Global Editions

وکٹری کے نشان سےدہشت گردوں کی شناخت

دہشت گردی اس وقت ایک عالمگیر مسئلہ ہے اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی شناخت بھی ایک نہایت مشکل امر ہے کیونکہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث افراد اپنی شناخت چھپانے کے لئے منہ سر ڈھانپے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ دہشت گرد کسی بھی واردات کے بعد چہرہ چھپائے ہوئے وکٹری کے نشان بنا رہے ہوتے ہیں۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے سول اور فوجی ادارے دہشت گردوں کی شناخت کے لئے ان کی آواز کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس طریقے سے شناخت یقینناً آسان یا سادہ عمل نہیں لہذا دہشت گردوں کی شناخت کے لئے ایسے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے ان کی شناخت میں آسانی ہو۔ اس سمت میں اردن کے تحقیق کاروں ایک ایسا راستہ تلاش کرنے کا دعوٰی کیا ہے جس کی مدد سے دہشت گردوں کی جانب سے فتح یعنی وکٹری کے نشان سے ان کی شناخت کی جا سکے گی۔ اردن کی موتہ (Mu’tah) یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے احمد حسنات کی زیرسربراہی میں دہشت گردوں کی شناخت کے لئے اس طریقہ کار کو وضع کیا۔ یہ طریقہ کار مروجہ طریقوں سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے تحت وکٹری کا نشان بناتے وقت متعلقہ فرد کے انگلیوں کے سائز ، انگلیوں کے پھیلائو کے تحت بننے والا زاویہ اور اوپری پوروں کا بائیو میٹرک کے تحت ہونے والے انگلیوں کےکا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ہاتھوں کی جیومیٹری کو بائیومیٹرک انڈیکیٹر تصور کرنا کوئی اچھوتا خیال نہیں۔ کئی دست شناس ہاتھوں کی شباہت، انگلیوں کی بناوٹ کے ذریعے کسی فرد کی شناخت نہایت درست انداز میں کرتے رہے ہیں تاہم دہائیوں پہلے ہونے والے اس عمل میں ٹیکنالوجی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا تھا۔ حسنات اور اس کی ٹیم کی جانب سے وضع کئے جانیوالے طریقے میں ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔ تاہم ہاتھوں اور محض وکٹری کے نشان سے فرد کی شناخت ایک نسبتاً مشکل امر ہے۔ حسنات کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو ہاتھ کے ایک حصے کی مدد سے شناخت کرنا ایک مشکل امر ہے خاص کر کے اس شخص کو جسے ہماری معلومات کے مطابق کبھی زیرتفتیش نہ رکھا گیا ہو۔ حسنات اور ان کے ساتھیوں نے تجربات کا آغاز پچاس خواتین وحضرات پر مشتمل ایک گروپ سے کیا۔ اس گروپ سے وکٹری کے نشانات بنوائے گئے اور تصاویر حاصل کی گئیں، تجربات میں وکٹری کے نشانات کی تصاویر سیاہ یا اندھیرے پس منظر سے بھی حاصل کی گئیں۔ اس عمل کے دوران پانچ سو تصاویر پر مشتمل ڈیٹا بیس تیارکیا گیا۔ ان تصاویر کی مدد سےفرد کی شناخت وکٹری کا نشان بنانے والی انگلیوں کے اوپری پوروں اور ہتھیلی کے ذرا سے اوپر

(جہاں انگلیاں ہتھیلی سے ملتی ہیں) سے نشانات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تجربات کے آغاز میں پہلے آٹھ میگا پکسلز کا کیمرہ استعمال کیا گیا تاہم بعدازاں چھوٹے کیمروں کی مدد سے بھی غیر واضح اور مبہم تصاویر بھی حاصل کی گئیں پھر ان تصاویر اور متذکرہ بالا طریقہ کے تحت حاصل ہونے والے نشانات کی شناخت بائیومیٹرک نظام کے تحت انگلیوں کے نشانات پر مشتمل ڈیٹا بیس سے کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ V کے نشانات کی شناخت کے لئے مشینی آموزش کے لئے الگورتھم بھی الگ سے تیار کیا تھا تاکہ اس عمل کو زیادہ موثر بنایا جا سکے۔ حسنات اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ان تجربات کے نہایت حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں اور تجربات میں درست نتائج کی شرح نوے فیصد رہی ہے۔

Emerging Technology from the arXiv

Read in English

Authors

*

Top