Global Editions

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم :ماضی،حال اور مستقبل

تعارف: ڈاکٹر عطاء الرحمٰن ایچ ای سی کے سابق بانی چئیرمین ، پاکستان میں آرگینک کیمسٹری کے معروف سائنسدان اور سکالر ہیں۔ خصوصاً نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری میں تحقیق کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی اپنے شعبے میں 700تحقیقی کتب شائع ہو چکی ہیں جبکہ انہوں نے پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دیا۔ ان کی آرگینک کیمسٹری میں خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1983ء میں تمغہ امتیاز، 1991ء میں ستارہ امتیاز، 1998ء میں ہلال امتیاز اور 2002ء میں نشان امتیازکے اعزاز سے نوازا گیا۔

عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا ٹیکنالوجی کی سطح پر اختراعی اور علمی لحاظ سے پسماندہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ جب تک لیبارٹری سطح کی تحقیق مارکیٹ میں نہیں آجاتی تب تک نالج اکانومی کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ نالج اکانومی میں ترقی کے چار ستون ہیں جس میں اعلیٰ معیاری تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، کاروباری ماحول اور نظم و ضبط شامل ہیں جس سے میرٹ غالب آتا ہے اور معاشرے میں تیز اور شفاف انصاف فراہم ہوتاہے۔ پاکستان کو قدرتی وسائل پر مبنی نقطہ نظر سے نکل کر سماجی معاشی ترقی کی طرف منتقل ہونا ہو گااور نالج اکانومی کو مضبوط کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔

٭ اس کیلئے پہلے نمبر پر تو حکومت کو علم و تحقیق کیلئےمضبوط بنیادفراہم کرنا ہوگی اور صنعتکاری کے ذریعےاعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات کو برامد کرنا ہوگا۔

٭ دوسرے نمبر پر ہمیں عالمی معیار کی یونیورسٹیاں اور اعلیٰ کارکردگی کے مراکز قائم کرنا ہوں گے۔
٭ سوم ہمیں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی تاکہ صنعت اور زراعت کا قومی تحقیقی مراکز سے مضبوط تعلق قائم ہو سکے۔

حقیقی آغاز
2001ء میں جب میں سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر تھا، تو سائنس کا بجٹ 6000فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو 2002ء ختم کرکے اس کی جگہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لےلی تھی جو اعلیٰ تعلیم میں نیا قومی سطح کا ادارہ بن گیا۔ جس کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایچ ای سی کے سربراہ کا عہدہ وزیر کے برابر ہو گا اور وہ براہ راست وزیر اعظم کو رپورٹ کرے گا۔ بعد میں 2002ء میں جب مجھے ایچ ای سی کا بانی چئیر مین بنایا گیاتو میں نے ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 24سو فیصد بڑھا دیا۔ اس سے ایچ ای سی کو اعلیٰ تعلیم کے پروگرامز کو فروغ دینے میں بہت مدد ملی۔ ان پروگرامز نے یونیورسٹیوں میں تحقیق کے عملی کام کو آگے بڑھایا۔ 2000ء میں پاکستان میں صر ف 59یونیورسٹیاں اور ڈگری جاری کرنے والے ادارے موجود تھے۔ میرے اقدامات کے نتیجےمیں2008ء میں یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ کر 127جبکہ 2010ء میں 137اور 2014ء میں یہ تعداد 157تک پہنچ گئی۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں داخلے تین گنا ہو گئے۔ 2002ء میں طلباء کی تعداد 2,76,000تھی جو 2008ء میں بڑھ کر 9,00,000ہوگئی۔ یہ تعداد 2014ء میں بڑھ کر 13لاکھ تک پہنچ گئی۔ سترہ سے 23سال کی عمر کے نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح 2.3فیصد تھی جو 2010ء میں بڑھ کر 6.5ہو گئی۔

تعلیمی معیار بلند کرنے اور اسے قومی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کیلئے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے۔ ان میں سے نمایاں ترین اقدام تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی فیکلٹی بنانے کا پروگرام متعارف کروانا تھا۔ صورتحال یہ تھی کہ 2003ء میں پاکستانی یونیورسٹیوں میں 75فیصد اساتذہ پی ایچ ڈی نہیں تھے جس سے اعلیٰ تعلیم کی پسماندگی کا اندازہ ہوتاتھا۔ لہٰذا ذہین ترین طلباء کو 11000سکالرشپس دی گئیں جن میں سے 5000سکالرشپس دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کیلئے دی گئیں۔

