Global Editions

وی چیٹ ایپلی کیشن چینی سکولوں کا تعلیمی ماحول بدلنے کا سبب بن گئی

چینی معاشرے کے ہر شعبے خصوصاً تعلیم کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بتدریج انقلاب برپا ہورہا ہے ۔ کہیں مُوکس کے ذریعے تعلیم کو فروغ دیا جارہا ہے تو کہیں وی چیٹ (WeChat)کے ذریعے اساتذہ والدین اور طلباءمیں رابطہ اور ابلاغ استوار کیا جارہا ہے۔ زندہ قوموں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ خود کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق نئے ماحول اور تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے ڈھالتی ہیں۔ پاکستان کے سکولوں میں بھی وی چیٹ کی چھوٹی سی ایپلی کیشن متعارف کروا کےطلباء کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

جب سے ٹینسینٹ (Tencent)نے 2011ء میں وی چیٹ (WeChat)کی موبائل ایپلی کیشن متعارف کروائی ہے، اس نے چین کی سماجی زندگی میں غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر کے آخر تک اس کے ماہانہ 650ملین متحرک صارفین تھے۔ ایسے معاشرے میں تعلیمی کامیابی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے وی چیٹ WeChat کی ایپلی کیشن تیزی سے تعلیم کے ساتھ منسلک ہو چکی ہے اور مخصوص چینی کلچر کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ جنوب مغربی چین کے ایک وسیع و عریض شہرچونگ کنگ (Chongqing)کی آبادی 30ملین ہے۔ جہاں پر والدین اور طلباء سے ابلاغ کیلئے تمام کنڈرگارٹن ، پرائمری اور مڈل سکولوں میں وی چیٹ کو سرکاری طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ژیہائو (Zehao)کیلئے وی چیٹ ایپلی کیشن اضافی ہوم ورک کیلئے ایک فورم اور سکول میں طلباء کے غلط روئیے یا بدتمیزی کیلئے ایک بل بورڈ کی طرح ہے۔ اس میں گروپ بات چیت سے پوری کلاس پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ژیہائو کی ماں 43سالہ ژونگ یِنگ کا کہنا ہے کہ اساتذہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے والدین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے تھے۔

“ایک رات جب چین بھر میں اسکول کے بچے فائنل امتحانوں کی تیاری کر رہے تھےژیہائو کی ریاضی کی استاد نے رات 10 بجے کال کی اور والدین کو بتایا کہ ژیہائو کی جیومیٹری کی حل کردہ مشقوں میں غلطیاں ہیں جسے انہوں نے وی چیٹ پر پوسٹ کردیا ہےژیہائو اسے دیکھے اور درست کرے اور دوبارہ لکھ کر اسے وی چیٹ پر بھیج دے تاکہ وہ حل شدہ جیومیٹری کی مشقوں کو آدھی رات سے قبل چیک کرلے۔ اس کی ماں کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات کال کی پیغام کی آواز سے بچنے کیلئے فون کو سائلنٹ پر لگا دیتی ہے لیکن استاد کی اسے یاددہانی کا پیغام بھیجتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پیغام رسانی کی ایپلی کیشن چین کے تعلیمی نظام میں چوبیس گھنٹے کام کررہی ہے۔ اکیسویں صدی ایجوکیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر بِنگ کی (Bingqi)کہتی ہیں کہ یہ ایپلی کیشن طالب علموں کی نجی زندگی کو متاثر کرتی ہے اور ان کے کردار میں بہتری لاتی ہے۔ ژیہائو کو البتہ اس بارے میں شبہ ہے کہ یہ ایپلی کیشن تعلیم میں بہتری لا رہی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے نہ صرف فوری طور پر اسائنمنٹس جمع کرائی جاسکتی ہیں بلکہ انہیں مکمل کرکے کاپی بھی کیا جاسکتا ہے۔ ژیہاو کہتا ہے کہ یہ ایپلی کیشن اتنی مدد گار نہیں ہے۔ تاہم ٹینسینٹ کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

نوجوان طالب علموں کو وی چیٹ ایپلی کیشن کم متاثر کرتی ہے لیکن پھر بھی یہ ان کی زندگی میں مداخلت کا سبب بنتی ہے۔ چین شہر تیانجن (Tianjin)میں تیسری جماعت کا طالب علم گوئیبن (Guibin)جب ہفتہ کے آخری دن سکول سے گھر واپس آیا تو اگلے دن اسے چھٹی تھی لیکن اس کے ریاضی کے استاد نے وی چیٹ پر اس کے کلاس گروپ کو ریاضی کی مشق کرنے کی یاد دہانی کرائی جو انہوں نے ایک دن بعد جمع کرانی تھی۔ اس کی والدہ ژوہانگ یانفی (Zuahang Yanfei)بتاتی ہیں کہ جب گئیبن پہلی جماعت میں تھا تواس وقت بعض والدین کے پاس بہت پرانے فون تھے اور وہ ایپلی کیشن کے استعمال سے واقف نہیں تھےلیکن ان تمام نئے فونز خریدے اور اس کا استعمال سیکھا۔

تاہم چین میں ہر سکول کے کلاس رومز میں وی چیٹ کا استعمال اتنی شدت سے نہیں ہوتا۔ تانجن کے ایک سکول کی استاد ژان ژُو (Yan Xu)چینی زبان و ادب پڑھاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بعض سکول تو وی چیٹ پر محض بہترین ہوم ورک کا پیغام دیتے ہیں۔ اگر ہم اچھے طلباء کی تعریف کریں گے تو دوسرے طلباء کے والدین اپنے بچوں کو محنت کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

لیکن نوجوان زہنوں کو تربیت دینے کیلئے اس سے کچھ زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وی چیٹ صرف اساتذہ، والدین، طالب علموں کے درمیان بات چیت کا ایک تازہ ترین پلیٹ فارم ہے۔ مائکروسوفٹ میں سوشل میڈیا کی محقق ڈانا بائیڈ (Danah Boyd) کہتی ہیں کہ ٹیکنالوجی اردگرد کے ماحول کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرسکتی جب تک آپ پریشر ککر ثقافت کو نہیں بدلتے۔

تحریر: ییٹنگ سُن (Yiting Sun)

Read in English

Authors

*

Top