Global Editions

پاکستان میں سائبر سکیورٹی پر تیزی سے کام ہورہا ہے

بعض اوقات خطرہ ،کہیں تیزی سے ہماری طرف پیش قدمی کررہا ہوتا ہے اور وہ ہماری سوچ سے بھی کہیں زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی خاص نظام کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں اور اسے خطرے سے بچانے کیلئے محض ایک بار نہیں بلکہ مسلسل منصوبہ بندی کرتے رہنا ہو گی۔ اس سلسلے میں امریکی سکیورٹی اداروں کو خدمات فراہم کرنے والے ایڈم ونسنٹ (Adam Vincent) نےاپنے ایک مقالے لیئر 7ٹیکنالوجیز (Layer 7 Technologies)میں 2016ء میں درپیش سائبر سکیورٹی کے خطرات کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ جب ہم اس کا اطلاق پاکستان پر کرتے ہیں تو سائبر سکیورٹی کا سوال زیادہ پریشان کن ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (DRF)کی بانی نگہت داد (Nighat Dad)کہتی ہیں کہ لوگ سائبر سکیورٹی اور سائبر کرائم میں فرق نہیں جانتے ۔ سائبر سکیورٹی بہت حساس موضوع ہے جس میں سرحدپار سے سائبر حملے اور مختلف ریاستوں کی پالیسیاں اہمیت رکھتی ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین نے سائبر سکیورٹی سے متعلق قانون تجویز کیا لیکن تاحال اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ نگہت داد کا کہنا ہے کہ آپ کو سرحد پار سائبر حملوں سے نپٹنے کیلئے مناسب پالیسی کی ضرورت ہے۔ سنوڈن کے انکشافات کے مطابق حال ہی میں برطانیہ کی سکیورٹی ایجنسی نے پاکستان میں انٹرنیٹ ایکسچینج گیٹ وے کے ذریعے گورنمنٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹر میں ہیکنگ کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا میں سائبر حملوں کا دوسرا بڑا ہدف ملک ہے۔ سائبر سکیورٹی چونکہ بین الا قوامی مسئلہ بن چکا ہے اس لئے بہت سے ممالک نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ان میں مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی شامل ہیں جو اپنے ہاں آئی ٹی کے شعبے قائم کررہے ہیں اور سائبر سکیورٹی کے بارے میں اہم بنیادی ڈھانچے کے بارے میں آگاہی پیدا کررہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ای -سکیورٹی کے حوالے سے دبئی سینٹر قائم کیا ہے جہاں پر اس حوالے سے معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے بارے میں پیش رفت کیا ہے؟

پاکستان کی آئی ٹی وزیر انوشہ رحمان نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ "عام طور پر تحفظ اور سکیورٹی کے خدشات تیز رفتار ترقی کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور مختلف ایپلی کیشنز استعمال کرنے کے حوالے سے لوگوں کا اعتماد بھی متاثرہوتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "سائبر مجرمانہ سرگرمیاں انٹرنیٹ کے ایک تاریک پہلو کی نمائندگی کرتی ہیں جنہیں مشترکہ کوششوں کے ذریعے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں درپیش مسائل سے موثر طور پر نپٹنے کیلئے قوموں میں سکیورٹی کے حوالے سے صلاحیت کی تعمیر مؤثر طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔

انسانی حقوق اور ڈیجیٹل حقوق کی سرگرم کارکن گل بخاری بائٹس فار آل (Bytes for All) کےساتھ وابستہ ہیں انہوں نے بتایا کہ خواتین کیخلاف آن لائن تشدد پر تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ سائبر مجرم قدرتی آدمی (natural person)کیخلاف کتنی دیدہ دلیری کے ذریعے مصروف عمل ہیں۔ (قانون میں ایک قدرتی شخص natural person پرائیویٹ، کاروباری شخص، سرکاری اور غیرسرکاری تنظیمیں ہو سکتی ہیں)جب سائبر مجرموں کو پتہ ہو کہ قانون انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا تو وہ بلا خوف و خطر سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی کرتے ہیں لہٰذا سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی روکنا ہی ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ قومی سطح پر ہمیں عام لوگوں کے ساتھ سائبر کرائمز کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ اس کی ایک جھلک ہمیں پولیس اور ایف ٓئی اے میں بھی ملتی ہے جنہیں خاص طور پر سائبر جرائم سے نپٹنے کا فریضہ سونپا گیا ہےلیکن کئی بار ایف آئی اے نے سائبر مجرموں کا سراغ نہ لگا سکنے کا اعتراف کیا۔

