Global Editions

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مسائل

پی ایچ ڈی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کے مسائل حل کرنے کیلئے محققین اور سائنسدانوں کیلئے ماحول اور مواقع حوصلہ افزا ہیں؟اس بارے میں جاننے کیلئے ہمیں تعلیمی شعبے کے بارے میں گہرائی سے جاننا ہوگا۔

پاکستان نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت پورے ملک میں صرف ایک ہی یونیورسٹی تھی جسے ہم جامعہ پنجاب کے نام سے جانتے ہیں لیکن اب پاکستان میں 177یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیم ادارے ہیں جن کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ان میں سے 103 سرکاری یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے ہیںجبکہ باقی نجی شعبے میں قائم ہیں۔ وفاقی حکومت نے ان میں سے صرف 33 یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو جبکہ باقی کو صوبائی حکومتوں نے چارٹر کیا ہے۔ جن اداروں کو وفاقی حکومت نے چارٹر کیا ان میں سے زیادہ تر دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہیں لیکن بعض ملک کے دوسرے حصوں میں موجود ہیں مثلاً قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (Karakoram International University)کو وفاقی حکومت نے چارٹر کیا ہے جو گلگت بلتستان میں واقع ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی سب سے زیادہ آبادی (قریباً 9کروڑ) پنجاب میں ہے جو ملک کی آدھی آبادی شمار ہوتی ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ 51چارٹرڈ یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے ہیں جن میں 27سرکاری شعبے میں جبکہ 24نجی شعبے میں قائم ہیں۔ سندھ کی آبادی پنجاب سے آدھی ہے یہ صوبہ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لحاظ میں بھی دوسرے نمبر پر ہے سندھ کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی تعداد (49)ہے۔ خیبر پختونخوا میں 29، بلوچستان میں 8 یونیورسٹیاں اور آزاد کشمیر میں 7یونیورسٹیاں قائم ہیں۔

1947ء سے لے کر 2014ء تک پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں نے 11,988پی ایچ ڈی ڈگریاں جاری کی ہیں۔ پاکستان کی 18کروڑ کی آبادی میں طلباء کی تعداد لاکھوں میں ہے جن میں غیرملکی طلباء بھی شامل ہیں۔ 1947ء سے لےکر 2002ء تک پاکستانی یونیورسٹیوں نے 3000پی ایچ ڈی ڈگریاں جاری کی گئیں۔ حالیہ برسوں میں پی ایچ ڈی ڈگریوں کے اجراء میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن 2001ء میں قائم ہوا جبکہ 2013 ء میں 1,211پی ایچ ڈی فارغ التحصیل ہوئے ، 2014ء میں 1,325افراد کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ملیں۔

زیادہ تر پی ایچ ڈی ڈگریاں(1,541)لسانیات اور ادب میں دی گئی ہیں اس کے بعد کیمسٹری میں 1,462ڈگریاں اور زراعت میں 908ڈگریاں دی گئی ہیں۔ 2014 میں اعلیٰ تعلیم اداروں نے انجیئرنگ اور ٹیکنالوجی میں 500ڈگریاں جاری کیں جبکہ 908پی ایچ ڈی ڈگریاں مطالعہ مذہب پر دی گئیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو 2002ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کردیا گیا۔ پاکستان میں ماضی کی حکومتوں نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو جو فنڈز جاری کئے ان کا تقابلی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اعلیٰ تعلیم کیلئے کتنےپرعزم ہیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو 1978-79ء سے لے کر 2001-2ء تک 538.7538 ملین روپے کی گرانٹ دی گئی جبکہ 2002-3ء سے 2015-16ء تک 194.115413 ملین روپے جاری کئے گئے۔

