Global Editions

پاکستان فری لانسنگ میں دنیا کا پانچواں بڑا ملک قرار

پاکستان میں ملازمتوں کے تحفظ کی بڑی شدید خواہش موجود ہے۔ یہاں پر کہیں ملازمتوں سے نکالے جانے کا خطرہ لاحق ہے تو کہیں ضرورت کے مطابق ملازمین رکھنے کی خواہش کام کررہی ہے یا پھر عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ملازمتوں میں اضافہ کیا جارہاہے۔ ملازمتیں فراہم کرنے والے ہر ادارے کی خواہش ہے کہ اسے کم تنخواہوں میں بااعتماد اور متعلقہ صلاحیتوںکا حامل ملازم ملے، اس کے علاوہ بےروزگاری بھی اہم عنصر ہے ۔ اس تمام پس منظر کے باوجود پاکستان کی معیشت میں ان تمام اندیشوں اور تحفظات سے آزاد ایک شعبہ ایسا ہے جو بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے اور وہ فری لانسنگ کا شعبہ ہے۔ دراصل پاکستان میں فری لانسنگ ایک نیا شعبہ ہے ۔ انٹرنیشنل ڈیٹا گروپ کے اعدادوشمار کے مطابق 40پاکستانیوں نے اپنے آپ کو ازخود ملازمت پہ رکھا ہوا ہے۔ ان ملازمین میں عارضی ، مخصوص مدت کیلئے کام کرنے والے ، معاہدے کے تحت اور جزوقتی کارکنوں کے علاوہ فری ایجنٹس اور فری لانسرزشامل ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دو تین ملازمتیں اکٹھی کرتے ہیں۔

2013ء میں فری لانسر ڈاٹ کام (Freelancer.com)نے فری لانسرز ملکوں کی فہرست جاری کی جس کے تحت پاکستان اور بھارت میں فری لانسرز کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی سال فری لانسنگ کی بہت بڑی ویب سائیٹ او -ڈیسک(O-Desk)نے پاکستان کو فری لانسنگ میں دنیا کا پانچواں ملک قرار دیا جس کے 2لاکھ سے زیادہ افراد فری لانسر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ فری لانسنگ کےحوالے سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ہمارے کام کے طریقہ کار کو بدل رہی ہے۔ برکلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیامیں پبلک پالیسی کے پروفیسر رابرٹ ریچ (Robert Riech)کہتے ہیں کہ اب بڑے منظم انداز میں یہ طے کیا جاسکتاہے کہ کسے کیا کام اورکب دیا جائے اور پھر اس کام کے معیار کو پرکھا جائے۔ ان کی اہلیت کے معیار کو آن لائن پسندیدگی (Rating)کی شرح سے جانچا جا سکتاہے۔ اس کے علاوہ سوفٹ وئیرز کے ذریعے متعلقہ افراد کی رقومات کے تبادلے، معاہدوں، بلنگ، ادائیگی اور ٹیکسز کو ہینڈل کیا جاسکتا ہے۔ ایمزون ویب سائیٹ اپنے طریقہ کار کے تحت تجزیہ کرتی ہے اور کام کی ادائیگیاں کرتی ہے۔ اسی طرح آئی میکس (IMacs)اور آئی فون(IPhone) بنانے اور بیچنے والی کمپنی ایپل براہ راست دس لاکھ افراد میں سے صرف دس فیصد کو ملازم رکھتی ہے۔
اہم نکات

  • فری لانسرز کی ٹیکنالوجی پر مشتمل برادری بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ملکی سوفٹ وئیر ز کی برامدات 850ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
  • اس شعبے میں بہت زیادہ مواقع ہیں۔ اسے اگر درست سمت میں چلایا جائے تو بڑی آسانی سے چند ماہ میں ایک ارب ڈالرتک پہنچا جا سکتاہے۔
  • فری لانسرز کو بطور کمیونٹی کے آگے بڑھنے، سیکھنے اور باہمی رابطے کیلئے ایسی جگہوں کی ضرورت ہے جہاں پر بیٹھ کر وہ مشترکہ سطح پر کام کرسکیں۔