ایچ ای سی نے اساتذہ کیلئے مدت پر منحصر (Tenure Track)کنٹریکٹ سسٹم متعارف کروایا جس کے تحت ان اساتذہ کو رکھا گیا جو بین الاقوامی پس منظر رکھتے تھے اور ان کی تنخواہیں بھی کئی گُنا بڑھا دی گئیں تاکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو تعلیم و تحقیق کا کیرئیر اپنانے کی طرف مائل کیا جاسکے۔ یونیورسٹیوں میں بطور اساتذہ تعیناتی کیلئے لازمی پی ایچ ڈی کا نیا قانون متعارف کروایا گیا۔ ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور مکمل پروفیسر کیلئے کم سے کم اہلیت کا معیار سخت کردیا گیا جس کے تحت ان لوگوں کو ترقی دی جائے گی جنہوں نے اعلیٰ معیار کا تحقیقی کام کیا ہو گا۔ وہ طلباء جو پی ایچ ڈی کرکے وطن واپس آئے انہیں اپنی واپسی سے ایک سال پہلے تحقیق کیلئے ایک لاکھ ڈالر امداد کیلئے درخواست دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ تاکہ جب وہ واپس آجائیں تو ان کی درخواست کے جائزے کا عمل مکمل ہو چکا ہو اور ان کے پاس تحقیق کیلئے مناسب فنڈز موجود ہوں گے۔

پاکستان میں اساتذہ کی فیکلٹی کو بہتر بنانے کیلئے تحقیق کیلئے فنڈز میں اضافہ اورانہیں پرکشش تنخواہوں کی پیش کش کی گئی۔ تاکہ بیرون ممالک کام کرنے والے پاکستانی اپنے ملک میں آ ئیں۔ اس پروگرام کے تحت قریباً 600پاکستانی لیکچررز وطن واپس آئے۔ نجی و سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ کیلئے ٹیکس کی شرح 35فیصد سے کم کرکے صرف 5فیصد کردی گئی جس سے ان کی تنخواہوں میں خود بخود اضافہ ہو گیا۔ معیاری تحقیق کو فروغ دینے کیلئے یونیورسٹیوں میں غیر ملکی اساتذہ کی تقرریاں کی گئیں۔ مثال کے طور پر گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی میں سینٹر فار میتھمیٹکس میں 40غیر ملکی اساتذہ کی تقرریاں کی گئیں۔

سبجیکٹ سپشلسٹ اور صنعتکاروں کے مشورے سے تمام نصاب میں جدت لانے کے ساتھ نظر ثانی کی گئی تاکہ معیار اور ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ ہو۔ تمام یونیورسٹیوں میں سالانہ جائزہ کا نظام متعارف کروایا گیا جس کے تحت تحقیق کے معیار کی تصدیق کی جاتی اور کارکردگی کا جائزہ ایچ ای سی کے ذریعے لیا جاتا۔

آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانے سے پاکستان ایجوکیشن ریسرچ نیٹ ورک (PERN)کے ادارے کے تحت قومی سطح پر ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی۔ جس میں 25ہزار بین الاقوامی جرائد اور 220پبلشرز کی 60,000کتابیں موجود ہیں۔ آکسفورڈ کے تحت انٹرنیشنل نیٹ ورک فار اویلبلیٹی آف سائنٹیفک پبلیکیشنز (INASP)نے بہت سے پبلشرز سے معاہدے کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک یونیورسٹی سے دوسری یونیورسٹی میں لیکچر دینے کیلئے ویڈیو کانفرنسنگ کی ٹیکنالوجی کی سہولت فراہم کی گئی۔