Urdu-Chart-01

یونیورسٹی اور سکول کی تعلیم کا جائزہ
پاکستانی یونیورسٹیز اور اعلیٰ تعلیمی ادارے بشریات، زراعت، خلائی سائنس، فشریز، سمندری حیات، کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بزنس اینڈ مینجمنٹ، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ویٹرنری سائنسز، نفسیات پر ادارہ جاتی اور تحقیقی پروگرام متعارف کروا رہے ہیں۔ پاکستان کی پہلی ورچوئل یونیورسٹی مکمل طور پر جدید انفارمیشن اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہے جو اکیڈمک پروگرامز کے ساتھ سیٹلائیٹ اور انٹرنیٹ ٹی وی بھی استعمال کر رہی ہے۔ اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کو بھی مت بھولیں جہاں پر اعلیٰ ٹیکنالوجی کی تحقیق اور کاروباری تنظیم کاری کا بہترین ماحول تمام تر سہولیات کے ساتھ فراہم کیا جاتاہے۔ یہاں نئے کاروباری دفاتر اورمستحکم سرکاری اور صنعتی رابطے موجود ہیں۔ پاکستان کی تعلیم اور تحقیق کا نیٹ ورک(Pakistan Education and Research Network) ایچ ای سی نے2002ء میں قائم کیا ، یہ 250یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو باہمی رابطے اور ابلاغ کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کررہاہے۔ جن میں کالجز بھی شامل ہیں تاکہ وہ اپنی انٹر نیٹ اور نیٹ ورکنگ کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔
پاکستان ایجوکیشن ایٹلس (Pakistan Education Atlas)کے جاری کردہ حالیہ نقشے کے مطابق 46فیصد (124284)پرائمری سکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ 2015ء میں جاری کیا جانے والا پاکستان ایجوکیشن ایٹلس کو اکیڈمی آف ایجوکیشن پلاننگ اینڈ مینجمنٹ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے اشتراک سے تیارکیا جاتاہے۔ اس لحاظ سے ملکی سکولوں کے تعلیمی نظام کو جن مسائل کا سامنا ہے خوش قسمتی سے پاکستانی یونیورسٹیوں کو ایسے مسائل درپیش نہیں ہیں۔

Education-Chart

سکالر شپس کی بھرمار

اس وقت پاکستان کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں 40ہزار کے قریب اساتذہ تعلیمی فرائض سرانجام دے رہے ہیں جن میں صرف 10ہزار پی ایچ ڈی ہیں جو پاکستانی یونیورسٹیوں کے تدریسی عملے کا 25فیصد بنتاہے۔ ایچ ای سی کے قیام کے بعد پاکستان میں طلباء اور اساتذہ دونوں کو ملکی اور غیرملکی سکالرشپس مل رہی ہیں۔ایچ ای سی اپنے فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2450سکالرشپس جاری کر چکا ہے جس میں 938سکالرشپس انجیئرنگ اور ٹیکنالوجی میں دی گئیں۔ ان میں 493سکالر شپس فزیکل سائنس اور 431سکالر شپس عمرانی علوم میں دی گئیں۔ بیرون ملک سکالرشپ پروگرام کے تحت ایچ ای سی پاکستانی طلباء کو7806 سکالر شپس دے چکی ہے۔ جن میں سے 5683واپس آچکے ہیں جبکہ 2123 اپنے ایم فل اور پی ایچ ڈی مکمل کر رہے ہیں۔ جو واپس آچکے ہیں ان میں سے 1874نے بائیولوجیکل اور میڈیکل سائنس میں ، 1406نے فزیکل سائنس، 979نے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سائنس میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ جن لوگوں کو سکالر شپس ملیں ان میں سے 1341کو امریکہ، 1226کو برطانیہ اور 907کو کیوبا بھیجا گیا۔