اس کے باوجود زیادہ تر پاکستانی مستحکم اور بہتر مستقبل کی بنیاد پر حقیقی ملازمت کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے انہیں ماہانہ تنخواہ مل سکے۔ زیادہ تر نوجوان لوگ فری لانسنگ کی بڑی کمپنیوں میں کام تلاش کرتے ہیں۔ او -ڈیسک (Odesk)ویب سائیٹ، جو اب اپ ورک (Upwork)نے نام سے کام کررہی ہے، نے پاکستانی پروگرامرز میں فری لانسنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیش نظر پاکستان کو سب سے زیادہ کمانے والے ممالک میں دس سے پچیس تک کے درجے میں رکھا ہے۔ اس صنعت کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستانی فری لانس پروگرامر سوفٹ وئیرز کی برآمد کے ذریعے 850 ملین ڈالر سالانہ کما رہے ہیں۔ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو یہ رقم اگلے چند ماہ میں ایک ارب تک پہنچ سکتی ہے۔

ویب نے ملازمتوں کی تلاش کے روائتی انداز کو چھوڑ کر نئے ذرائع پیدا کر دیئےہیں۔ جہاں پر لوگ روائتی طریقوں سے ہٹ کر مرضی کا کام تلاش کرسکتے ہیں۔ ویب پر کام کرنے کے بےشمار مواقع دستیاب ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ آرٹیکل میں بینا شاہ لکھتی ہیں کہ پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں فری لانس پروگرامرز آگے بڑھنے کیلئے اپنا راستہ خود بنا رہے ہیں۔پاکستان میں اب ایک تخمینے کے مطابق 15000آئی ٹی کی کمپنیاں ہیں ،جبکہ دس ہزار کے قریب آئی ٹی گریجویٹ ہر سال مارکیٹ میں شامل ہو رہے ہیں۔ او-ڈیسک ویب سائیٹ دنیا کی بہت بڑی مارکیٹ ہے جہاں پر خریدار اپنے پراجیکٹ سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں ، وہ پوری دنیا کے فری لانسرز سے اپنا کام کروا سکتے ہیں۔ گاہک اور فری لانسرز ہر پراجیکٹ پر بولی لگاتے ہیں اس طرح وہ دنیا میں کہیں سے بھی اپنے مطلوبہ کام کیلئےشخص تلاش کرسکتے ہیں۔ خرم صدیقی ایکسپریس ٹریبیون میں اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ او-ڈیسک نے جولائی 2013ء میں پاکستان کو فری لانسنگ کام کرنے والے ممالک میں پانچواں ملک قرار دیا جبکہ 2012ء میں پاکستان کے پروگرامرز نے او-ڈیسک کے 35ملین گھنٹوں میں سے 2.6ملین گھنٹے کام کیا۔

2015ء میں پائینرفری لانسر سروے کے مطابق پاکستانی ہفتے کے پانچ دنوں میں34گھنٹے کام کرتے ہیں جبکہ دنیا میں اوسطاً 36گھنٹے یعنی 7.2گھنٹے یومیہ کام ہوتاہے۔ ان میں سے کچھ فری لانسرز جز وقتی جبکہ کچھ کُل وقتی کام کرتے ہیں ۔کینیا کے فری لانسرز ہفتے میں سب سے زیادہ 42.6گھنٹے کام کرتے ہیں دوسرے نمبر پر مصری ہیں جو 38.5 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ جبکہ تیونس اور مراکش میں آن لائن سب سے کم وقت دیا جاتاہے اس کی شاید وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے پروفیشنلز پہلے ہی کمپنیوں میں کام کررہے ہوتےہیں۔