گل بخاری کہتی ہیں کہ (Mutual Legal Assitance Treaties)باہمی قانونی معاونت کے معاہدے (MLATs)نہ ہونے کے باعث مسلسل ہونے والے سائبر جرائم نہیں روکے جا سکتے۔ ان کی کمی کی شکایت کرنا محض ایک بہانہ ہے۔ ’’مسلسل جرم کی ایک مثال برطانیہ میں ایک بلاگ کی دی جاسکتی ہے جو کسی کی ذاتی معلومات جیسے خاندان کا پتہ ، فوٹو، شناخت، کسی پر گستاخی رسول کا الزام لگانا یا عصمت دری ، قتل کی دھمکی دینا وغیرہ کی معلومات دی جاتی ہیں۔ـــــــ‘‘ ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ سائبر مجرموں کو قانون کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے اسی لئے عورتوں کیخلاف جرائم اور ان پر تشدد بڑھ گیا ہے۔ مثال کے طورپر پاکستان کے شہر پشاور میں پولیس نے دو لڑکوں کو فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے طالبات کو بلیک میل کرنے اور ہراساں کرنے پر گرفتار کرلیا۔ ہائی کورٹ کی وکیل علینہ علوی کہتی ہیں کہ پاکستان میں سائبر سیکورٹی کے حوالے سے کوئی خاص قانون نہیں بنایا گیا۔

پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے صرف الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002ء ہے جو فرسودہ ہو چکا ہے اور موجودہ دور کی ضرورریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس موضوع پر قانون سازی کرنے سے پہلے آپ کو سائبر سکیورٹی میں درپیش پیچیدگیوں اور مشکلات کو سمجھنا ہو گا۔ زیادہ تر ممالک میں وزارت دفاع ہی سائبر سکیورٹی سے نپٹتی ہے کیونکہ مسلح افواج ہی سائبر دفاع اور سائبر حملوں پر کام کررہی ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں ہماری وزارتوں میں مسئلے کے حل کیلئے تاحال کوئی باہمی تعاون موجود نہیں ہے۔

"بولو بھی " (Bolo Bhi)کی ڈائریکٹر فریحہ عزیز (Fareiha Aziz)کہتی ہیں کہ کئی ممالک میں کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں ہیں جو سائبر سکیورٹی کے مسائل سے نپٹتی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی تنصیبات کی حفاظت کیلئے اقدامات اٹھاتے ہیں بلکہ کسی حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلح بھی ہوتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں۔ انٹر نیشنل کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز کی حالیہ تحقیق کے مطابق سائبر حملوں سے نپٹنے کی تیاری میں پاکستان کا درجہ کم ہے۔ ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عمار جعفری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سائبر سکیورٹی خطرات سے نپٹنے کیلئے پاکستان کو بین الاقوامی قانونی معاہدات کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ بامعنی اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ "تمام اسٹیک ہولڈرز کو سائبر دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کیلئے ایک مضبوط میکنزم وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ سائبر کریمنلز کا اپنا خفیہ اور محفوظ نیٹ ورک ہوتا ہے۔ سیٹلائٹ مواصلات کو خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اس لئے ہمیں سائبر جرائم کے واقعات سے نپٹنے کیلئے سی ای آر ٹی کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مصنوعی سیارے کو ہیک کرنا کمپیوٹر ہیکنگ سے مختلف نہیں ہے۔ مستقبل کی جنگیں جسمانی نہیں ہوں گی وہ بنیادی ڈھانچہ تباہ کیلئے لڑی جائیں گی۔