امریکہ اور برطانیہ میں دنیا کی معروف یونیورسٹیاں قائم ہیں اسی لئے ایچ ای سی کے تحت وہاں کیلئے بھی سکالر شپس دی جارہی ہیں ۔ جبکہ کیوبا کی حکومت نے 2005ء کے زلزلے کے بعد پاکستانی طلباء کو میڈیکل میں سکالر شپس کی پیش کش کی تھی۔ یہ سکالرشپس ایچ ای سی کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے اسے امریکہ پاکستان کے درمیان اعلیٰ تعلیم میں سہولیات کی فراہمی کو تعلیمی راہداری قرار دیا ہے۔ وہ کوشش کررہے ہیں کہ جتنی فیس امریکی طلبا سے لی جاتی ہے اس کے برابر فیس پاکستانی طلبا سے لی جائے۔
ایچ ای سی نے ملکی سطح پر 9278سکالرشپس فراہم کی ہیں جن میں سے 2333طلبااپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں جبکہ 6945طلبا تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان میں سے 2464سکالر شپس فزیکل سائنسز میں ، 2174بائیولوجیکل اور میڈیکل سائنسز میں جبکہ 1293 زراعت اور ویٹرنری سائنسز میں دی گئی ہیں

ایک بہت بڑا سوال
اگرچہ گزرتے ماہ و سال میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور پی ایچ ڈی سکالرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے اس کے باوجود سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے حقیقی مسائل حل کرنے کیلئے محققین اور سائنسدانوں کو مناسب ماحول اور وسائل دستیاب ہیں؟ دیگر سوالات نئے علوم، محققین کی تعداد بڑھانے، تحقیقی لیبارٹریز، تھنک ٹینکس کی کافی تعداد، سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں کامیابیوں سے متعلق ہیں۔ یہ ساری بحث اس بڑے سوال کے گرد گھومتی ہے کہ کیا پاکستان کی یونیورسٹیاں پہلی اسلامی ایٹمی طاقت کے سماجی معاشی منظر کو تبدیل کرنے کا مرکز ثابت ہورہی ہیں۔ ہمارے اساتذہ عموماً یونیورسٹیوں میں وسائل کی فراہمی کے ساتھ تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے رہتے ہیں۔

یونیورسٹیوں کی کارکردگی اور تحقیق کا جائزہ لینے کے مختلف معیارات قائم کئے گئےہیں۔ تھوڑی سی تبدیلی کے بعد ان معیارات کو قومی تعلیمی ادارے مثلاً ایچ ای سی اور بین الاقوامی ادارے مثلاً کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ(QS World Universities Ranking)اور ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ ٹائم ہائراستعمال کررہی ہیں۔ پاکستان میں بین الاقوامی پس منظر کے ساتھ طلباء اور اساتذہ کو یہی تعلیمی، تدریسی، تحقیقی ماحول اور اس کے اثرات،بشمول مختلف جائزوں کے فراہم کئے جارہے ہیں۔ 2001میں آئی ایس آئی ویب آف نالج پر صرف 877کتابیں فہرست میں شامل کی گئیں۔ لیکن 2014ء تک پاکستان کی طرف سے 8163 کتابوں کی فہرست شامل کی گئی۔ 2006ء میں 73پیٹنٹس کیلئے پاکستان میں درخواست دی گئی جس میں سے صرف 22 کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے 34پیٹنٹس کراچی کی یونیورسٹیوں ، 20پنجاب سے، 3خیبر پختونخوا سے اور 16وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تھیں۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کی طرف سے کوئی پیٹنٹ کی درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔ منظور شدہ پیٹنٹ میں سے 12سندھ، 8پنجاب اور 2وفاقی یونیورسٹیوں کے منظور ہوئے۔

