Global Editions

پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں نیا انقلاب

ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے کہ ابھی ایک ٹیکنالوجی پوری طرح متعارف نہیں ہوتی تو اس سے اگلی جنریشن مارکیٹ میں آنے کے لئے تیار ہوتی ہے۔ ابھی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا شہرہ تھما نہیں تھا کہ فور ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی میدان میں آ گئی ہے۔ گزشتہ دنوں تحقیق کاروں نے پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں اس نئی جہت سے پردہ اٹھایا اور فور ڈی پرنٹنگ کا عملی مظاہرہ اس طرح کیا کہ ہموار سطح پر پیچیدہ اشکال بنائیں اور اس پرنٹ شدہ اشکال کو پانی میں ڈال دیا۔ پرنٹنگ کی اس نئی جہت کے لئے تحقیق کار مائیکرو سکیل پرنٹنگ کی مدد لی گئی۔ فور ڈی پرنٹنگ کے لئے کی جانیوالی تحقیق کاروں کی ٹیم کی سربراہ اور ہاروڈ یونیورسٹی کی مٹیرئل سائنٹسٹ جینیفر لیوئس (Jennifer Lewis) ہیں اور ان کی اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائی گئی اشیاء اگرچہ دیدہ زیب نہیں تھیں تاہم اس تجربے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو کئی اچھے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فور ڈی پرنٹنگ سے باقاعدہ طور پر کمپیوٹر پروگرامڈ اشیاء بنائی جا سکتی ہیں اور یہ اشیاء بعد ازاں اپنی شکل بدلنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فور ڈی پرنٹنگ کے لئے ہونیوالا حالیہ تجربہ نیا نہیں آج سے تین برس پہلے بھی ایم آئی ٹی کے آرکیٹکچر ڈیپارٹمنٹ کے تحقیق کار سکائلر ٹیبیٹس (Skylar Tibbits) نے اس کی تفصیل پیش کی تھی۔ تاہم سکائلر کی تحقیق میں فور ڈی پرنٹنگ کے لئے دو طرح کی مٹیئریل استعمال کئے تھے ایک سخت اور دوسرا نرم اور انہیں جب پانی میں ڈالا جاتا تھا تو وہ پھیل جاتے تھے۔ لیوئس اور ان کی ٹیم نے فور ڈی پرنٹنگ کے لئے اگرچہ سکائلر کی تکینک ہی استعمال کی ہے لیکن انہوں نے اس کے لئے ایک ہی مٹیرئل استعمال کیا ہے یہ ایک سیال نما شئے ہے جس میں سیلولوز کے ریشے استعمال کئے گئے ہیں۔ ان ریشوں کی مدد سے پرنٹ کئے گئےobject کی سختی اور اس میں ضرورت کے مطابق لچک بھی برقرار رہتی ہے اور اسے پانی میں ڈالنے سے نہ صرف اس کی شکل بدل جاتی ہے بلکہ یہ کسی حد تک پھول بھی جاتا ہے۔ لیوئس کا کہنا ہے کہ فور ڈی پرنٹنگ کے لئے استعمال ہونے والی ہائیڈرو انک اور اس کی مدد سے بننے والی اشکال کسی بیرونی محرک جیسے ہوا، پانی، روشنی کے ساتھ مل کر شباہت بدل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلولوز کے ریشوں کی مدد سے بننے والی اشکال مختلف الیکٹرانک مصنوعات میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کو اگر مزید ترقی دی جائے تو اس کی مدد سے مصنوعی انسانی ٹشوز بھی بنائے جا سکتے ہیں جو عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہیں۔ تاہم ایسا ہونا اگرچہ ناممکن نہیں لیکن اس کے لئے مزید تجربات اور وقت درکار ہے کیونکہ سائنس میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top