ان اقدامات کی بدولت یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں خوشگوار اورحیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 1947ء سے 2002ء تک 55سال کے عرصے میں پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی دنیا کی 400 بہترین یونیورسٹیوں میں سے کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی۔ 2008ء تک بہت سی پاکستانی یونیورسٹیاں اس معیار کو حاصل کرچکی تھیں۔ اب نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)دنیا میں 273ویں درجے پر آتی ہے، یو ای ٹی کا 281واں اور کراچی یونیورسٹی کا 223واں نمبر ہے۔ اس درجہ بندی میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور مہران انجینئرنگ یونیورسٹی حیدرآباد بھی آتی ہیں۔

بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں اعلیٰ معیار کی تحقیق پر مبنی تحریروں میں حیرت انگیز اضافہ ہو اجو 2000 ء میں 500تھیں وہ 2011میں بڑھ کر 2,250سالانہ ہو گئی ۔ اگر آبادی کے لحاظ سے فی دس لاکھ کا جائزہ لیا جائے تو تحقیقی مقالوں کی یہ تعداد بھارت کے برابر تھی۔ جس میں ہر سال 20فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی عرصے کے دوران سائنس کے تحقیقی مقالوں کے جائزے میں ہزار فیصد اضافہ ہوا۔ بہت سے پروگرام یونیورسٹی اور صنعت کے تعلقات کو فروغ دینےکیلئے شروع کئے گئے جن میں یونیورسٹیوں میں کمرشلائزیشن اینڈ ٹیکنالوجی پارکس (Commercialization and Technology Parks)کا قیام شامل ہےاس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر تحقیقی مصنوعات پیٹنٹ کروانے کیلئے بہترین وکلاء کی خدمات حاصل کی گئیں۔

ایچ ای سی کی ترقی اچانک رک جانا
ایچ ای سی کی ترقی 2008ء میں اچانک اس وقت رک گئی جب 50فیصد فنڈز اور 90فیصد پراجیکٹس روک دیئے گئےجس نے اس واحد شعبے کو تباہ کردیا جو قابل ذکر ترقی کررہا تھا۔ 2010ء میں حکومت نے بد عنوان اراکین اسمبلی کو بچانے کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت ایچ ای سی کو چھوٹے چھوٹے حصے میں تقسیم کردیا کیونکہ ایچ ای سی کو 53قومی لیڈروں کی جعلی ڈگریاں ملی تھیں جبکہ دیگر 250ڈگریاں مشتبہ تھیں۔ ارکان اسمبلی نے اپنے مقاصد کیلئے ایچ ای سی کو تقسیم کرنے کی سکیم متعارف کروائی تھی ۔میری اپیل پر سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے اس تباہی کا رخ موڑ دیا۔ میری مداخلت پر محترم عدالت نے فیصلہ دیا کہ حکومت کا ایچ ای سی کو تقسیم کرنے کا نوٹیفکیشن غیر آئینی ہے اور اسے اپنی پہلے والی حالت میں بحال کردیا۔

آگےبڑھنے کا راستہ
ترقی یافتہ ممالک میں فی دس لاکھ کی آبادی میں 2500سے 3000تک سائنسدان اور انجیئرز ہوتے ہیں جو ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس فی دس لاکھ آبادی میں صرف 120سائنسدان اور انجینئرز ہیں۔ ہمیں مخصوص منتخب شعبوں میں اگلے دس سالوں میں 5لاکھ اعلیٰ اور معیاری سائنسدانوں اور انجیئرز کی ضرورت ہے۔جس کے لیے منتخب شعبوں میں عالمی معیار کے بہترین کارکردگی کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر مقابلے میں آسکے۔ ان مراکز کو اعلیٰ معیار کے سائنسدان اور انجینئرز بنانے کا اہم کام سونپا جائے اور ان کے صنعت، زراعت اور صحت کے شعبوں سے رابطے استوار کئے جائیں تاکہ وہ قومی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اعلیٰ کارکردگی کے مراکز ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ اور کمرشلائزیشن کے شعبے میں قائم کئے جائیں۔

پاکستان اپنے جی ڈی پی کا محض 1.9فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ملائیشیا 30فیصد خرچ کرتاہے۔ نیوکلئیر ملک ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ہمارا سائنس و ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم میں درجہ 132میں سے 126واں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی ، اختراع اور انسانی سرمائے کے فروغ سے فی کس آمدنی ، ملازمتوں میں اضافہ اور غربت میں کمی ہوتی ہے۔ ایسی پالیسیوں میں مناسب اور مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

