Global Editions

ٹیکنالوجی نے سیاست میں نئی روح پھونک دی

میں 1979ء میں سان جوز سٹیٹ یونیورسٹی میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا تھا۔ عموماً اپنا وقت لیزر لیب میں ہالوگرام بنانے یا کمپیوٹرلیب میں آئی بی ایم کا پنچنگ کارڈ یا فورٹران چلاکر گزارتا۔ اپنی کلاسز اور اختتام ہفتہ کے دوران مینے رضاکارانہ طو پر مقامی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کردی اور اپنا مضمون سیاسیات سے بدلنے کا سوچنا شروع کردیا۔ میری عمر 23سال تھی اور سوچ رہا تھا کہ آئندہ زندگی کو کس انداز میںبسر کرنا ہے۔ لوگوں کی زندگی کو ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے یا سیاست؟

ٹیکنالوجی اگرچہ روح سے عاری ہے لیکن مستقبل کیلئے انسانوں سے بہت سے وعدے کرتی ہے۔جب میں نے رضاکارانہ طور پر کام کیا اس وقت دل اور روح کی اہمیت محسوس کی۔میں نے 1979ء کے اواخر میں صدارتی امیدوار ٹیڈ کنیڈی (Ted Kennedy)کی انتخابی مہم میں فیلڈ آرگنائزر کے طورپر کام کرنا شروع کردیا۔ آئیووا ریاست میں کنیڈی کی ٹیم انتخابات کیلئے دستیاب ٹیکنالوجی سے زیادہ بہتر وسائل استعمال کررہی تھی۔ اس کیلئے 5/3انچ کا انڈیکس کارڈ استعمال کیا جارہا تھا جس کے ذریعے ڈیموکریٹس اور آزاد امیدواروں سے پوچھا جاتا کہ وہ آئیووا کاکس میں کسے ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک انڈیکس کارڈ پر ووٹر کا نام، پتہ، فون نمبراور سوال کے جواب کا کوڈ نمبر درج ہوتا تھا۔

انڈیکس کارڈ میں 1کا مطلب تھا کہ ووٹر کنیڈی کو ووٹ دے گا.
2کا مطلب تھا کہ ووٹر کا جھکائو کنیڈی کی طرف ہے۔
3کا مطلب تھا کہ ووٹر نے ابھی فیصلہ نہیں کیا

جبکہ سب سے زیادہ خطرہ 4میں تھا جس کا مطلب تھا کہ ووٹر کنیڈی کے مخالف صدر امریکہ جمی کارٹر کو ووٹ دے گا۔
جب میری طرح کے دیگر منتظمین آئیووا پہنچے تو انڈیکس کارڈز کے باکس تھما کر بتایاگیا کہ کس نے کون سی کائونٹی میں کام کرنا ہے۔ اس نقطہ نظر سے آپ جو سوچ سکتے تھے اس پر کام کرسکتے تھے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ 3نمبر پر موجود امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے قائل کرلیں گے تو اس کیلئے آپ کو دلائل دینا ہوں گے۔ اوباما کی 2012ء کی مہم تک سیاست میں کچھ نہیں بدلا۔ وہی5/3 کے کارڈ پر کمپیوٹر کے ذریعے پرنٹ نکل آتا تھا۔ سیاسی نظام کا بنیادی کوڈنگ سسٹم وہی رہا۔ جب میں نے سیاسی میدان میں شرکت کی تو اس وقت سیاست پر برا وقت چل رہا تھا ۔ سیاسی مہم میں سرمایہ کاری، فیلڈ کی تنظیم اور ووٹر سے رابطے بہت کم تھے۔ ٹیلی ویژن پر اشتہارات کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ حتیٰ کہ 1980ء کی صدارتی مہم میں ووٹرز سے بات چیت کرنے کے وسائل بھی چھین لئے گئے تھے ۔جس کے نتیجے میں سیاست کی اصل روح نکلتی جارہی تھی۔ سیاست کی اصل روح ووٹرز کی عام انتخابات میں گرمجوش شرکت تھی۔

میں 1982ء میںلاس اینجلس کے مئیر ٹام براڈلے (Tom Bradley)کی گورنری کیلئے انتخابی مہم میں نائب منیجر تھا۔ میں نے مہم کے منتظمین کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ انتخابی مہم کیلئے ڈیجیٹل ایکوئپمنٹ کارپوریشن سے پی ڈی پی سیریز کا کمپیوٹر خریدا جائے تاکہ ہم ووٹر کے شناختی ڈیٹا پر براہ راست فنڈ ریزنگ کی اپیل بھیج سکیں اور ووٹ ڈالنے کیلئے انہیں قائل کرسکیں۔ اس سے پہلے کسی نے بھی سیاسی مہم کیلئے کمپیوٹر کا استعمال نہیں کیا تھا اور میرے ساتھیوں میں سے کوئی بھی اس آئیڈیا پر سرمایہ کاری کرنے پر راضی نہیں ہوا۔ بالآخر میںنے بچتیں اکٹھی کیںاور ایک کمپیوٹر انسٹال کروالیا۔ جس کی مدد سے ہم نے انتخابی مہم کے دوران براہ راست میل سے لاکھوں ڈالرز فنڈز اکٹھے کئے۔ اس میں ہم نے کیلفورنیا ووٹرز کا بہت بڑا ڈیٹا بیس قائم کرلیا جس سے ہمیں اپنے فیلڈ آپریشنز میں مدد ملی۔

