Global Editions

ٹرانسمیشن لائنز کی عدم دستیابی: ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صنعت مشکلات سے دوچار

ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی صنعت کے لئے اگرچہ سال 2015 متاثر کن نہیں رہا تاہم امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں یہ صنعت بہت مستحکم ہو سکے گی۔ امریکی محکمہ توانائی نے قومی ونڈ پاور پلان کا اعلان کرتے ہوئے ہوا سے بجلی کی پیداوار کا سال 2030 تک کا ہدف مجموعی پیداوار کا بیس فیصد تک مقرر کیا ہے۔ اس وقت امریکہ میں ہوا سے بجلی کی پیداوار پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ حکومت کی جانب سے پیداواری ہدف کا تعین اپنی جگہ لیکن یہ صنعت اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے ان کے حل کے لئے بھی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صنعت کو درپیش سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ونڈ ٹربائنز یومنگ، کنساس، اوکلوہاما اور لوا میں نصب ہیں اور چونکہ ہوا سے بجلی بنانے کے لئے ان ٹربائنز کو ان جگہوں پر نصب کرنا ضروری ہے جہاں تیز ہوائیں چلتی ہوں یا وہ ساحلی علاقے ہوں اور اس کے لئے ان علاقوں سے بڑے شہروں کے گرڈ سٹیشنز تک ٹرانسمیشن لائنز ہی دستیاب نہیں ہیں۔ اسی حوالے سے اوکلوہاما میں ہوا سے بجلی بنانے والے ادارے کلین لائن انرجی پارٹنر کے چیف ایگزیکٹو مائیکل سکیلی کا کہنا ہے کہ اوکلوہاما میں نئے ونڈ فارم بنائے ہی نہیں جا سکتے کیونکہ ان فارمز سے حاصل ہونے والی بجلی کو یہاں سے ہم کہاں اور کیسے لے جائیں گے؟ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کلین انرجی کمپنی ان اداروں میں سے ایک ہے جو کثیر سرمائے کی لاگت سے طویل فاصلے تک کے لئے ترسیلی لائنز بچھا رہی ہیں تاکہ ہائی وولٹیج ان تاروں سے گزر کر گرڈ سٹیشنز تک جا سکیں اس طرح یہ ادارے ملک کی بہتری کے لئے ایک بہت بڑا الیکٹرسٹی انفراسٹرکچر تیار کر رہے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بھی کئی ریاستوں کی جانب سےقوانین رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس ضمن میں امریکن ونڈ انرجی ایسوسی ایشن کے سینئیر ڈائریکٹر مشعل گوگن کا کہنا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ قومی مفاد کے منصوبوں میں کس طرح رخنہ اندازی کی جا رہی ہے اور اور ہم اس عمل کو ہائی جیک نہیں ہونے دینگے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors

*

Top