سائنسی اداروں میں کارپوریٹ کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکیں۔ تحقیق و ترقی کے اداروں کو مستحکم کاروباری یونٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صنعت سے موثر رابطہ قائم ہو سکے۔ ان یونٹس کو نہ صرف مناسب فنڈز دیئے جانے چاہئیں بلکہ اس کے انتظام کے لئے سینئر سطح کے مارکیٹنگ شخص کا تقرر کیا جانا چاہئے۔ ہائی ٹیک میں پاکستان کی مصنوعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمیں بہت سی ٹیکنالوجیز مثلاً ایروڈائنامکس، تھرمل امیجنگ، پر سیژن مینوفیکچرنگ، کمپیوٹیشنل فلڈ ڈائنامکس، انڈسٹریل ڈیزائن اینڈ ٹیسٹنگ، اینکرپشن وغیرہ میں ماہرین پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کے بعد ان ٹیکنالوجیز کو نجی و سرکاری شعبے کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ ہماری دفاعی تنظیموں میں یہ مہارتیں موجود ہیں اور وہ سول میں ہمارے انجیئرز کی رہنمائی کرکے صنعتی ترقی میں معاون ہو سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر اعلیٰ اور درمیانی ٹیکنالوجی کی مصنوعات بنانے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہےجبکہ کم درجے کی مصنوعات متعارف کروانے کے رحجان میں کمی آئی ہے۔ اعلیٰ ٹیکنالوجی میں بہت پیسہ ہے اسی لئے وہ ممالک جو اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں وہ نالج بیسڈ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی اکانومی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس سے ان کی الیکٹرانک، ادویہ سازی ، انجینئرنگ، بائیوٹیک، کمپیوٹرز، سوفٹ وئیرز، گاڑیاں، طیارے، دفاعی آلات، توانائی اور بہت سی مصنوعات نہ صرف بنا رہے ہیں بلکہ انہیں برامد بھی کررہے ہیں۔ اس قسم کی مصنوعات کیلئے اعلیٰ مہارت اور عالمی سطح کے تحقیقی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا اصل راز آر اینڈ ڈی کے ساتھ اختراع اور کاروباری سوچ ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، بائیوٹیکنالوجی، مٹیریل سائنسز، قابل تجدید توانائی، ہیلتھ سائنسز اور دیگر شعبوں میں ترقی نے دنیا کی شکل ہی بدل کر رکھ دی ہے جس نے دنیا کے بہت سے ممالک میں سماجی اور اقتصادی ترقی میں مدد دی اور بہت سے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔

علاقے میں دیگر ممالک سے علمی، ٹیکنالوجی، اختراع اور کاروباری سطح پر ہماراخلا بڑھ رہا ہے۔ عالمی درجہ بندی میں ہمیں ٹیکنالوجی، اختراع اور علمی سطح پر پسماندہ ممالک میں سے ایک شمار کیا جاتاہے۔ جب تک لیبارٹری سطح کی تحقیق مارکیٹ کی مصنوعات میں نہیں بدلی جاتیں اس وقت تک نالج اکانومی کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ اس مقصد کیلئے پاکستان میں بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

٭ پاکستان کو سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع کیلئے واضح پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔
٭ ہمارے ملک کو دانش کے حقوق کو محفوظ کرنے کیلئے مضبوط قانون سازی کی ضرورت ہے جس پر سختی سے عمل کیا جائے۔
٭ نئی کمپنیوں اور اختراعی آئیڈیاز کو سپورٹ کرنے کیلئے مشترکہ سرمایہ کاری ہونی چاہئے۔
٭ نجی شعبے اور آر اینڈ ڈی کو پرکشش مراعات دے کر آگے بڑھایا جائے۔

اس سے پاکستان اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی برامدات میں اضافہ ہو گا۔ ہمیں دیگر ممالک سے سبق سیکھناچاہئے۔ سنگاپور کے پاس کوئی قدرتی وسائل موجود نہیں ہیں لیکن اس نے اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات اور سائنس پر توجہ مرکوز کی جس سے وہ 450 ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہے ۔ جبکہ پاکستان کی آبادی سنگاپور سے 40گنا زیادہ ہے۔

Read in English

Authors
Top