اب ہمارے پاس ووٹرز کا ڈیٹا تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ کون سا ووٹر ہمارے حق میں ہے اور کون سا تذبذب کا شکار ہے جسے ہم تھوڑی سی کوشش سے قائل کرسکتے ہیں اور ہمارے پاس انتخابی مہم میں گیٹ آئوٹ ووٹ آرگنائزیشن (Get-the-vote-organization)کیلئے 2ملین ڈالر کا بجٹ بھی تھا۔ الیکشن سے دو ہفتے قبل پتہ چلا کہ ہم اپنے مخالف ری پبلکن امیدوار جارج ڈیوک مجیان (George Deukmejian)سے پیچھے رہ گئے ہیں اور جب تک ٹیلی ویژن پر اشتہاری مہم میں مزید 2ملین ڈالر خرچ نہیں کرتے تو ہم الیکشن ہار جائیں گے۔ الیکشن کی رات ہمارے پاس ڈی ای سی اور پی ڈی پی سمیت کیلفورنیا سیکرٹری آف سٹیٹ آفس کا بھی ڈیٹا تھا۔ تینوں ریاستی چینل ہمارے امیدوار پری پول میں ہمارے امیدوار براڈلے کی جیت کا اعلان کررہے تھے لیکن کمپیوٹر اس بارے میں خاموش تھا۔ پو لنگ کے ختم ہونے کے کچھ ہی منٹ بعد کمپیوٹر نے ہمیں بتایا کہ ہم قریباً ایک لاکھ ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ جب ایک ماہ بعد پولنگ کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو ہم 93000ووٹوں سے ہار گئے تھے۔

اگلے 30سالوں میں دونوں پارٹیوں نے کچھ اسی طرح کے فیصلے کئے۔ ہر بار ٹیلی ویژن جیت گیا۔ ٹیلی ویژن پر چلائے گئے اشتہارات نے کسی بڑی مشکل کے بغیر دلوں اور روحوں کو جیت لیا۔ اس دوران جب سیاست پر جمود طاری تھا ٹیکنالوجی نے لوگوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنی کہانیاں اور آئیڈیاز شیئرکریں اور اپنی زندگی بہتر بنانے کیلئے چیزیں خریدیں اور بیچیں۔

2004ء میں ورمونٹ کے سابق گورنر ہاورڈ ڈین (Howard Dean)نے مکین کے 2000 سابقسٹاف کو بھرتی کیا۔ اس میں دونوں جماعتوں کے سرگرم کارکن بھی شامل تھے جو لوگوں کو منظم کرکے بااختیار بنانے کیلئے سیاسی مہم کو غیر روائتی طریقے سے چلانا چاہتے تھے۔ انہیں امید تھی کہ وہ لوگوں کو محض ٹی وی دیکھنے کی بجائے سیاست میں سرگرم حصہ لینے پر آمادہ کرلیں گے۔ میں بھی اس مہم میں شامل تھا کیونکہ میں اس مہم کا منیجر تھا۔ ڈین کی مہم ایک بہت اہم کوشش تھی لیکن یہ سب کچھ قبل از وقت کیا گیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ 2003ء میں امریکہ میں انٹرنیٹ کے صرف 55ملین صارفین تھے اور براڈ بینڈ بہت نایاب تھا۔ اس وقت یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی کوئی خدمات میسر نہیں تھیں۔ اندازہ یہ تھا کہ پہلا سمارٹ فون آئی فون 2007ء سے پہلے مارکیٹ میں نہیں آئے گا۔ ڈین کی انتخابی مہم صدر بل کلنٹن کے فنڈ جمع کرنے کے ریکارڈ کو بھی توڑ دے گی۔اور 650000لوگوں پر مشتمل ملک گیر تنظیم بنائی جائے گی جو اس سے پہلے کسی بھی صدارتی مہم میں شامل ہونے والے لوگوں سے زیادہ تعداد تھی۔

