس ریکٹ تھامے بڑی مہارت سے بیڈمنٹن کھیل رہے تھے۔ ایک روبوٹ ویکیوم کلینر سے صفائی کررہا تھا۔ ان تمام مظاہروں سے ظاہر ہوتا تھا کہ چین اپنی فیکٹریوں میں انسانی کارکنوں کی جگہ روبوٹس سے کام لینے کیلئے کتنا بے چین تھا۔ ایچ آئی ٹی روبوٹ گروپ کی فیکٹری چین کی 80فیصد روبوٹس کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ چین میں لامحدود تعداد میں انسانی لیبر موجود ہے لیکن اس کے باوجود چین روبوٹ انقلاب کی طرف سرپٹ بھاگ رہا ہے۔ امریکی شہر بوسٹن میں قائم کمپنی ری تھنک روبوٹکس (Rethink Robotics)نے دو ذہین صنعتی روبوٹس باکسٹر (Baxter)اور سائیر (Sawyer)متعارف کروائے ہیں۔ روائتی روبوٹس کے برعکس انہیں بہت کم پروگرامنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں لگے سینسرز انہیں مختلف اشیاء کی شناخت کرنے اور لوگوں سے ٹکرانے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی قیمت 20ہزار اور 30ہزار ڈالر فی روبوٹ ہے۔ روبوٹ کانفرنس کے بعد کمپنی ری تھنک روبوٹکس کے مالک روڈنی بروکس (Rodney Brooks)نے مجھ سے کہا کہ چین ان کے روبوٹس کیلئے ایک بڑی مارکیٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ چین کے روبوٹ بنانے والوں نے اب لچکدار اور ذہین روبوٹس بنانے شروع کردیئے ہیں لیکن وہ اب بھی مغربی مینوفیکچررز سے بہت پیچھے ہیں۔

mj16-chinarobots-5

چین کی تعمیر نو

یہ دیکھنے کیلئے کہ چین کے محققین روبوٹکس میں کتنا آگے بڑھ گئے ہیں میں نے شنگھائی میں جیائو ٹونگ یونیورسٹی (Jiao Tong University)میں چین کی سب سے پرانی روبوٹ لیب کا دورہ کیا جو 1979ء میں قائم ہوئی تھی۔ وہاں پر ایک 40سالہ پروفیسر جھو ژیان ژیانگ(Zhu Xiangyang)نے میرا مسکراتے ہوئے استقبال کیا۔ لیب میں چند درجن پروفیسروں ، سائنسدانوں اور 100 سے زیادہ ڈاکٹریٹ اور ماسٹر کے طالب علم موجود تھے ۔ ایک کمرے میں دماغ کو کنٹرول کرنے والی روبوٹک وہیل چئیر موجود تھی۔ اس پر ایک طالبعلم نے الیکٹریکل تاروں سے بھرا ہوا ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔

ایک ویڈیو میں وائرلیس سائبورگ کاکروچ حرکت کرتا نظر آیا۔ دوسرے کمرے میں ایک سانپ کی طرح روبوٹ کا مظاہرہ کیا جارہا تھا۔ ایک گیراج میں چینی کارساز ادارے کی طرف سے خودکار ڈرائیونگ کار تیار کی جارہی تھی۔بہت سے متاثر کن تحقیقی منصوبوں کے باوجود میں حیران ہوں کہ چین اپنے مینوفیکچرنگ عزائم کو کیسے پورا کرے گا۔ چین میں کائی یو (Kai Yu)نے ہورائزن روبوٹکس (Horizon Robotics)نامی کمپنی قائم کی ہے۔ وہ پہلے بیدو کمپنی میں مصنوعی ذہانت کی تحقیقی لیبارٹری کے سربراہ تھے۔ بیدو لیب کے ر اندر یو اور ان کے ساتھیوں کی توجہ مصنوعی ذہانت اور گہری آموزش پر مبذول رہی۔ محققین اب اگلی نسل کیلئے مشین لرننگ والے صنعتی روبوٹ کی تیاری کا آغاز کررہے ہیں۔ یو نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل میں چین میں روبوٹکس سے متعلق زیادہ تخلیقی کام کیا جائے گا۔تاہم بینادی ٹیکنالوجی، گہری آموزش اور مشین کا عصبی نیٹ ورک اپنی جگہ موجود رہے گا۔

کائی یو (Kai Yu) کو یقین ہے کہ چین کی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کی طرف سے دیگر مقاصد کیلئے تیار کی جانے والی مصنوعی ذہانت روبوٹس میںاستعمال کی جاسکے گی۔ چین کے پاس روبوٹس کی مارکیٹ کیلئے اس وقت بہت اچھا موقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ ذہین مشینیں بنانے کیلئے پانچ سالہ تجربہ اور ہنر کام آسکتا ہے۔ سی آئی جی کمپنی کے مالک وونگ نے مجھے پاور پوائنٹ پر اپنے آئندہ چند سالوں کے منصوبے دکھائے۔ وونگ نے بتایا کہ پہلے ہم معیاری روبوٹ تیار کریں گے۔ اس کے بعد مزید ترقی یافتہ روبوٹ بنائیں گے۔ ہمیں اپنے روبوٹس میں نہایت ترقی یافتہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے عزم، ملک میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ضرورت چین کو اعلیٰ معیار کے روبوٹکس کی طرف لے جارہی ہے۔ اس لئے بہت زیادہ امکان ہے کہ چین اس میں کامیابی حاصل کرلے گا اور جلد ایڈوانس آٹومیشن میں لیڈر کا کردار ادا کرے گا۔ لیکن میں ابھی تک حیران ہوں کہ چین میں روبوٹکس انقلاب کے بعد انسانی فیکٹری کارکنوں کا کیا بنے گا۔وونگ کا کہنا ہے کہ کارکن قصبوں میں واپس چلے جائیں گے اور وہاں کسی ریسٹورانٹ، کھیت یا پھر گھروں میں مزدوری کریں گے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن یہ کام اتنا سادہ نہیں ہے۔

تحریر: وِل نائیٹ (Will Knight)

mj16-chinarobots-6

Read in English

Authors

*

Top