Global Editions

ٹیکنالوجی میں ترقی اور پیچھے رہ جانیوالے قوانین

ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تیزرفتار ترقی کے مقابلے میں قانون سازی کا عمل نہایت سست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون سازی ہوتے ہوتے ٹیکنالوجی اگلی جہت تک پہنچ جاتی ہے۔اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے قانون قرض دینے والوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ نسل یا جنس کی بنیاد پر کسی امتیاز سے گریز کرے۔ اس کے باوجود قرض دینے والے ان افراد کو قرض دینے سے صرف اس بنیاد پر انکار کر سکتے ہیں کہ ان کے فیس بک فرینڈز کی ادائیگیوں کا ریکارڈ اچھا نہیں یا انکا لنکڈان پروفائل ان کے فیس بک سے مطابقت نہیں رکھتا یا ان کا کمپیوٹر الگورتھم بتاتا ہے کہ وہ سماجی طور پر ناپسندیدہ ہیں۔ اس طرح کے قانونی سقم موجود رہتے ہیں کیونکہ قانون ٹیکنالوجی کو زیادہ ملحوظ خاطر نہیں رکھتا اور اس طرح قانون اور ٹیکنالوجی میں خلیج وسیع ہوتی رہتی ہے۔ دور حاضر میں ٹیکنالوجی اب ہر فرد کی ضرورت بن چکی ہے اب ٹیکنالوجی ہر جگہ اور ہر شخص کے زیر استعمال ہےلہذا اب تبدیلیوں کے لئے صدیاں درکار نہیں بلکہ اب تو یہ عمل دہائیوں نہیں بلکہ سالوں سے بھی پہلے ہو جاتا ہے۔ یہ زیادہ پہلے کی بات نہیں کہن جب فیس بک کو صرف ڈیٹنگ سائٹ کے طور دیکھا جاتا تھا، موبائل فون صرف امیر کبیر افراد ہی استعمال کر سکتے تھے، ڈرونز ملین ڈالر کی جنگی مشین تھی اور سُپر کمپیوٹر صرف حکومتی سطح پر تحقیقی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ تاہم اب ڈرونز کا استعمال ہابیؑ بن چکا ہے، انڈیا کے دوردراز گائوں میں رہنے والا بھی فیس بک استعمال کر رہا ہے، اب عام شہری بھی سمارٹ فونز کے استعمال کنندہ ہیں، اور سُپر کمپیوٹر عام کمپنیاں استعمال کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ 1985 میں سُپر کمپیوٹر کی قیمت 17.5 ملین ڈالر تھی اور اس کا وزن 2500 کلو گرام ہوتا تھا۔ ہم اس امر کا جائزہ نہیں لے رہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال مثال کے طور پر فیس بک استعمال کرنے کے کیا اخلاقی پہلو ہیں یا اس استعمال میں کس حد تک اخلاقیات کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ہم پرائیویسی کے معاملے کو زیر بحث لا رہے ہیں۔ آج کل نیشنل سیکورٹی کے معاملے پر عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ گوگل، فیس بک، ایپل اور دیگر اپیلیکیشنز کی نگرانی تو پہلے سے ہی جاری ہے۔ ہمارا سمارٹ فونز ہماری حرکات کو مانیٹر کرتا ہے، ہماری انٹرنیٹ پر گوگل یا دیگر سرچ انجز کے ذریعے ہونے والی برائوزنگ ہماری سوچ کی عکاس ہے، ایسے میں ہم کیسے یہ خط کھینچ سکتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانیوالی نگرانی قانونی یا اخلاقی جواز رکھتی ہے؟ جنیاتی معلومات، عدم مساوات کا قانون مجریہ 2008 ہیلتھ انشورنس اور ملازمت کے لئے جنیاتی معلومات استعمال نہ کرنے کا پابند کرتا ہے تاہم یہ قانون طویل المدتی دیکھ بھال، معذوری اور لائف انشورنس کے لئے امتیاز برتنے پر کوئی پابندی نافذ نہیں کرتا۔ اسی طرح قانون کمپنیوں پر جنیومک ڈیٹا کے استعمال پر کوئی قدغن نہیں لگاتا یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے قرض دینے والے ادارے سوشل میڈیا ڈیٹا کی مدد سے قرض دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں۔ ایک معاشرے کے طور پر ہمیں یہ دھیان میں رکھنا چاہیے کہ طاقتور ایجادات اب تیزرفتاری سے کی جا رہی ہیں اور ایسی ایجادات قانون یا اخلاقی فریم ورک سے باہر ہی ہوتی ہیں کیونکہ ان کے لئے قانون موجود ہی نہیںؓ ہوتا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ازسرنو غور، اپنی اقدار اور ثقافت کو وقت کے ساتھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی وقت کی رفتار سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایسا قانونی نظام وضع کیا جائے جو اس رفتار سے مطابقت رکھتا ہو اور دور جدید میں ہونے والی تیز رفتار ترقی (چاہے وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ہو یا سماجی یا معاشی شعبوں میں) سے ہم آہنگ ہو سکے۔

تحریر: وویوک وادھوا (Vivek Wadhwa)

Read in English

Authors

*

Top