فری لانسنگ میں کچھ کام سب سے زیادہ ادائیگیاں کررہے ہیں مثلاً قانونی خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز کو 31ڈالر فی گھنٹہ مل رہے ہیں جبکہ سیلز اینڈ مارکیٹنگ والوں کو 21ڈالر فی گھنٹہ ملتے ہیںاسی طرح آرٹیکل لکھنےیا ترجمہ کرنے کے 17ڈالر فی گھنٹہ مل رہے ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت زیادہ ترآئی ٹی اور پروگرامنگ فری لانسنگ ویب سائیٹس پر بولی دیتے ہیںجبکہپروگرامرز زیادہ تر موبائل، ویب، ڈیٹا بیس، گیم پروگرامنگ، ڈویلپر، سوال و جواب ٹیسٹنگ میں عموماً 21 سے 23 ڈالر فی گھنٹہ کما رہے ہیں۔ جبکہ سوشل میڈیا مارکیٹنگ میں ایس ای او کو 20ڈالر فی گھنٹہ ادائیگی کی جارہی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین مردوں سے زیادہ آن لائن معاوضہ لے رہی ہیں۔

آخر فری لانسنگ ہی کیوں؟
عموماً نوجوان لوگ بہت سی وجوہات کی بنا پر اس میں دلچسپی لیتے ہیں۔ فری لانسنگ میں مالی فائدے کے ساتھ کام کرنے کیلئے اپنی مرضی کا وقت منتخب کرنے اور مناسب ماحول کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔اس میں متعلقہ کام ختم کرنے کیلئے کوئی آپ کے سر پر ڈنڈا لے کر نہیں کھڑا ہوتا ۔اپ ورک(Upwork)اور فائیور(Fiverr)انہیں مختلف مہارتوں پر کام فراہم کر رہے ہیں جن میں ویب سائیٹ بنانے، کمپیوٹر یا موبائل کی ایپلی کیشنز بنانے، انٹرنیٹ پر تجارتی سرگرمیاں،مختلف موضوعات کی تخلیق اور ورچوئل معاونت شامل ہیں۔ آن لائن کام کے مواقع تو بہت ہیں لیکن باہمی تعاون کی کمی ہے۔ لوگ ان مہارتوں پر کام کرتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں اور اس سلسلے میں ان پر کوئی بیرونی دبائو بھی نہیں ہوتا۔

فری لانسر اور اب پٹاری (Patari)میں نئی کمپنی کے شریک بانی ہمایوں ہارون کہتے ہیں کہ فری لانسرز صبح 9 سے شام 5 بجے تک کام کرنے کی بجائے فری لانسنگ کا کام کرنے کی بہت سی وجوہات رکھتے ہیںجن میں اچھا معاوضہ کام کرنے کیلئے اپنی مرضی کا شیڈول شامل ہیں۔ سب سے بڑی وجہ کو ٹیکنالوجی پر کام کرنے کا جوش و جذبہ ہے۔ فل ٹائم فری لانسر اور فاسٹ (FAST)یونیورسٹی کے گریجویٹ اقبال عظیم کہتے ہیں کہ فری لانسرز کے ذریعے صرف غریب ملکوں میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ یہ کام اس لئے بھی بڑھ رہا ہے کہ آپ اسے کہیں بھی بیٹھ کر کرسکتے ہو۔ پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں فری لانسرز کو کام اور معاوضہ حاصل کرنے پوری دنیا سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