ان 22پیٹنٹس میں سے 14طبی اور ادویہ مقاصد کیلئے، 2 زراعت، 3 مواصلات اور کمپیوٹر سائنس کیلئے، ایک ایک پٹرولیم کی صنعت اور خوراک کی صنعت کیلئے جبکہ آخری عام صنعتی استعمال کیلئے تھی۔ ہماری پہلی بین الاقوامی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی پیٹنٹ امریکہ میں پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک آفس نے 2015ءمیں نینو لیوسٹ فرٹیلائزر(Nano Leucit Fertilizer)کے نام سے منظور کی ۔نینو کھاد ڈالنے سے فصل کو سنڈیاں بھی لگ جائیں تو بہت کم اناج کا نقصان ہوتاہے۔ جی سی یو کی پیٹنٹ نینوکھاد صحت مند اناج پیدا کرنے اور فصل بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ جی سی یو نے اسے گرین ماحول کے انقلاب سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت کم خوراک ضائع ہوتی ہے اور مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوتاہے۔ پاکستانی پیٹنٹ سے کوئی کاروباری مفاد حاصل نہیں کیا گیا۔ لہٰذا سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کیا ہمارے محققین اور سائنسدان ایسی کوئی مفید اور بامعنی تحقیق کر رہے ہیں جو پاکستان کے حقیقی مسائل کا حل پیش کرے ؟

Education-Chart-3

کارکردگی کے اہم اشارات
ایچ ای سی کے سابق ڈائریکٹر اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز(LUMS)کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایس سہیل ایچ نقوی(Dr. S. Suhail H. Naqvi)کہتے ہیں کہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں تبدیلی آچکی ہے۔ قریباً تمام شعبہ ہائے علوم میں تحقیقی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔ بیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ یونیورسٹیوں کی کارکردگی جانچنے کا عمل بہت پیچیدہ اور کسی ایک معیار پر پر منحصر نہیں ہے۔ہر یونیورسٹی مختلف ہے جس کی کارکردگی اس کے مشن اور نکتہ نظر کے مطابق جانچی جاتی ہے۔ کسی یونیورسٹی کی کارکردگی جانچنے کیلئے تحقیقی کتاب کی اشاعت محض ایک عنصر ہے جبکہ اس میں دیگر عناصر مثلاً پوسٹ گریجویٹ طلباء کی تعداد، پروگرامز، طلباء کو دیئے گئے تحقیقی کاموں کی نوعیت، ملازمین اور بین الاقوامی شراکتی اداروں سے تعاون بھی شامل ہیں۔

Education-Chart-5

ڈاکٹر نقوی محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی پر وہ توجہ نہیں دی جارہی جس کی فی زمانہ ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ علمی معیشت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہاہے۔ تحقیق کیلئے فنڈز بھی فراہم نہیں کئے جارہے جس کے باعث تحقیقی کام بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لمز(LUMS)باقی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں سے مختلف ہے کیونکہ یہاں پر طالبعلم مرتکز تعلیم دی جاتی ہے۔ ہم طلباء کو اپنی ذاتی صلاحیتیں تلاش کرنے کی نہ صرف سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی مختلف کورسز کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔کلاس روم سے باہر مختلف سوسائٹیز موجود ہیں جو طلباء میں قیادت کی صلاحیتیں کو ابھارنے اور ان کی ذاتی دلچسپیوں کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ انہیں انڈر گریجویٹ سطح پر تحقیقی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کہتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی اور نتائج کو جانچنے کیلئے فیکلٹی کے تحقیقی مقالے بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ بات اہم نہیں ہے کہ یونیورسٹی نے کتنے تحقیقی مقالے پیش کئے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتنے تحقیقی مقالوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ نظریاتی فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر کامران کہتے ہیں کہ تحقیقی نتائج کا انحصار انڈر گریجویٹ ، ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے والے طلباء کی صلاحیتوں پر ہے۔ ایم آئی ٹی نے جو 2015کے حقائق جاری کئے ان کے مطابق میساچوسٹس یونیورسٹی میں 60 فیصد طلبا گریجویشن کررہے ہیں جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی 69 فیصد طلبا گریجویشن میں ہیں۔ ڈاکٹر کامران جو نئے علوم کو پـڑھانے میں یونیورسٹیوں کے کردار کے بہت بڑے حامی ہیں کہتے ہیں کہ جب انہوں نے 2008 میں یونیورسٹی کا بطور وائس چانسلر چارج سنبھالا تو اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں ایک فیصد سے بھی کم گریجویٹ طلبا تعلیم حاصل کررہے تھے۔ یونیورسٹی کے پاس 2008 تک صرف 29فیصد پی ایچ ڈی اساتذہ تھے جو اب 50فیصد ہوچکے ہیں۔ یہ بیرون ممالک سے تعلیم مکمل کرکے آنے والوں اور یونیورسٹی کی طرف سے ملکی و غیر ملکی سکالرشپس دئیے جانے کی وجہ سے ہوا۔ ڈاکٹر کامران کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کی طرف سے جاری کئے گئے پیٹنٹ بھی کارکردگی جاننے کیلئے بہترین ذریعہ ہیں۔

