Global Editions

چین سائبر حملوں کے زیادہ نشانے پر

عموماً چینپر ہیکرزکے ذریعے سائبر حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جیسےحال ہی میں امریکی پرسونل مینجمنٹ (Personnel Management)کے دفتر پر کیا گیا ہیکنگ حملہ تھا جبکہ چین خود بھی اس وقت سب سے زیادہ سائبر حملوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔ چین کے اندر بیٹھے ہوئے ہیکرز ہی اس کی جان نہیں چھوڑ رہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں ایپل کے آئی فون کو نشانہ بنانے کیلئے چین کی فائل شئیرنگ سائیٹ پر جعلی ایپل کا ایکس کوڈ (Apple Xcode)سوفٹ وئیر ٹول پیش کیا گیا۔ جس نے صرف چین میںایپل کے 100ملین یوزرز کو متاثر کیا۔ یہ ایپل پر آج تک کا سب سے بڑا سائبر حملہ تھا۔ ہیکرز کا اس سے بھی بڑا حملہ اکتوبر میں چین کے سوشل میڈیا اور نیوز پلیٹ فارم نیٹ ایز(Net Ease)پر کیا گیا۔ ہیکرز نے کمپنی کی ای میل ویب سائٹ 163.comکو ہیک کرلیا جس پر ابھی تک تحقیقات چل رہی ہیں۔ جس میں ہیکرز نے ویب سائٹ پر موجود عرف نام، پاس ورڈز، سیکورٹی سے متعلق سوالات اور ان کے جوابات اور کروڑوں کی تعدادمیں چینیوں کا ڈیٹا افشاء کردیا۔

چین میں قائم سائبر حملوں کے خطرات سے آگاہ کرنے والی کمپنی تھریٹ بُک(Threat Book)کی بانی اور مائیکروسوفٹ میں سائبر سیکورٹی کی ماہر ہونگ جیا (Hong Jia)کہتی ہیںکہ چین کی کمپنیاں اور افراد سائبر حملوں کے خطرے کے بارے میں آگاہی حاصل کررہے ہیں۔ ہونگ نے ویتنام میں ایسوسی ایشن آف اینٹی وائرس ایشیا ریسرچرزانٹرنیشنل کانفرنس (Association of Antivirus Asia Researchers International Conference) میں کہا کہ بڑے کاروباری ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی دن ان پر بھی سائبر حملہ ہو سکتا ہےاس طرح ساری کمپنیاں ہیکرز کیلئے کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں۔
آڈٹ کی ایک فرم پرائس واٹر ہائوس کُوپرز (Price Waterhouse Coopers)کے ایک سروے کے مطابق گزشتہ سال چین اور ہانگ کانگ کی ہر کمپنی پر اوسطاً 1245سائبر حملے کئے گئے۔ جبکہ اس سے پچھلے سال 241سائبر حملے کئے گئے تھے۔ آئی فون پر بڑے حملے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو چین کی کمپنیوں پر ہیکرز کے حملوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی ایف سیکور (F-Secure)کے ڈائریکٹر اور جنرل منیجر انگ ور فروئی لینڈ (Ingvar Froiland)کہتے ہیں کہ سائبر حملوں کے جو خطرات آپ چین میں دیکھ رہے ہیں وہ دراصل طے شدہ اہداف پر کئے جاتے ہیں۔ یہ خطرات دن یا کسی واقعہ کے حوالے سے مخصوص ہوتے ہیں مثلاً چین کے کسی قومی دن یاچھٹی والے دن حملہ کیا جاتا ہے۔ یہ حملے کمپیوٹر سسٹم اور ایپلی کیشن پر بھی ہو سکتے ہیںاور بعض اوقات یہ حملے کمپیوٹر گیمز یا پھر چین میں زیادہ تر استعمال ہونے والی ویب سائٹ پر کئے جاتے ہیں۔

گزشتہ سال چینی حکام نے ایک ہیکنگ ولیج (Hacking Village)بھی دریافت کیاجو کہ ویتنام کے زیادہ تر دیہات میں ہے۔ یہ لوگ سائبر کرائمز، سائبر فراڈاور ہیکنگ میں ملوث ہیں۔ یہ لوگ عمومادنیا کی انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ٹینسینٹ (Tencent)پیغام بھیجنے اور وصول کرنے والے سوفٹ وئیر کیوکیو انسٹنٹ میسجنگ (QQ Instant Messaging)استعمال کرتے ہیں۔ ٹینسینٹ کمپنی میں اینٹی مالاوئیر کے ماہر لیو ژائوو (Liu Zhao)نے ڈینانگ کانفرنس کے موقع پر کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ چین میں سائبر حملوں کیلئے ہیکرز نئے ٹرِکس استعمال کررہے ہیں۔ وہ متاثرہ کمپیوٹر کے کسی بھی بےضرر آئیکون کے ساتھ ضرررساں مالاوئیر کی فائل منسلک کردیتے ہیں مخصوص اہداف پر ہونے والے حملوں کو روکنے کیلئے کمپیوٹرز کے پتوں (Addresses)پر چلنے والی ٹریفک کی نگرانی کی جارہی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ چین کے شہری دراصل میں اپنے موبائل فونز کیلئے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھاتے۔

تحریر: مائیکل سٹینڈرٹ (Micheal Standaer)

Read in English

Authors

*

Top