Global Editions

ٹیکنالوجی کے باعث کاموں کی نوعیت میں تبدیلی

رائیلی میڈیا کی چیف ایگزیکیٹوآفیسر ٹم او رائیلی(Tim O' Reilly) نے حال ہی میں اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی نئی ملازمتیں تخلیق کررہی ہے اور کام کے معیار کو بڑھا رہی ہی۔ ان کے خیال میں ٹیکنالوجی بہت سی ملازمتوں کو ختم کر رہی ہے لیکن اس میں اتنی اہلیت بھی ہے کہ وہ نئی ملازمتیں بھی تخلیق کرسکی۔ان کا کہنا ہے کہ سینئر وکلاء کے آدھے مسائل ختم ہونے کو ہیںکیونکہ ایک ایسا سوفٹ وئیر مارکیٹ میں آرہا ہے جس سے منشیوں اور جونئیر وکلاء پر ان کا انحصار کم سے کم ہو جائے گا۔اس سوفٹ وئیر کے ذریعے سینئر وکلاء کی رہنمائی میں مقدمے کے قانونی کاغذات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ مقدمے کے وہی نکات سامنے آتے ہیں جو فریق ثانی کو دکھانا مطلوب ہوتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو عموماً جونئیر وکلاء، منشی حضرات یاکچھ معاوضہ لے کے دیگر وکلاء سرانجام دیتے تھی۔ اگرچہ اب بھی مشینیں منظم انداز میں طے شدہ کام کررہی ہیں مثلاً ایک جیسی دستاویزات تلاش کرنا، خلاصہ تیار کرنا شامل ہے ۔
امریکہ میں کچھ ملازمتیں اگلے سات سال میں بڑھنے کی توقع ہی۔

BR_graph

رسالہ اکانومسٹ کے مطابق قانونی دستاویزات تیار کرنے کا مرحلہ ابھی دور ہے کیونکہ اس میں انہیں ابھی مہارت کم ہے ۔ ان ہی دستاویزات کی بنیاد پر وکلاء نے مقدمے کے حق یا مخالفت میں دلائل دینے ہوتے ہیں۔ ایم آئی ٹی پروفیسر فرینک لیوی(Frank Levy) یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کی پروفیسر ڈانا ریمس(Dana Remus) کے ساتھ مل کرکمپیوٹرز کے قانون پر اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔

ٹم او لیوی نے بتایا کہ قانونی دستاویز میں ترتیب وتنظیم کم ہوتی ہیتاہم کسی ماہرانہ رائے کیلئے دلیل کیلئے اس میں ترتیب و تنظیم کی ضرورت ہوتی ہی۔ لیوی نے ہارورڈ کے پروفیسر رچرڈ مرنین(Richard Murnane) کی کتاب نیو ڈویژن آف لیبر (The New Devision of Labor) لکھنے میں معاونت کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کمپیوٹرز ملازمتوں میں تبدیلی لا رہے ہیں،کمپیوٹرز کی مدد سے آپ اپنے تخیل میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے انسان کے کئے گئے کام میں تخلیقی صلاحیتیں، لچک، سماجی مہارتیں اور کوئی نئی بات شامل کردی گئی ہوں۔

خودکار نظام پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں حالیہ تحقیق معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کن ملازمتوں کو ان کی تخلیقینوعیت، عام سماجی ذہانت اور ہنرمندی کے حوالے سے کمپیوٹر پر لایا جا سکتاہی۔ رقاص، ایلیمنٹری سکول ٹیچرز اور نفسیاتی سماجی کارکن شاید اس سے محفوظ ہیں۔ لیکن شائد الیکٹرانک اشیاء کی مارکیٹنگ کرنے والی، ٹیکس تیار کرنے والوں کے کام میں تبدیلی آ جائے گی۔ زیادہ تر پیشے ٹیلی مارکیٹنگ کی طرح تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ جن کاموں میں انسان مہارت رکھتے ہیں ان کی نوعیت بدل جائے گی کیونکہ کمپیوٹرز میں پہلے سے طے شدہ خودکار نظام انسانوںسے ان کاکام اپنے کنٹرول میں لے رہا ہی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نئے نظام میں نئی ملازمتیں کس طرح پیدا کی جائیں۔ فری لانسرز کیلئے ایک نئی لیبر مارکیٹ وجود میں آرہی ہے جیسے ائیر بی این بی ، اپ ورک، ٹاسک ریبٹ کمپنیاں فری لانسرز کو اضافی آمدنی کمانے کا ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ فری لانس کاموں کے حصول میں مشاورت فراہم کرنے والا سنگیت پال چودھری اسے ایک نظام کے تحت ہونے والا کام (Networked Work) قرار دیتاہی۔ اس دنیا میں اب کارکن اپنی ترقی کے خود ذمہ دار ہیں اور انہیں اپنی ملازمت کے دوران بہت سے خطرات درپیش ہوتے ہیں۔وہ اگرچہ اس پلیٹ فارم پر انحصار کرتے ہیں جو انہیں کام دلاتاہے لیکن وہ کام کرنے والوں کی تسلی کے مطابق کام کرکے اچھی شہرت بھی کما سکتاہی۔

حال ہی میں چین میں ابھرنے والی منظم کاروں کی مارکیٹ نے چین کے شہر تیانجن (Tianjin) میں بے چینی پیدا کردی ہی۔ جہاں ٹیکسی ڈرائیور امریکی کمپنی اُبرUber) کی آمد پر اپنی آمدنی بچانے کیلئے جدوجہد رہے ہیں۔ اُبر کیلئے کام کرنے والے زیادہ تر لوگ جزوقتی ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں کچھ اضافی آمدن بھی ہو جائی۔ چین میں اُبر کی گاڑیوں پر روزانہ دس لاکھ کے قریب لوگ سفر کرتے ہیں۔ اُبر کمپنی چین کے مزید 100 شہروں میں کاروبار پھیلانے کیلئے ایک ارب دس کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہی۔ کارو ں کو ڈرائیو کرنے کا کام ابھی گیا نہیں بلکہ جو کچھ تبدیل ہو رہا ہے وہ تکلیف دہ نہیں ہی۔

تحریر: نانٹے بائرنز

Authors
Top