Global Editions

چین انٹرنیٹ کوکس طرح مصنوعی ذہانت کے طور پر استعمال کررہاہے؟

چین کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنی بیدُو Baidu، اپنی مصنوعات کیلئے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کیلئے پرجوش انداز میں کوشش کررہی ہے۔بیدُو چین کاسب سے زیادہ کامیاب انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ جس کے ملک بھرمیں صارفین کی تعداد 536 ملین سے زائد ہے۔ گزشتہ سال بیدُو موسیقی ،انشورنس، اور بینکاری کے شعبوں میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ کمپنی کے چیف سائنسدان اور ایک ممتاز مشین لرننگ کے ماہر اینڈریو این جی (Andrew Ng)کہتے ہیں کہ بیدُو مصنوعی ذہانت کو تیزی سے بدلتے مسابقتی کاروباری ماحول کیلئے استعمال کررہا ہے۔ میں جب بیجنگ میں بیدُو (Baidu)کے دفتر گیا تو نوٹ کیا کہ مصنوعی ذہانت کےایک محقق کے سمارٹ فون پر میرا چہرہ چھوٹے مگر خوبصورت کتے کی شکل میں بدل گیا ہے۔ جس کے بالوں سے بھرے کان، گیلی تھوتھنی اور اس سے باہر کو نکلی ہوئی گلابی لمبی زبان لٹک رہی تھی۔ یہ سب ایک ایپلی کیشن (Face You)کا کمال تھا جو بیدُو نے گزشتہ سال ہالووین (Halloween)کے موقع پر متعارف کروائی ۔ جس کی مدد سے آپ اپنے ڈیجٹل چہرے پر کسی بھی جانور کی تصویر لگا سکتے ہیں۔

فیس یُو مصنوعی ذہانت کی گہری آموزش کی تکنیک استعمال کرکے خود بخود ایک شخص کے چہرے پر اہم نکات کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ سافٹ ویئر چہرے پر اس کی پوزیشن کے حساب سے کمال کی درستگی کے ساتھ ایک ماسک چڑھا دے۔ گہری آموزش سے بیدُو کی ایک بے وقوفانہ ایپلی کیشن سے کہیں بڑھ کر بہت سے کام لئے جارہے ہیں۔ یہ موجودہ مصنوعات سمارٹ بنانے اور کمپنی کے انجینئرز کو نئے خیالات فراہم کرنے میں بہت مدد کررہے ہیں۔ بیدُو بہت سی کمپنیوں فیس بک، گوگل، مائیکروسوفٹ اور آئی بی ایم کی طرح گہری آموزش کو اپنی ایپلی کیشنز میں استعمال کررہی ہے۔ گہری آموزش (Deep Learning)کے پیٹرن کو تسلیم کرنے اور اعداد و شمار سے پیشن گوئی کرنے میں بہت موثر ثابت ہوئی ہے۔

گہری آموزش بنیادی طور پر مشین لرننگ ہی کی ایک مؤثر قسم ہے جس میں کمپیوٹرز وسیع مقدار میںموجود ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد خود پروگرام کے مسائل حل کرتے ہیں۔ اس میں بہت بڑے نیٹ ورک کے مصنوعی دماغ کو ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے جس سے وہ خود ہی مختلف کاموں کو سرانجام دینے کیلئے پیٹرن بناتا ہے۔ مثال کے طور پرایک تربیت یافتہ نیٹ ورک توتصویر میںمخصوص مقامات کی نشاندہی کرسکتا ہے یہ اس بات کا تعین کرسکتا ہے کہ آیا ایک نیا ای میل پیغام درست ہے یا فضول ہے ۔اس تکنیک نے یقیناً چین میں بیدُو کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔ اینڈریو این جی کہتے ہیں کہ بیدُو نے گزشتہ دسمبر میں مظاہرہ کیا کہ گہری آموزش نمایاں طور پر اشتہارات کے ذریعے آمدنی میں اضافے اور اس طرح کی تمام نئی کوششوں مثلاً خودکار ڈرائیونگ کے نظام کو بہتر بنانےمیں مدد کررہی ہے۔
بیدُو کی لیبارٹری مصنوعی ذہانت کی گہری آموزش میں امریکہ کی سلیکون ویلی کے منصوبوں میں تعاون کررہی ہے۔ بیدُو کی لیبارٹری 2013ء میں قائم کی گئی جو مصنوعی ذہانت پر پہلے سے ہی کام کررہی ہے۔ اینڈریو این جی کہتے ہیں کہ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے بعد بیدُو نے جو پہلا قائم کیا وہ پیڈل (Paddle)نامی ایک گہری آموزش کاپلیٹ فارم بنانا تھا جسے دیگر محکموں کے انجینئرز بھی استعمال کرسکیں۔

ایک نوجوان محقق جیاوی (Jiawei) نے مجھے بیدُو کا بنایا ہوا جسم پر پہننے والا آلہ ڈیو لائیٹ (DuLight)دکھایا جو نابینا یا جزوی بصارت والے لوگوں کی چلنے پھرنے اور دنیا دیکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ آلہ آپ ایک بلوٹوتھ ہیڈسیٹ کی طرح کان پر پہن سکتے ہیں اور آپ کے سامنے جو بھی شے آئے اسے براہ راست شناخت کرتا ہےجیاوی نے ڈیو لائیٹ کے سامنے کرسی اور پودے کو کیا تو اس نشاندہی کی کہ یہ ایک ہلکی پلاسٹک کی کرسی ہے ،سرسبز گملوں کاپلانٹ ہے۔ انہوں نے ڈیوائس کو میری طرف کیا تو اس نے نشاندہی کی کہ “ایک 37 سال کی عمر کا مسکراتا ہوا آدمی۔ اس نے بڑا قریب کا اندازہ لگایا تھا۔
مصنوعی ذہانت نے گہری آموزش نے مصنوعات کو بہتر بنانے میں بیدُو کی بہت مدد کی۔ مصنوعی ذہانت سے بیدُو کے آواز کی شناخت میں معاونت کرنے والے سسٹم ڈیو اِر (DuEr)کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ جس کمپنی کی آواز کی شناخت کے انجن کی درستگی میں اضافہ ہوا ہے۔ چین میں سپیچ ٹیکنالوجی بیدُو کے مستقبل کیلئے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ایک چھوٹی سی سکرین پر چینی حروف کو خود ٹائپ کرنے کی بجائے آواز کے ذریعے موبائل ڈیوائس پر تحریر کرنازیادہ آسان ہے۔ انڈریو کہتے ہیں کہ کوئی بھی کمپنی جس کا بہت زیادہ ڈیٹا ہے اسے گہری آموزش کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک سپر پاور ہے جو بہت بڑے ڈیٹا کو بہترین انداز میں استعمال کرتا ہے۔

تحریر: وِل نائیٹ (Will Knight)

Capture

Read in English

Authors

*

Top