Global Editions

کمپیوٹر کی مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیتوں کامقابلہ نہیں کرسکتی

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر انسانی فنکارانہ صلاحیتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ کمپیوٹرز کی مصنوعی ذہانت محدود ہے اور اس میں برمحل فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی جبکہ انسان میں تخلیقی صلاحیتوں میں مہارت کا عنصر بھی شامل ہوتاہے۔۔ تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے موسیقی میں ڈی جے (DJ)کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ڈی جے نئی موسیقی تخلیق نہیں کرتابلکہ وہ پہلے سے موجود متعدد موسیقی کے ٹکروں کو جوڑکر انہیں نئی طرز میں ڈھالتا ہے۔ ایسی موسیقی کا انحصار ڈی جے کے اپنے منتخب کردہ گانوں اور موقع محل کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ ڈی جے ہمیں موسیقی سے ہمارے ثقافتی تعلق کی یاد دلاتے ہیں جسے ہم عام حالات میں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ ایک اچھا ڈی جے موسیقی کے مختلف ٹکروں کو مہارت کے ساتھ بہتر انداز میں جوڑتا ہے ۔ماہرین کے مطابق زیادہ ثقافتی تعلق اس وقت بنتاہے جب کسی موسیقی کو گیت میں ڈھالا جاتاہے ،تاہم شاعری کے بغیر موسیقی کے سروں کو مرتب کرنے کی اہمیت کم ہے۔

دوسری طرف اگر کمپیوٹر کو دیکھا جائے تو کمپیوٹر کی پیش کردہ موسیقی میں قدرتی زبان بہت محدود ہوتی ہے جس کی وجہیہ ہے کہ وہ لفظوں کے لغوی مفہوم یا ادبی زبان کو کم سمجھتاہے ۔ جیسے کمپیوٹرز کے ذریعے ناول لکھے جا چکے ہیں لیکن ان کی لغت خوفناک حد تک کمزور ہے یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹرز کے ذریعے تخلیق کردہ موسیقی آج تک کوئی ایوارڈ نہیں جیتی۔

کمپیوٹر کے ذریعے تخلیق کردہ آرٹ گزشتہ چند سالوں میں مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ اس سلسلے میں ارنسٹ ایڈمنڈ( Ernest Edmond)نے واشنگٹن میں منعقدہ کلر فیلڈ ری مکس( Color Field Remix ) نمائش میں حیران کن رنگوں کی تصاویر پیش کیں۔ اسی نمائش میں رچرڈ براؤن( Richard Brown )کی مائیمیٹک سٹارفش(Mimetic Starfish )بھی موجود تھی، جس کے بارے میں ٹائم رسالہ کی رائے ہے کہ لندن کے نمائش ہال میں یہ سب سے بہترین چیز تھی۔ لیکن اس قسم کے فنی کام میں مطابقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایڈمنڈ کا کام تجریدی آرٹ ہے جس میں اس نے ترچھی پٹیاں دکھائی ہیں جو رنگ بدلتی ہیں۔ سٹار فش کو دیکھ کر حقیقی زندگی اور حرکات کا احساس ہوتاہے حالانکہ اس کا کوئی خاص ثقافتی تعلق نہیں ہے۔

تحریر: مارگریٹ اے بودین (Margaret A.Boden)

مارگریٹ اے بودین (یہ مضمون مارگریٹ اے بودین نے لکھا ہے جو سسکس یونیورسٹی(University of Sussex) میں ادراکی سائنس کی پروفیسر ہیں۔انہوں نے ایک کتاب’’ تخلیقی صلاحیتیں اور فن : تین حیران کن راستے ‘‘بھی لکھی ہے)

Read in English

Authors
Top