2007ء میں امریکیوں نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔ اگرچہ ٹی وی اشتہارات پر پہلے سے کہیں زیادہ خرچ کیا جائے گا لیکن یہ اوباما کی انتخابی مہم میں کچھ زیادہ حصہ نہیں ڈال سکیں گی۔ ہیلری کلنٹن ڈیموکریٹک نامزدگی کھو بیٹھی تھیںکیونکہ وہ اپنی انتخابی مہم کو پرانے انداز میں چلا رہی تھیں۔ لیکن 2008ء میں اوباما کی کامیابی قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں انہوں نے اپنی انتخابی مہم کیلئے آن لائن 50کروڑ ڈالر کےفنڈز جمع کئےاور 13ملین لوگوں نے ان کی دستخطوں کی مہم میں حصہ لیا۔ ان کی 2008ء میں چلائی گئی انتخابی مہم نے 2012ء کیلئے راہ ہموار کی۔

جیسا کہ ساشا آئسن برگ نے اپنے مضمون اے مور پرفیکٹ یونین (A More Perfect Union)میں بتایا کہ بگ ڈیٹا نے اوباما کو ان تمام 69ملین لوگوں کی فہرست فراہم کردی جنہوں نے 2008ء میں ووٹ ڈالے تھے اور اوباما کو جیتنے کا موقع فراہم کیا۔ بگ ڈیٹا نے مہم کے منتظمین کو بتایا کہ کون سا ووٹر تذبذب کا شکار ہے اور کون سے ری پبلکن ووٹرز کو بھی ڈیموکریٹ کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس مہم میں لوگوں کا سیاسی تاریخ میں سب سے بڑا نیٹ ورک بنانے کیلئے100ملین ڈالر خرچ کئے گئے۔ لاکھوں امریکیوں نے دیگر شہریوں سے اپنے مسائل سے متعلق سنا۔ یہ بات چیت اربوں ڈالر ٹی وی کے اشتہارات پر صرف کرنے سے کہیں زیادہ طاقتور تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اوباما نے 2012ء کی انتخابی مہم کے دوران سب کچھ بدل دیا تھا۔

اوباما کے مقابلے میں مٹ رومنی (Mitt Romney)نے وہی غلطی کی جو 2008ء میں ہیلری کلنٹن نے کی تھی۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم ٹیلی ویژن اشتہارات اور مباحث پر چلائی۔ ایک سیاسی حکمت عملی کے ماہر کے طورپر میں حیران تھا کیونکہ میرا خیال نہیں تھا کہ کوئی دوبارہ ایسی ہی مہم چلائے گا۔ لیکن ری بپلکن پارٹی نے نئی انتخابی ضرورتوں کو سمجھا ہی نہیں تھا۔ رومنی کے ایک مایوس سٹاف رکن نے بتایا کہ ہم تو اس ریس میں دوڑ ہی نہیں رہے تھے۔ بہت سی وجوہات کی بنا پر ری پبلکن پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ ری پبلکن پارٹی نیشنل نیٹ ورک بنانے میں ابھی بہت پیچھے تھی۔ دوسرے ری پبلکن پارٹی آبادی کے ایک بہت بڑے عنصر یعنی نوجوانوں میں اپنے لئے گرمجوشی پیدا نہیں کرسکی۔ اور آخری وجہ یہ ہے کہ ری بپلکن پارٹی کا امیدوار وں کو متعد وجوہات کی بنا پر چھوٹے پیمانے کی انتخابی مہمات میں حصہ لینے سے منع کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ٹی پارٹی تحریک نے ڈیموکریٹس کی طرح ری پبلکنز کو بھی ناپسند کرنا شروع کردیا۔ لیکن 2012ء کے انتخابات کی حقیقت یہ ہے کہ پرانے طریقوں کے ماننے والے مشیروں، سیاسی کارکنوں حتیٰ کہ ری پبلکن پارٹی کو بری طرح شکست ہوئی تھی۔ کیا وہ طریقہ کار جس سے الیکشن جیتا گیا حکومت کرنے کیلئے بھی استعمال ہو گا۔ اوباما نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران اوباما کی انتظامیہ نے سارے سسٹم کو امریکہ کو منظم کرنے کیلئے موثر انداز میں استعمال نہیں کیا۔ ڈیموکریٹک سیاست میں یہ تمام تبدیلیاں قابل قدر تھیں لیکن تمام کے نتائج اچھے نہیں تھے۔ نئی ٹیکنالوجی لوگوں کو متاثر کرسکتی تھی یا خودمختار بنا سکتی تھی یا پھر دونوں کام کرسکتی تھی۔ بہت سے سیاسی کردار اپنی آئندہ سیاسی مہم میں اوباما کی اختراعات سے فائدہ اٹھائیںگے۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کو صرف خودمختار نہیں کیا بلکہ سیاست میں نئی روح پھونک دی ہے۔

تحریر:رک فرائیڈ مین (Rick Friedman)

Read in English

Authors
Top