Global Editions

پاکستا ن میں کام کرنے کےلئے واٹس ایپ ، سکائپ اور فیس بک کے لئے لائسنس لینے کی شرط

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری سے جاری ہونے والی ٹیلی کمیونیکشن پالیسی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ریگولیٹری اتھارٹی (PTA) کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والے اداروں اور ان کی مصنوعات کو ایک لائسینسنگ فریم ورک کے تابع کرے۔ اس کے تحت ملک میں کام کرنے والی او ٹی ٹی (OTT) سروسز جس میں سکائپ، واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ شامل ہیں کو پاکستان میں اپنا آپریشن جاری رکھنے کے لئے پی ٹی اے سے لائسنس لینا لازمی ہو گا۔ ٹیلی کام پالیسی کے سیکشن 5.2.5 میں قرار دیا گیا ہے کہ ٹیلی کام ایکٹ کے سیکشن 20 کے مطابق او ٹی ٹی (Over the Top) سروسز اور ان خدمات کو پیش کرنےوالوں کے لئے لازم ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے اور سیکورٹی ضروریات کے تحت خود کو قواعد کے مطابق رجسٹر کرائیں اور اپنے آپریشنز کےلئے لائسنس حاصل کریں۔ اس ضمن میں دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کن او ٹی ٹی سروسز کو لائسنس لینے کہ ضرورت ہو گی اور او ٹی ٹی سروسز کو لائسنس جاری کرنے کا طریقہ کار کیا ہے لیکن انہیں پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ سیکورٹی ضروریات کے تحت خود کو پی ٹی اے کے قواعد کے مطابق  رجسٹر کرائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ایپلی کیشنز استعمال کرنے والوں اور ان ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہوئے ہونے والی پیغام رسانی تک سیکورٹی اداروں کو رسائی دیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ او ٹی ٹی سروسز کو ریگولیٹ کرنے کا منصوبہ قابل عمل نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے لئے کوئی میکنزم موجود نہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پالیسی سے صارفین، ٹیلکوز، ریگولیٹر یا کسی اور ادارے کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ 2003ء میں جاری ہونے والی ٹیلی کام پالیسی تشکیل دینے والی ٹیم کے رکن سلمان انصاری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جو او ٹی ٹی سروسز کو ریگولیٹ کرسکے کیونکہ اس کا کوئی موثر طریقہ کار ہے ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس لمحے آپ ان سروسز کو بلاک کرینگے جیسا کہ یو ٹیوب کے معاملے میں ہوا صارفین وی پی این اور مختلف پراکسیسز کے ذریعے ان ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کر لیں گے اس طرح یہ پابندی بے کار چلی جائیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیک بیری سروسز اس کی مثال ہے کیونکہ جیسے ہی ریگولیٹر نے اس سروسز تک رسائی مانگی کمپنی نے اپنی سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا اس عمل سے فائدے کے بجائے نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ پی ٹی اے کے اس فیصلے پر قومی پریس نے بھی کڑی نکتہ چینی کی لہذا ایسے قوانین بنانے کا کوئی فائدہ نہیں جنہیں کوئی تسلیم ہی نہ کرے۔

Authors
Top