اپنے ذہانت پر مبنی کام، تجربے، مہارتوں، اخلاقیات، ڈسپلن کی پابندی کی وجہ سے پاکستان کے پروگرامرز، ڈویلپرز، ڈیزائنرز اور کوڈرز کی دنیا بھر میں قدر کی جاتی ہے ۔ اپ ورک میں ٹاپ فری لانسر سعد حامد کہتے ہیں کہ 2015ء میں کمپیوٹر پر کیا جانے والا کوئی بھی کام آن لائن بھی کیا جاسکتاہے ۔ فری لانسنگ میں بہت سے کام ایسے ہیں جن میں دوسروں سے اچھا خاصا زیادہ معاوضہ دیا جاتاہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں ویب ڈیزائننگ پر سب سے زیادہ کام کیا جاتاہے۔ اس کے بعد گرافک ڈیزائن اور پھر رائٹنگ کا نمبر آتا ہے۔
او ڈیسک کے نائب صدر میٹ کُوپر (Matt Cooper)ایکسپریس ٹریبیون میں اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی فری لانسر کے بنائے گئے پراجیکٹس کا مقابلہ دنیا کے کسی بھی فری لانسنگ ملک کے بنائے گئے پراجیکٹس سے کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان فری لانسنگ میں پانچویں نمبر پر ہے کیونکہ پاکستان تسلسل کے ساتھ ویب ڈیزائن سے لے کر بلاگ اور آرٹ ورک تک کے معیاری پراجیکٹس وقت پردیتے ہیں۔

2014 ء میں او ڈیسک کی فہرست کے مطابق پاکستان سب سے زیادہ آن لائن کمانے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر رہا جبکہ امریکہ اور بھارت تو کئی سالوں سے پہلے اور دوسرے نمبر کی پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ جب سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے پیشہ ور صلاحیتوں کے حامل افراد فری لانسنگ کے نئے کیرئیر میں دلچسپی لے رہےہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے فری لانسنگ میں 2013ء کے مقابلے میں 2014ء میں30فیصد زیادہ کمایا۔
ان تمام دلکش وجوہات کے باوجود فری لانسنگ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگرچہ اس پر نگرانی کا کام کم ہوتاہے لیکن اس کیلئے ایمانداری اور شفافیت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ غلط فہمی بھی بری شدت سے موجود ہے کہ سنجیدہ پروفیشنلز فری لانسنگ چھوڑ رہے ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود پاکستان میں فری لانسنگ کو ٹھوس کام نہیں سمجھا ۔

فری لانسنگ بہترین مہارتوں، اخلاقیات اور ڈسپلن کا تقاضا کرتی ہے۔ بعض لوگوں کو یقین ہے کہ اس سے زیادہ پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ ٹیک ہب کونیکٹ (Tech Hub Connect)میں کام کرنے والے اور کل وقتی فری لانسر احمد رضا کہتے ہیں کہ فری لانسنگ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر آپ اپنی نئی کمپنی قائم کرسکتے ہیں اور اپنے کام سے اچھا خاصا معاوضہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک اچھے فری لانسر بننے کیلئے آپ کو پیشہ وارانہ سوچ کا حامل، منظم اور ایماندار ہونا ضروری ہے۔ فری لانسنگ کے ابتدائی کاموں میں شاید آپ کو چند ماہ لگیں، لیکن یقین کریں جب آپ رفتار پکڑ لیتے ہیں تو آپ کی محنت کا اچھا صلہ ملنا شروع ہونا شروع ہو جاتاہے۔ انہوں نے پاکستانی فری لانسرز کو درپیش چیلنجز مثلاً کام کرنے کی جگہ، پڑھے لکھے لوگوں کی اس سے بے خبری، انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد کی سپورٹ اور توقعات کا بھی ذکر کیا۔

فری لانسر حامد کہتے ہیں کہ فری لانسرز اپنی کمیونٹی بنا کر زیادہ بہتر انداز میں کام کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں فری لانسرز نے اپنے کام میں بہتری کیلئے باقاعدہ کمیونٹی بنا لی ہےجہاں پر انہیں معاونت اور مشاورت دستیاب ہے ۔ اس کے علاوہ فری لانسرز کی کمیونٹی ایک دوسرے سے آگاہ ہے اور ایک دوسرے کی بوقت ضرورت مدد کرتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود فری لانسرز تنہاجنگجو کہلاتے ہیں جو بند کمرے میں بیٹھ کر لڑتے رہتے ہیں۔ یقینی طور پر یہ رویہ بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں فری لانسرز کو آن لائن کام کے ساتھ ذاتی بزنس فروغ دینے کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔

نارتھ بے سلیوشن (North Bay Solution)کے سابق سوفٹ وئیر انجینئر اور اب کل وقتی فری لانسر محمد جنید بٹ کہتے ہیں کہ ہمیں فری لانسرز میں یہ سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں اپنا کاروبار بھی سیٹ کرنا ہے ان کے پاس اتنی قابلیت اور ذرائع ہیں کہ وہ اپنے آئیڈیاز پر عملدرآمد کرسکیں ۔ ہمیں ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس میں رہتے ہوئے افراد انفرادی طور پر اپنی نئی کمپنیاں بنائیں اور اسے بطور کیرئیر اپنا لیں۔ بہت سے لوگ جنہوں نے اپنا کیریئر فری لانسر کے طور پر کیا اب اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔ جنید بٹ کہتے ہیں کہ فری لانسر اپنی قابلیت اور مہارت اچھی شے مارکیٹ میں لانے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے ہیں۔ حال ہی میں میرے ایک ساتھی نے لاہور میں کافی رائونڈ ٹیبل سٹارٹ اپ (Coffee Round Table Startup)کے نام سےایک گروپ بنایا ہے ۔ جس کا مقصد نوجوانوں اور تجربہ کار لوگوں کو پاکستان میں کام کیلئے مناسب اور معاون ماحول فراہم کرنا ہے۔

پی یو سی آئی ٹی (PUCIT)سے گریجویٹ اور فری لانسر فہدعظیم کہتے ہیں کہ ہمیں سب سےپہلے لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ فری لانسنگ اور کاروبار کتنے اہم ہیں۔ یہ چیز ہمیں تعلیمی اداروں میں پڑھانے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں کو محض ملازمت کی سوچ رکھنے والے افراد بنانے کی بجائے کاروباری افراد پیدا کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ہمیں ایک ایسی مشترکہ جگہ بنانے کی ضرورت ہے جہاں پر مل بیٹھ کر فری لانسرز باہمی تعاون سے کام کرسکیں۔ اس سے ان لوگوں کو آگاہی اور مواقع حاصل ہوں گے جو گھر پر بیٹھے اکیلے کام کررہے ہیں۔ آئی ٹی کے بڑے اداروں کو فری لانسر کمیونٹی کی مدد کرنی چاہئے اور انہیں اپنا کچھ کام ان لوگوں کو بھی دینا چاہئے۔ جس کے نتیجے میں فری لانسرز کا ویب سائٹس پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ حکومت بھی اپنا الگ سے پورٹل بنا سکتی ہے جو فری لانس کمیونٹی اور صنعت میں پل کا کام دے سکتا ہے ۔ فہد اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں آئی ٹی انڈسٹری میں فری لانسر کے بارے میں سوچ بدلنے اور ان کی بہتر تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔اگر آپ فری لانسر بننا چاہتے ہیں تو آپ کو آئی ٹی انڈسٹری میں کچھ وقت صرف کرکے اپنی صلاحیتوں کو چمکانے کی ضرورت ہے تب آپ فری لانسنگ کا کام شروع کریں۔

ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان میں فری لانسرز کمیونٹی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہےاور وہ کاروباری نظام میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ فری لانسرز کو امید ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری میںمثبت تبدیلیاں آئیں گی ۔عالمی اور مقامی سطح پر ان کی خدمات کو سراہا جائے گا کیونکہ یہی وقت ہے جب ہمیں اکٹھے ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: حفصہ شورش (Hafsa Shorish)

Read in English

Authors
  • Junaid Sarwar JD

    Pakistan Zindabad <3
    I too am a freelancer

Top