سائبر جرائم کے اعدادوشمار

ایف آئی اے کے اعدادوشمار کے مطابق، قومی رسپانس سینٹر کو گزشتہ سال سائبر کرائم کی 2100شکایات موصول ہوئیں جبکہ اس سے پچھلے سال کی 434شکایات زیر التوا تھیں۔ ان میں سے 371کو انکوائریز میں بدل دیا گیا جبکہ 1604شکایات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ ان میں سے 559شکایات تاحال زیر التوا ہیں۔ قومی رسپانس سینٹر کو 2014ء میں 758شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 460کو انکوائریز میں بدل دیا گیا، 46پر مقدمات بنائے گئے، 441کو ختم ، منتقل یا ضم کردیا گیا جبکہ 271تاحال زیر التوا ہیں۔ 2014ء میں 44افراد اشتہاری ملزمان تھے جن میں گزشتہ سال دو اور کا اضافہ کردیا گیا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہر شکایت پر کارروائی نہیں کرسکتے کیونکہ مجوزہ سائبر کرائم بل ابھی تک پاس نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سائبر کرائم بل پاس نہ ہونے کی وجہ سے ایف آئی اے کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔

مجوزہ سائبر کرائم قانون پر بحث

مشرف حکومت کی طرف سے پاکستان الیکٹرانک کرائم آرڈیننس (PECO) متعارف کرائے جانے کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 2015ء میں الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کا بل (Prevention of Electronic Crime Bill)پیش کیاجو سینٹ قائمہ کمیٹی میں 26جولائی 2016ء کو منظور کیا گیا۔ سائبر کرائمز سے نپٹنے کیلئے یہ وقت کی ضرورت تھی تاہم اس پر بہت تنقید بھی کی گئی۔ نگہت داد کا کہنا ہے کہ اس بل میں آزادی تقریر اور آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ "مجوزہ بل کی شق 34 آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔ اس شق سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قومی مفاد کیخلاف یا اسلام کیخلاف یا دوست ممالک سے تعلقات متاثر ہونے والے مواد پر پابندی لگانے کیلئے لامحدوداختیارات مل جاتے ہیں۔ یہ تمام شرائط مبہم ہیں۔ اگر اس کی وسیع تناظر میں تشریح کی جائے تو یہ کھلی سنسر شپ ہے۔ انہوں نے بل کی شق 29پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے (آئی ایس پیز) کی طرف سے ٹریفک کی معلومات سے متعلق ہے۔ ــ‘‘عملی طور پر یہ کام کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس کیلئے ہمارے پاس وسائل ہی نہیں ہیں۔ مزید برآں یہ رازداری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کسی بھی مناسب نظام کے بغیرکس طرح ایک سال کیلئے ڈیٹا کو روک سکتے ہیں؟ نگہت داد کہتی ہیں کہ پاکستان کی طرح دیگر ممالک میں بھی سائبر کرائم بل متعارف کروایا گیا لیکن انہوں نے اسے مسترد کردیاکیونکہ اس سے انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

فریحہ عزیز کہتی ہیں کہ مجوزہ سائبر کرائم بل مختلف قوانین کا مجموعہ ہے۔ اس میں ٹیلی کام کرائم اور تقریر پر کرائم کی شقیں شامل کی گئی ہیں ، یہ قوانین پہلے سے ہی موجود ہیں۔ اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو جرم شمار نہیں ہوتیں مثلاً سپیمنگ (Spamming)ہے۔ دوسرے ممالک میں سپیمنگ پر الگ سے قانون سازی کی گئی ہے جنہیں قواعد و ضوابط کے تحت دیکھا جاتا ہے، اسے سائبر کرائم بل میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد، دفعہ 34، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو مواد آن لائن کو سنسر کرنے کا حق دیتی ہے۔ گل بخاری کہتی ہیں کہ بل کے ذریعے سینسر شپ، معلومات تک رسائی کو روکنے اور اپنی مرضی سے انہیں فراہم کے بارے میں ریاستی اختیار کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ اس سے حکومتی ادارے (پی ٹی اے) کو عدالتی حکم کا سہارا لئے بغیرسنسر شپ کے صوابدیدی اختیارات مل جاتے ہیں۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی جو نیئر افسر کسی مواد کو گستاخانہ، اسلام کے خلاف ، قومی یکجہتی کیخلاف، دوست ممالک سے تعلقات کیخلاف ، امن و امان کیخلاف، اخلاقیات کیخلاف یا توہین عدالت پر مشتمل مواد قرار دے کر سنسر کرسکتا ہے۔