Education-Chart-4

وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر فضل احمد خالد کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کا شعبہ ترقی کر رہاہے۔ تاہم اس وقت اعلیٰ تعلیم کو معیاری بنانے کیلئے نہایت سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ یونیورسٹیوں کو چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے پس منظر میں بھی طویل المدت منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ یونیورسٹیوں کو پانی کی کمی اور توانائی کے بحران پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ہم ابھی تک نینو ٹیکنالوجی اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں داخل نہیں ہوئے ہمیں ان پر بھی تحقیقی کام کا آغاز کرنا چاہئے۔ پروفیسر خالد نے طلبا اساتذہ کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی پی ایچ ڈی اساتذہ کی شرح کو نتائج پر مبنی تعلیم (Outcome Based Education)قرار دیا۔ پاکستانی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہےتاکہ پاکستانی صنعت کے شعبے کو درپیش مسائل کو حل کیا جاسکے اور معلوماتی معاشرے (Information Society)کو علمی معاشرے (Knowledge Society)میں بدلا جاسکے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں اختراعات اور کاروباری ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ تعلیم تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس وقت جی ڈی پی کا 4 سے 5 فیصد تعلیم میں مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

ایچ ای سی چئیرمین ڈاکٹر مختار احمد اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عام آدمی کو فائدہ پہنچانے کیلئے بڑے سماجی معاشی مقاصد کو سامنے رکھ کر یونیورسٹیوں میں اعلیٰ معیار کی تحقیق اور نئے علوم کی تعلیم دی جاسکتی ہے۔مراکش کے شہر رباط میں اسلامک ایجوکیشنل ، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر احمد کہتےہیں کہ سالہا سال سے ایچ ای سی کا ادارہ یونیورسٹیوں کو تحقیقی مقاصد کیلئے مناسب ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان میں بہت سے چیلنجز کے ساتھ علاقائی تعلیم حاصل کرنے کی شرح بہت کم 3.8فیصد ہے ۔ یہ شرح 2008 میں 2.6فیصد تھی۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک مثلاًجنوبی کوریا میں یہ شرح 90 فیصد تک ہے۔ حتیٰ کہ ہمسایہ ملک بھارت ہم سے آگے ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم پر قومی آمدنی کا صرف 0.2فیصد صرف کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی مغربی یونیورسٹی کا تعلیمی بجٹ ایچ ای سی کے کُل بجٹ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کی طرف سے بہت کم پیٹنٹ جاری کرنے کے بارے میں انہوں نے اپنی رائے دی کہ ایک سال کی محنت اور حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی سے اب ہم اعدادو شمار کے چکر (Number Game)سے باہر نکل آئے ہیں اور یونیورسٹیاں اب بامعنی تحقیقی کام کی طرف چل پڑی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلے ہماری یونیورسٹیاں صرف تحقیق کے مقصد کو سامنے رکھتی تھیں لیکن اب مفید ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