گل کہتی ہیں کہ اگر کوئی سرکاری ملکیت کی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے ، پروگرام یا سافٹ ویئر میں مداخلت کرتا ہے تو اسے جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا 14سال قید ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بل حکام کو خود خلاف ورزی کی دعوت دیتا ہے مثلاً اس بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی گھر یا پرائیویٹ احاطے میں داخل ہو کر تلاشی لینے اور ہارڈ ورئیر اور اس میں موجود تمام معلومات ضبط کرنے کیلئے سرچ وارنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پر ڈیٹا کے غلط استعمال، ڈیٹا کی ارادی یا غیر ارادی غلط ضبطی پر کوئی سزا نہیں ہے۔ حقیقت کے برعکس بل میں تشدد پر ابھارنے اور بچوں کو ورغلانے کے بارے میں ایک بھی شق شامل نہیں کی گئی۔

علینہ علوی کہتی ہیں کہ "میرے نزیک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے بل میں سائبر سکیورٹی، سائبر کرائم اور سائبر دہشتگردی کو ملا دیا ہے۔ انہوں نے بل میں حساس اہم بنیادی ڈھانچے کی تعریف بھی شامل کی ہے لیکن انہیں سائبر حملوں کی پیچیدگیوں کا علم نہیں۔ اس میں بڑا مسئلہ تو شناخت کا ہوتا ہے جس میں یہ طے کرنا پڑتاہے کہ آیا حملہ فرد کی طرف سے کیا گیا ہے یا ریاست کی طرف سے۔ سائبر سکیورٹی میں سائبر حملوں کے مرکز کے بارے میں طے کرنا بھی بہت اہم ہے لیکن بل میں اس بارے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سائبر دہشت گردی کی تعریف بھی پریشان کن ہے۔

فریحہ عزیز کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں سائبر سکیورٹی ایک ٹول ہے جسے سائبر وار فیئراور سائبر حملوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن روائتی معنوں میں سائبر حملوں کو دہشتگردی قرار ہی نہیں دیا جاتا۔ جبکہ ہمیں جس قسم کی آن لائن دہشتگردی کا سامنا ہے اس میں دہشت گرد تنظیمیں پراپیگنڈہ کو چارے کے طور پر استعمال کرکے دہشت گردی کیلئے نوجوانوں کو مائل کرکے بھرتی کیا جارہا ہےوہ کہتی ہیں کہ اس کا دوسرا حصہ دہشت گرد تنظیموں کی ممکنہ رنگروٹوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہمیں جوابی کارروائی کی اسی قدر ضرورت ہےجس تناسب سے دہشت گرد تنظیمیں پراپیگنڈہ کرتی ہیں ۔ ہمیں دہشتگردوں اور ان کی تنظیموں کی قائل کرنے کی صلاحیت کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے ،ایسا ادلے کا بدلہ یا برابری کی سطح پرکام کرنے سے ہی ہو سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو لوگوں کو ان سے دور رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اس مقصد کیلئے ہمیں کسی خاص میٹریل سے منع کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ انہیں یہی مٹیریل کسی اور جگہ سے مل جائے گا۔ فریحہ عزیز کہتی ہیں کہ ہمیں سائبر سلامتی، تحفظ اور سائبر جرائم پرالگ الگ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تحفظ اس طرح کا ہونا چاہئے کہ شہری خود کو بیرونی خطرات سے بچانے کیلئے خود اقدامات کرے۔ ایک شہری کیلئے یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی مخصوص سافٹ وئیر کی حفاظت ضروری ہے۔