ایچ ای سی کے چیئرمین یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 2014ء میں یونیورسٹیوں نے 12ہزار تحقیقی مقالے دئیے ، ان میں سے 8163 مقالے مئوقر جرائد میں شائع ہوئے جنہیں سراہا گیا۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ طلباء کی زیادہ تعداد بھی تحقیقی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم اب ایچ ای سی چند یونیورسٹیوں پر توجہ دے رہا ہے اور انہیں اعلیٰ کارکردگی کے مرکز میں بدل رہا ہے۔ ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ فراہم کرنے کیلئے فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا۔ پہلے یہ پروگرام سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کے کوٹہ پر مبنی تھا لیکن اب تمام صوبوں میں مختلف مضامین میں اساتذہ کی کی ضرورت کے مطابق دیا جاتاہے۔

بیرونی ممالک سے اعلیٰ تعلیم لے کر واپس آنے والے افراد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر افراد کو پاکستان میں ملازمتیں مل چکی ہیں۔ بہت سوں نے واپسی پر اپنی مادر علمی سے تدریس کیلئے رابط کیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سب ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑے شہروں میں تعیناتی چاہتے ہیں جبکہ ان کی ضرورت کہیں اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی یونیورسٹیاں ابھی پائپ لائن میں ہیں لیکن ہم انہیں ہی اپنی ویب سائٹ پر دیتے ہیں جن کے پاس ہمارا این او سی ہوتاہے۔

اعلیٰ تعلیم کیلئے مستقبل کے منصوبے
ڈاکٹر مختار احمد کہتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کو بہتر نظم و ضبط اور میعار کے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے فوری طور پر نپٹا جانا چاہئے۔ ایک تاثر یہ ہے کہ کیا ایچ ای سی نجی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم دینے والے اداروں کیخلاف کوئی قدم اٹھائے گی ؟انہوں نے کہا کہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ کمیشن نے حال ہی میں سابق ایچ ای سی سربراہوں اور سٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے بامعنی اصلاحات پر زور دیا گیا۔
ڈاکٹر مختار کہتے ہیں کہ پاکستان ہائر ایجوکیشن کا مستقبل ٹیکنالوجی کی تعلیم کے فروغ، کاروباری معاملات، معاشی معاشرتی اثرات اور عالمی پس منظر کی وجہ سے بہت شاندار ہے۔ کم تعلیمی شرح کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت ہر ضلع میں تعلیم اداروں کے کیمپس قائم تمام طبقوں تک تعلیم کی رسائی آسان کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ایچ ای سی تعلیمی کیمپس قائم کرنے کیلئے اضلاع کی نشاندہی کیلئے صوبائی حکومتوں سے قریبی روابط میں ہیں۔ تحقیقی کام کو کاروباری نقطہ نظر سے استوار کرنے کیلئے 45 یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تحقیق، اختراع اور تجارتی دفاتر قائم کردیئے گئے ہیں اور ابھی مزید قائم کئے جائیں گے۔