ریاست کی سطح پرنہ صرف حملوں کو روکنے بلکہ جوابی حملے کیلئے بہتر اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔جرم کا ارتکاب روایتی طور پرایک شہری اور بعض اوقات ریاست کے خلاف کیا جاتا ہے۔ قانون کا مقصد شہری کے حقوق کا تحفظ ہے یہاں بہت سے قوانین ہیں لیکن جرم پھر بھی ہوتا ہے۔ گل بخاری کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے سائبر سپیس کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اس لئے سائبر سکیورٹی کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار رہے گا۔ لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، آئین ہمیں جو شہری آزادیاں دیتا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم بڑے پیمانے پر نگرانی، صوابدیدی سنسر شپ، ریاست کی طرف سے مواد کے صوابدیدی خاتمے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ دوم ،خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں، ہم سیاسی اختلاف رائے اور حکومت کی طرف سے لبرل سوچ کو مسدود کرنے کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف جہادی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کی تعداد میں بلا خوف و خطر اضافہ ہورہا ہے۔ لہٰذا کسی کو تو سائبر سکیورٹی کے اقدامات کے ساتھ سائبر حملوں کیخلاف پیش بندی کرنا ہو گی۔بد قسمتی سےعام شہریوں کیخلاف تو دھڑلے سے اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن دہشت گرد کھلے عام گھوم رہے ہوتے ہیں۔

بخاری کہتی ہیں کہ سائبر سکیورٹی کی تربیت اور اس کے ٹولز کا استعمال کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ جن کی مدد سے بڑی آسانی سے سائبر جرائم کا شکار ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کے بارے میں وسیع پیمانے پر معلومات دستیاب نہیں۔ "ذاتی طور پر، میں سائبر سکیورٹی کے موضوع کو سکولوں میں بچوں کے آئی سی ٹی کورسز حصہ دیکھنا چاہوں گی۔ ہمارے بچوں میں کمپیوٹر اور ورلڈ وائڈ ویب کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ انہیں لازماً ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ انہیں گھیرنے کیلئے بچھائے گئے جالوں سے بھی خبردار ہونا چاہئے اور اس کی باقاعدہ تعلیم دی جانی چاہئے۔

اب آئیں پاکستان کی اسٹریٹجک تنصیبات کے موضوع پر ، فریحہ عزیز کہتی ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری ویب سائٹ پرحملوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ حال ہی میں وزارت صحت کی ویب سائٹ پر حملہ کیا گیا۔ اس سے کچھ خاص نقصان تو نہیں ہوا لیکن کبھی کبھار لیکن ایسے حملوں سے بدترین نقصان کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسے ڈیٹا کا نقصان یا چوری۔ اس لئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ویب سائٹس کس قدر محفوظ ہیں۔ حساس ڈیٹا والے سرورز اور دیگر تنصیبات پر مختلف قسم کے سیکورٹی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیلئے نہایت تکنیکی صلاحیت اور مہارت چاہئے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ پاکستان میں سائبر ریڈی نیس (Cyber Readiness)کا واحد راستہ ڈیجیٹل تعلیم میں اضافہ ہے۔ پاکستان میں کوئی ڈیجیٹل خواندگی نہیں ہے۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ انہیں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں۔ وہ آن لائن خطرے سے اپنا بچائو نہیں کرسکتے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ان کے سسٹم پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے اور ایسا ہی کچھ حکام بھی محسوس کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر صحافیوں کا خیال ہے کہ انہیں سائبر سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ ساری دنیا میں سائبر سکیورٹی سے متعلق یہی رویہ پایا جاتا ہے۔ جرمنی، امریکہ، برطانیہ کے لوگوں کو احساس ہی نہیں کہ انہیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں اس بارے میں تعلیم کی کمی ہے ، ڈیجیٹل سیکورٹی ہمارے تعلیمی نظام میں موجود ہی نہیں ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل سیکورٹی کے لئے بہت بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے، ان کیلئے بھی جو انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے ۔ والدین کو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ ان کے بچے آن لائن کیا کر رہے ہیں۔ ہر کسی کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان کے ارد گرد ڈیجیٹل دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی اور اپنے سے جڑے ہوئے لوگوں کی حفاظت کرسکتے ہیں۔

تحریر: کنور خلدون شاہد (Kunwar Khuldune Shahid)

Read in English

Authors
Top