Education-Chart-6

ایچ ای سی وائی فائی کیمپسس بنا کر سمارٹ کلاس روم اور سمارٹ یونیورسٹیوں کے تصور پر بھی کام کررہی ہے جن کے ذریعے یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ دور بیٹھ کر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔ مثال کے طور پر بلوچستان یونیورسٹی کے طلباء قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ساتذہ سے لیکچر لے سکیں گے۔ یہ تصور ویڈیو کانفرنس سے مختلف ہے اس میں اساتذہ کیلئے اپنے لیکچر محفوظ کرنے کی بھی سہولت موجود ہوتی ہے۔ یونیورسٹیوں کے درمیان باہمی رابطے اور علم و ٹیکنالوجی کی ترسیل کیلئے تین ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ تکنیکی مہارتوں کے فروغ کیلئے یونیورسٹی کے قیام کا پی سی ون منصوبے کے خدوخال وفاقی حکومت کو بھیجے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ بہت بڑا موقع ہے اس سلسلے میں مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہئے۔ یونیورسٹیوں میں ایک تھنک ٹینک بنایا جاچکا ہے تاکہ اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ چین کی 50 یونیورسٹیاں اس سسٹم سے منسلک کر دی جائیں گی۔ ایک اور پرکشش فورم پاک یو ایس نالج کاریڈور کا بھی ہے جس کے سربراہ وزیر منصوبہ بندی ، ترقی واصلاحات احسن اقبال ہیں۔ اس کے تحت مختلف چھوٹے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ ان میں سے ایک منصوبہ پی ایچ ڈی کیلئے آئندہ سالوں میں 10 ہزار پاکستانی طلباء کو امریکہ بھیجنا ہے۔ ہم سکالر شپس کی بات نہیں کر رہے بلکہ ایک خصوصی دروازہ کھولنے کی بات کر رہے ہیں جس کے تحت پاکستانی طلباء سے امریکی طلباء کے برابر فیسیں لی جائیں۔ اس وقت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات یورپ سے زیادہ ہیں ۔ایچ ای سی یورپ میں زیر تعلیم ہر طالبعلم پر 80 لاکھ سے ایک کروڑ تک خرچ کررہا ہے۔ جبکہ امریکہ میں دو کروڑ پاکستانی روپے خرچ ہوتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ نئے معاہدہ سے فیسیں قابل رسائی ہو جائیں گی۔
اس کے علاوہ ایچ ای سی پاکستانی یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طلباء کے داخلے کی بھی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ماضی میں مختلف ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ملک اپنے طلباء کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں بھیجتے تھے۔ آج پاکستانی یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طلباء کی تعدا د بہت کم ہے۔ ہمیں اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ہماری یونیورسٹیوں  اور اعلیٰ تعلیم کا تصور بہت ہو سکے۔

وفاقی اور صوبائی ایچ ای سی ادارے
گزشتہ چند سالوں میں صوبوں سندھ اور پنجاب نے اپنے ایچ ای سی ادارے قائم کرلئے ہیں ۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسے ادارے ابھی بننا باقی ہیں۔ ان تینوں ہائر ایجوکیشن کمیشنز کا کردار واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دی ہے جو اس سلسلے میں تجاویز دے گی۔ کمیٹی کے اس وقت تک تین اجلاس ہو چکےہیں لیکن تجاویز کو حتمی بنانا ابھی باقی ہے۔ صوبوں کا موقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اپنا تعلیمی نظام بنانے کا حق مل چکا ہے۔ تاہم ایچ ای سی حکام کا موقف ہے سپریم کورٹ نے 2011ء کے فیصلے میں کہہ دیا ہے کہ ایچ ای سی کا سٹیٹس پہلے ہی کی طرح رہے گا جب تک نئی قانون سازی نہیں کہ جاتی۔

Education-Chart-7

ایچ ای سی چئیرپرسن ڈاکٹر مختار احمد کہتے ہیں کہ ایچ ای سی کا کردار واضح ہونا چاہئے۔ ایچ ای سی کا ایک ہی ڈھانچہ ہونا چاہئے بصورت دیگر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچے گا۔ ایچ ای سی کے مقسم کردار سے طلباء کو اندرون اور بیرون ملک مشکلات پیش آئیں گی۔ کیا ہمیں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل یا پاکستان انجینئرنگ کونسل کے صوبائی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس لئے ایچ ای سی کا متبادل تلاش کرنے کی بجائے اس کی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

پنجاب ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن ڈاکٹر محمد نظام الدین کہتے ہیں کہ اس مسئلے کے قانونی اور عملی دو پہلو ہیں۔ عملی طور پر بڑھتی ہوئی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سبب ایک مرکزی ادارے کا ان پر کنٹرول بہت مشکل ہے لہٰذا اس کی مرکزیت ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے کمیشن کی تجاویز کے نفاذ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کردار کو کمیشن فار سٹینڈرڈ ان ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز میں ضم کردینا چاہئے۔

تحریر:خالد خٹک (Khalid Khattak)

Read in English

Authors
Top